شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے

zaheer-babar-logo

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں میجر اسحاق شہید ہوگے ۔یاد رہے کہ رواں ماہ کی تیرہ تاریخ کو پاک افغان بادڑر کے قریب باجوڈ ایجنسی میں چیک پوسٹ پرحملے کے نتیجے میں بھی دوفوجی جوان شہید اور چار زخمی ہوئے تھے۔“
وطن عزیز میں جو جنگ جاری ہے یقینا اس کی شدت میں کمی تو ہوئی مگر مسقبل قریب میں خاتمے کا امکان نہیں۔ کئی حوالوں سے یہ کہنا غلط نہیں کہ یہ لڑائی نظریاتی ہے جسے میدان جنگ میں شکست دینے کے علاوہ فکری محاذ پر بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ شبہ نہیں کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں کالعدم جماعتوں کے خلاف بدستور کاروائیاں جاری ہیں ۔ ضرب عضب اور اب ردالفساد سے قبل بھی قبائلی علاقوں اور سوات میں قیام امن کے لیے خاطر خواہ کوشش کی گی ،عام پاکستانیوں کے علاوہ ہر شبعہ زندگی ہائے سے تعلق رکھنے والے مادر وطن پر قربان ہوتے رہے۔تادم تحریر سینکڑوں نہیں ہزاروں قمیتی جانیں امر ہوگئیں۔
ملک وملت کے خلاف پرتشدد کاروائیاں کرنے والے گروہوں کی علاقائی اور عالمی سطح پر سرپرستی کی جارہی۔ ستم ظریفی یہ کہ ایک طرف پاکستان قربانیاں دے رہا تو دوسری جانب ڈومور کا مطالبہ بھی ہم ہی سے کیا جارہا۔ دشمن انتہائی چالاکی اور مہارت سے ہماری کامیابیوں کو ناکامیوں میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔ افسوس کہ ملک کی نمایاں سیاسی ومذہبی قوتیں اس وار کو ناکام بنانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ایک طرف ملک کو درپیش چیلنجر ہیں تو دوسری جانب انفرادی اور گروہی مفادات ایسی بالادستی حاصل کرچکے کہ کہیں اور طرف دیکھا ہی نہیں جارہا۔
اس سوال کا جواب اثبات میں نہیںکیا کہ بطور قوم ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان حالات جنگ میں ہے۔حزب اقتدار سے لے کر حزب اختلاف اور ملکی میڈیا سے لے اہل فکرونظر کہیں بھی اس مثالی یکسوئی کا مظاہرہ نہیں کررہے جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ، ہر باخبر پاکستانی جانتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر پورے طور پر عمل درآمد نہ ہوسکا، اسے سیاسی قیادت کی کوتاہ اندیشی قرار دیں یا نااہلی سچ یہی ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد قوم میں پیدا ہونے والی مثالی یکجہتی کا بھرپور فائدہ نہیںاٹھایا گیا۔
وطن عزیز میں متباد ل بیانیہ تشکیل دینے کا تقاضا نیا نہیں۔ ایسے میں جب داعش کی شکل میں عالمی سطح پر ایسا پرتشدد گروہ موجود ہے جو مسلم وغیر مسلم کے امتیاز سے قطع نظر خوف اور تشددکو بطور ہتھیار اسمتال کررہا۔ سرکاری سطح پر ملک میں داعش کی موجودگی سے انکار کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جن کی زمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ۔ انتہاپسدانہ کاروائیوں پر نظر رکھنے والے حلقوں کا خیال ہے کہ سیکورٹی فورسز کی بھرپور کاروائیوں کے نتیجے میں کالعدم جماعتیںاس قدر کمزور ہوچکیں کہ تن تنہا کوئی بڑی کاروائی ان کے بس میں نہیں لہذا ایسے شوائد سامنے آچکے کہ ارض وطن میں سیاسی ، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کشت وخون کرنے والے باہم رابطہ میں ہیں ۔
جنگ میں ابہام یا اجمتاعی سطح پر نااتفاقی تباہ کن ثابت ہوا کرتی ہے۔ گزرے ماہ وسال میں تو یہ بھی ہوتا رہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی لڑائی قرار دے کر اس سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی گی۔ان دنوں ایسی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی کمی نہ تھی جو اعلانیہ یہ تقاضا کرتی رہیںکہ اگر پاکستان کالعدم گروہوں کے خلاف اقدمات اٹھانے سے گریز کی پالیسی اختیار کرے تو سب اچھا ہوسکتا ہے۔ گرزے سالو ں میں جنرل راحیل شریف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سابق سپہ سالار کا کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے قبائلی علاقوں کے علاوہ کراچی میں بھی قیام امن کی بحالی کے پوری قوت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ جنرل راحیل کی نمایاں خوبی یہ رہی کہ ممکن حد تک مختلف سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھا گیا۔ یقینا اس پالیسی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور فاٹا سمیت کراچی میں امن وامان کی صورت حال میں قابل زکر بہتر آئی۔
جنرل راحیل کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ بھی انتہاپسندی کے خلاف بھرپور طور پر لڑائی لڑرہے مگر سیاسی محاذ پر انھیں ہرگز مثالی صورت حالات کا سامنا نہیں۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی نئے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پانامہ لیکس میںسابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوچکا، ان حالات میں توقع کرنا مشکل ہے کہ اہل سیاست الیکشن جیتنے پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے انتہاپسندی جیسے اہم مسلہ پر توجہ دیں۔
ملک میں انتہاپسندی کی تاریخ میں روس افغانستان جنگ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے ، دراصل یہی وہ دن تھے جب دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسی پالیساں اختیار کی گئیں جو عملا تباہ کن رہیں۔ افغان جنگ نے ایک طرف پاکستانی معاشرے کو بدلا تو ریاست کی ترجیحات بھی بدل گئیں۔ عام آدمی کو بنیادی ضرورت زندگی فراہم کرنے کی بجائے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان پاکستان ایسا الجھا کہ تاحال سنبھل نہیںسکا۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سیکورٹی فورسز اور عام شہری مسلسل قربانی دے رہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان شہادتوں کی حقیقی معنوں میں قدر کی جائے۔ ہمارے شہدا اپنا آج قوم کے کل کے لیے قربان کررہے ، بلاشبہ شہدا کا خون ہم سے زبانی جمع خرچ کی بجائے حقیقی معنوں میں زمہ داریوں کا تقاضا کررہا۔

Scroll To Top