روہنگیا مسلمانوںکو واپس بھیجنے کا فیصلہ

zaheer-babar-logo

بنگلہ دیش کی جانب سے میانمار حکومت کے ساتھ ”معاہدے “کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانون کو وطن واپس بھیجنے کا اعلان انسانی حقوق کی وابستہ تنظیموں کے خدشات بڑھا گیا ۔ ادھر میانمار کے درالحکومت نپیدو میں کیے جانے والے معاہدہ کی تفصیلات جاری نہیںکی گئیں۔عالمی امداری اداروں کا خیال ہے کہ بنگہ دیش کی جانب سے روہنگیا کو میانمار واپس کرنے کا اقدم عجلت پسندی پر مبنی ہے جس کا بڑا ثبوت یہ کہ معاہدہ میں مسلمانوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے کوئی ضمانت فراہم نہیں دی گی۔ رواں سال اگست میں میانمار کی ریاست رخائن کے پرتشدد واقعات میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد نے بنگہ دیش ہجرت کی تھی۔ تازہ پیش رفت میں امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ میانمار کی اقلیتی آبادی روہنگیا کے خلاف فوجی کاروائی نسل کشی پر مشتمل ہے۔ “
دراصل ایسے شوائد موجود ہیں کہ روہنگیا کے افراد کو قتل کرنے ، خواتین اور لڑکیوں کی کی آبروریزی کرنے میں میانمار کی فوج ملوث ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی خبریں جو ہی عالمی میڈیا میں سامنے آئیں تو دنیا کے سب ہی باضمیر انسانوں نے کھل کر اس کی مذمت کی۔اہم بات یہ ہے کہ اس ضمن میں مسلمانوں سے کہیں بڑھ کر غیر مسلموں نے میانمار حکومت کے کرت بے نقاب کیے۔
اقبال نے درست کہا تھا کہ ”جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات “۔ عالمی سطح پر اہل توحید جن مسائل کا شکار ہیں اس کی ایک وجہ مسلم دنیا کے درمیان باہم اتفاق واتحاد کا نہ ہونا ہے۔ کراہ ارض پر اربوں مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود دنیا بھر میں جس کے مذہب کے ماننے والے مشکلات سے دوچار ہیں وہ یقینا مسلمان ہیں۔ عراق، شام ، افغانستان ، لیبیا، یمن ، فلسطین اور کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ عالمی تنازعات میں جو سالوں سے نہیں دہائیوں سے التواءکا شکار ہیں ان میں کمزور فریق مسلمان ہی ہے۔ افسوس مسلم دنیا کی اشرافیہ موج مستی میں اس انداز میں مگن ہے کہ وہ اس بات کا ادرک کرنے کوتیار ہی نہیں کہ ان کے ہم مذہب کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ درجنوںاسلامی ملکوں میںلاکھوں نہیں کروڈوں مسلمان ایسے ہیں جنھیں پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں۔ بنیادی ضرورت زندگی کا حصول غریب مسلمان ریاستوں میں آج بھی محض خواب ہے۔ لسانی ، سیاسی اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم مسلم سماج ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا متقاضی ہے۔ افسوس ہے کہ چالاک اور طاقتور مغربی مسلم دنیا کے وسائل سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہورہا۔ مختلف وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کا حکمران طبقہ یہ سمجھنے کو تیار نہیںکہ عالمی طاقتیں تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولہ کامیابی سے ان کے خلاف استعمال کررہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج عام مسلمان اور مسلم اشرافیہ کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا۔اہل اسلام کی اکثریت مظلوم اور بے بس کلمہ گو بھائیوں کی مدد کے لیے بیتاب رہتے ہیںمگر حکمران طبقہ ان جذبات سے تہی دامن ہے۔ آمرانہ حکومتوں کا ہی سبب ہے کہ بعض مسلمان ملکوںمیں انتہاپسندی کو فروغ حاصل ہوا۔نسل درنسل چلے آنے والے حکمران عام آدمی سے فاصلہ رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ ایک اور مشکل یہ ہے کہ مسلمان معاشروں کی اکثریت علم وحکمت سے دور ہے ۔ دین کہتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد وعورت پر فرض ہے مگر پیچاس سے زائد اسلامی ملکوں میں ایسی ایک بھی درسگاہ نہیں جو مغربی تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرسکے۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ خاندانی بادشاہت کی حامل مسلم ریاسیتں علم وآگہی سے خوف زدہ ہیں۔ ان پر بر قابض حضرات باخوبی جانتے ہیںکہ اگر انھوں نے اپنے عوام کاشعور بلند کرنے کی غلطی کی تو ان کے اپنے اقتدارکو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔
یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کب اور کسیے مسلم نشاتہ ثانیہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے ۔ بظاہر کہا جاسکتا ہے کہ جب تک مسلم دنیا میں خاندانی بادشاہت قائم ودائم ہے کہ ڈرامائی بہتری کا ظہور ممکن نہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ اگر مسلم دنیا میں اتفاق وٰیکجتی فروغ پائے تو ناممکن کو مکمن بنایا جاسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ علم وآگہی کے بغیر کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔
روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم وستم مسلمان حاکموں کی بے حسی کی تازہ مثال بھی کہی جاسکتی ہے۔ناقدین کے بعقول اگر فسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی داد رسی نہیںکی جاسکی تو روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کم ہونے کی امید نہ رکھی جائے۔ عالمی برداری یقینا میانمار حکومت کے انسانیت سوز کی مذمت کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھے ہوئے ہے مگر یہ کافی نہیں۔ اقوام متحدہ اور قیام امن کے زمہ دار دیگر اداروں کو اس سوال کا جواب دینا چاہے کہ کیا وجہ کہ مہذب دنیا غیر مسلموں کی مشکلات کم کرنے میں تو پیش پیش رہتی ہے مگر اہل اسلام کی داد رسی کے لیے تیار نہیں۔ دراصل غیر قوموں سے شکوہ کرنے کی بجائے لازم ہے کہ او آئی سی کو زمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔ مسلم حکمرانوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ اگر انھوں نے کسی ایک خطے میں مظالم کے شکار مسلمانوں کی امداد کرنے میں پیس وپیش سے کام لیں گے تو کل ان کی باری آنا ناممکنات سے میں نہیں۔ بظاہر درپیش صورت حال میں یقینا یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اور کیسے روہنگیا سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی داد رسی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

Scroll To Top