پاک فوج ملکی سلامتی اور شریف فیملی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے

aaj-ki-bat-logo

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو کہنا پڑا ہے کہ اگرچہ آزادیءاظہار کا حق ہمارے آئین میں رچا بسا ہے، یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہی آئین ان اداروں کی تضحیک کرنے کی معانعت کرتا ہے جن کی کارکردگی پر ملکی سالمیت اور قومی آزادی کا انحصار ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اِ ن اداروں کی تضحیک کون کر رہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پوری قوم کو معلو م ہے۔ ان سے مزید پوچھا گیا کہ کیا یہ دو ادارے عدلیہ اور فوج ہیں ، توانہوں نے جواب دیا کہ ” بے شک“۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ” فوج قوم کی سا لمیت سلامتی اور بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور اس کے پاس وقت نہیں کہ ا س قسم کی فضول باتوں کا حصہ بنے ۔ لیکن یہ ملک سب کا ہے اور سب کو اس کی آزادی، اس کی سا لمیت ، اس کی سلامتی اور اس کی فلاح میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔“
یہ پہلا موقع تھا کہ عام طور پر غیر معمولی احتیاط برتنے والے جنرل آصف غفور نے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر ملک کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کیا۔ان کی گفتگو سے مطلب یہی نکلتا تھا کہ ملک میں تصادم کی اگر کوئی صورتحال ہے تو وہ یکطرفہ ہے۔ فوج کا تصادم صرف ملک وقوم کے دشمنوں سے ہے۔
بے شک جنرل موصوف یہی سمجھیں۔ لیکن میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی رائے میں ان کے خاندان کے اقتدار کے راستے میں حقیقی روڑا فوج ہی ہے۔ فوج ہی ہے جس نے ججوں میں شریف فیملی کو للکارنے کا حوصلہ پیدا کیا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور اور ان کے ادارے کو ایک بات نہیں بھولنی چاہئے کہ شریف فیملی کے سامنے چیلنج صرف اپنے اقتدار کو بچانے کا نہیں اپنی بے انداز دولت کو بچانے کابھی ہے۔
اگر کسی شخص کے پاس دس کھرب ہوں اور اسے دس کے دس کھرب ڈوبتے نظر آئیں تو کیا وہ نو کھرب خرچ کر کے ایک کھرب بچانے کی کوشش نہیں کرے گا۔؟
فی الحال تو شریف فیملی نے قومی خزانے کا منہ کھول رکھا ہے۔ بہت جلد اپنے خفیہ خزانوں کا منہ بھی کھولے گا۔

Scroll To Top