بات اب سوا چار سال کی نہیں سوا چار ہفتوں کی ہوگی 26-6-2012

kal-ki-baat

راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم بنتے ہی جرا¿ت رندانہ کے ساتھ نعرہ قلندری بلند کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ گیلانی اور مجھ میں کوئی فرق نہیں اور سوئس حکام کو خط لکھنے پر اپنا موقف واضح کرچکا ہوں۔

انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تمام مسائل کا حل جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی میں ہے۔
جس جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات راجہ صاحب کررہے ہیں اس نے ملک کے مسائل جس انداز میں گزشتہ سوا چار سال کے عرصے میں حل کئے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہ درست ہے کہ جن خوش قسمت اہلِ اقتدار کے ہاتھوں میں مسائل حل کرنے کی ذمہ داری اور اختیار ہے ان کے گھروں میں حقیقی طور پر دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں مگر جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو اندھیرے ان کا استقبال کرتے ہیں اور باہر نکلتے ہیں تو آگ برساتا سورج ان پر اپنا قہر نازل کرتا ہے۔ اس صورتحال کی کافی زیادہ ذمہ داری راجہ صاحب پر بھی عائد ہوتی ہے کیوں کہ بجلی کو گھروں ' دفتروں اور کارخانوں سے بھگانے میں ان کا خاصا بڑا کمال ہے۔
پہلے ان کی رسائی صرف بجلی کے شعبے تک تھی ' اب پورا ملک ان کے اختیارات کی زد میں ہوگا۔ یہ کہہ کر انہوں نے لوگوں کو سخت الجھن میں ڈال دیا ہے کہ ان میں اور گیلانی میں کوئی فرق نہیں۔ کیا ا ن کے اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی اتنے ہی سیکنڈل منسوب ہوں گے جتنے سیکنڈل بھگتا کر گیلانی صاحب فارغ ہوئے ۔۔۔؟
اگر راجہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ وہ خط لکھنے کے معاملے میں گیلانی صاحب کے نقش ِقدم پر چلیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انہیں سوا چار سال نہیں ملیں گے ۔ گیلانی صاحب کے انجام تک پہنچنے میں انہیں شاید سوا چار ہفتے بھی نہ لگیں۔۔۔

Scroll To Top