قانون نافذ کرنے والے ادارے پھر نشانے پر

zaheer-babar-logo
پشاور کے علاقے حیات آباد میں زرغونی مسجد کے قریب خود کش حملے میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور سمیت دو افراد شہید جبکہ چھ زخمی ہوگے۔ یاد رہے کہ رواں ماہ میں اشرف نور پولیس کے تیرے بڑے آفیسر ہیں جنھیں شہید کیا گیا اس سے قبل پولیس کے دو اعلی افسران کوئٹہ میں شہید کیے جاچکے۔ پشاور کا حیات آباد گنجان آباد علاقے ہے جہاں کئی سرکاری دفاتر موجود ہیں۔ حکام کے مطابق اشرف نور پر خودکش حملے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ “
وطن عزیز میں دہشت گردی کے عفریت پر مکمل طور پر قابو نہ پایا جانا تشویشناک ہے۔حکام کو اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ شہری آبادی میں کالعدم جماعتوں کے افراد کیوں اور کیسے ٹھکانے بنا لیتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پولیس کو نشانہ بنانا چونکہ نسبتا آسان ہے لہذا ایک بار پھر بلوچستان اور خبیر پختوانخواہ کی پولیس نشا نے پر ہے۔بظاہر ملک دشمن عناصر کے لیے دیگر مشکل اہداف پر حملہ دشوار ہوتا جا رہا اس لیے آسان ہدف منتخب کیا جارہے، دوسری جانب نقطہ نظر یہ ہے کہ کوئی بھی ہدف آسان نہیں ہوتا بلکہ اس کو نشانہ بنانے کے لیے کالعدم گروہ طویل منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بظاہر حکومتی ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنے کمزور ردعمل پر پردہ ڈالنے کے لیے دہشت گردی کے کسی واقعہ کو 'آسان اہداف' قراردیتے ہیں۔ مثلا حال ہی میں کوئٹہ اور اب خبیر پختوانخواہ میں دہشت گردی کو بزدلانہ وار کہہ کر مسترد نہیںکیا جانا چاہے۔ لازم ہے کہ متعلقہ حکام اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مسقبل کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا مگر اس پر باجوہ مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ہمیں مان لینا گزرے ماہ وسال کی طرح دہشت گرد آج بھی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ شک نہیں کہ گزشتہ برسوں کی نسبت اب ان حملوں کی تعداد خاصی کم ہو چکی مگر سیکورٹی اداروں پر بدستور حملے جاری وساری ہیں۔
دنیا بھر میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں کسی نہ کسی سطح پر اضافہ ہوا ۔
یہ اس لحاظ سے تشویشناک ہے کہ بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کررہی ہیں۔ دوسری جانب تشویشناک صورت حال یہ ہے عصر حاضر میں داعش یا اس کے نظریات سے متاثر گروہ دہشت گردی میں نئی اختراعات لاتے ہوئے اپنے اہداف کے دائرے کو وسعت دے رہے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی آزمودہ حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے سیکیورٹی خلا سے بھی فائدہ
اٹھاتے ہیں۔
ہمارے ہاں حقیقت یہ ہے کہ سیکیورٹی ادارے اہم سرکاری عہدیداروں یا طاقتور اشرافیہ کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔ سمجھ لینا چاہے کہ دہشت گرد 'آسان' اور 'مشکل' ہر دو طرح کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے یکساں وقت صرف کرتے اور ملتی جلتی منصوبہ بندی بروئے کار لاتے ہیں۔گذشتہ سال ہونے والے ایک سروے کے مطابق تحریک طالبان، القاعدہ اور ان کے خیالات سے متاثرہ مسلح گروہ فرقہ وارانہ تنظمیں اور بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست دہشت گروہوں نے2011 سے 2016 کے درمیانی عرصہ میں 7311حملے کیے۔ ان کارروائیوں میں 9689 افراد ہلاک اور 18812 زخمی ہوئے جبکہ ایسی کاروائیوںمیں سکیورٹی اداروں سے وابستہ 2672 افراد جان سے گئے ۔یاد رہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں جان بحق ہونے والے 55 فیصد افراد عام شہری تھے۔ اس اعتبار سے دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا تناسب 38فیصد جبکہ سیکیورٹی فورسز میں یہ تناسب 12 فیصد رہا جبکہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں 50 فیصد ریکارڈ کی گئیں جبکہ شہید ہونے والے 40 فیصد اہلکاروں کا تعلق پولیس سے تھا۔ ایک خیال یہ ہے کہ دہشت گردوں بارے ریاست اور معاشرے کے اندازے درپیش معاملے کو کو پیچیدہ بنا رہے۔ مثلا جب دہشت گرد سرکاری موقف سے اختلاف کرنے والے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں تو لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ جاری جنگ کالعدم گروہوں کی جانب سے ا ایک اور محاذ پر بھی لڑی جا رہی جہاں دہشت گرد عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پیدا کر کے ملک کو کہیں زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس میں دوآراءنہیں کہ سکیورٹی اداروں کی کمزوریاں عملا دہشت گردوں کی قوت ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کو ہرگز یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ارباب اختیار کی جانب سے 'آسان اہداف' کی گردان کرنے سے انہیں عام وخاص کی حفاظت کی بنیادی زمہ داری سے نجات مل سکتی ہے۔
افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میں فعال دشمن کو حقیقی معنوں میں شکست دینے کے لیے کسی طور پر پولیس کو بہتر بنانے کی جانب توجہ مبذول نہیںکی جارہی۔ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد حکام کی جانب سے افسوس اور مذمت کے بیانات سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا جارہا۔
انتہاپسندی کے خلاف جاری جنگ میں بطور قوم ہمیںکامیابیاں ضرور ملیں مگر یہ کافی نہیں۔ اہل سیاست اوراہل مذہب کو قیام امن کے لیے آگے بڑھنا ہوگا، ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے جو ان کے اخلاص اور بصیرت کو منہ بولتا ثبوت کہلائیں۔ درپیش حالات کا جائزہ لیتے ہوئے تاحال یقین سے کہنا مشکل ہے کہ دہشت گردی کا کون سے واقعہ آخری ہے۔

Scroll To Top