نیب ان ایکشن: خواجہ سعد رفیق کی پیراگون سوسائٹی کی مالکانہ حیثیت بارے تحقیقات کا آغاز

  • پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے لانچ کی گئی آشیانہ سوسائٹی بارے تحقیقات کے دوران وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط کا اہم انکشاف
  • آشیانہ اقبال لاہور کا ٹھیکہ جن کمپنیوں کو دیا گیا ان میں سعد رفیق کی فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں جو علی سجاد اور ندیم ضیاء پیرزادہ کے ذریعے آپریٹ ہورہی تھیں

خواجہ سعد رفیق

لاہور (الاخبار نیوز) خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط سامنے آگئے، آشیانہ سوسائٹی کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب نے پیراگون سوسائٹی انتظامیہ کو22نومبر کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق آشیانہ سوسائٹی کی تحقیقات میں یہ انشاف ہوا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی۔پروجیکٹ کا ٹھیکہ سپارکو گروپ سے ہوا جس میں تین کمپنیاں شامل تھیں، لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے منصوبے آشیانہ اقبال لاہور کا ٹھیکہ تین کمپنیوں کو دیا گیا جن کے نام سپارکو گروپ، بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی، انہوئی کنسٹرکشن ہیںرائع کے مطابق گروپ میں سعد رفیق کی فرنٹ کمپنیاں بھی شامل تھیں، کمپنیاں علی سجاد اور ندیم ضیاء پیرزادہ کے ذریعے آپریٹ ہورہی تھیں، علی سجاد اور ندیم ضیاء پیراگون سٹی، منی ایکسچینج اوردیگر کمپنیاں چلارہے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کمپنیاں سعدیان ایسوسی ایٹس سے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ لنک ہوتی ہیں، سعدیان ایسوسی ایٹس سعد رفیق کے ڈی ایچ اے والے گھر سے آپریٹ کرتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بسم اللہ انجیئنرنگ کمپنی پیراگون سٹی کے چیف ایگزیکٹو ندیم ضیائ جبکہ انہوئی کنسٹرکشن کمپنی پیراگون ایکسچینج کےڈائریکٹرعلی سجاد کی ملکیت ہے۔نیب نے آشیانہ سوسائٹی کی تحقیقات کے سلسلے میں پیراگون سوسائٹی انتظامیہ کو22نومبر کو طلب کرلیا ہے، نوٹس کے متن میں کہا گیا ہے کہ نیب کو زمین کی صورت حال کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ندیم ضیا پیرزادہ واپڈا کےایک ایس ڈی او سےارب پتی بن گیا، خواجہ سعد رفیق نے سرمایہ کاری ندیم پیرزادہ کے نام پر کر رکھی ہیں۔اس کے علاوہ خواجہ سعد رفیق پر دوستوں کے نام قرضے لے کر بلیک منی وائٹ کرنے اور برکی روڈ کے مضافات میں زمینوں پر قبضے کے الزام کے علاوہ ایل ڈی اے سٹی میں زمینوں کو سستے داموں خریدنے کابھی الزام ہے۔

Scroll To Top