قرآن اور سنت کے خلاف نون لیگ کاووٹ

aaj-ki-bat-logo

اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ 21نومبر 2017کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملکی آئین کی پشت میں خنجر گھونپ دیا۔ لگتا یوں ہے کہ جب تک اس آئین کی جان نہیں نکلتی اس کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی رہیں گی۔
پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ کوئی بھی قانون ملک میں قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بنے گا۔ قرآن اور سنت دونوں کا ناقابل تبدّل اور ناقابل تردید تقاضہ یہ ہے کہ قیادت کا منصب ایسے شخص کو ملے جو لوگوں میں سب سے زیادہ صادق اور امین مانا گیا ہو۔ اس ضمن میں حضرت ابو بکر ؓ کا وہ خطبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”اگرچہ میں خود کو آپ میں سب سے بہتر اور سب سے مناسب نہیں سمجھتا، پھر بھی مجھے امیر بنایا گیا ہے۔ اگر میں اپنی ذمہ داریاں خوبی کے ساتھ نبھاﺅں تو میری ہمت افزائی کریں اور اگر میں بھٹک جاﺅں تو میری سرزنش کریں۔ لوگو۔ میری نظروں میں سب سے طاقتور وہ ہوگا جو کمزور ہے اور جسے میں نے اس کے چھنے ہوئے حقوق دلانے ہیں اور سب سے زیادہ کمزور وہ ہوگا جس نے حقوق چھینے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فرائض کی درست ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ “
21نومبر2017کو پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے اِس قانون کی توثیق کی کہ چور ڈاکو خائن اور بددیانت شخص بھی قیادت کا حق رکھتا ہے ۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ ہماری سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔
اگر کسی کو لعنت اور پھٹکار انسانی شکل میں دیکھنی مقصود تھی تو قومی اسمبلی کے ان 163افراد کے چہرے دیکھتا جنہوں نے قرآن اور سنت کے خلاف ووٹ دیا۔ مجھے اس روز زاہد حامد اور چودھری نثار علی کے درمیان کوئی بھی فرق نظر نہ آیا ۔ وہ98افراد جنہوں نے اس موقف کے حق میں ووٹ دیا کہ عدالت سے نااہل قرار پانے والا کوئی بھی شخص قیادت کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا۔۔ وہ سب لوگ میری نظروں میں خوش قسمت تھے کہ ان کے نام ضمیر اور ایمان بیچنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں ہوئے۔
نون لیگی سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کی جیت ہوئی ہے اور میاں نواز شریف کی قیادت کوقائم رکھنے میں کامیابی حاصل کر کے انہوں نے کوئی معرکہ انجام دیا ہے انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس قبیح نظام کی قبر کھو دی ہے جس کی وہ پیداوار ہیں ۔

Scroll To Top