آپ نے سچ کہا میاں صاحب۔۔۔ ابوجہل بھی ایک نظریہ تھا!

aaj-ki-bat-logo

روایت یہ مصدّقہ ہے کہ آنحضرت نے اپنی نبوّت کے ابتدائی ایام میں جن دو ”عمروں“ میں سے کم از کم ایک ”عمر“ کے قبولِ اسلام کرنے کے لیے دعا فرمائی تھی ان میں وہ شخص بھی تھا جسے تاریخ ”ابوجہل“ یعنی جہالت کے باپ کی حیثیت سے پہچانتی ہے ۔ اس کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا۔ آنحضرت کی اس دعا نے بارگاہ ایزدی میں اس طرح قبولیت حاصل کی کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نہایت معجزاتی انداز میں اسلام قبول کیا اور خدا کے آخری پیغام کی ایک ایسی آواز بن گئے جس کی گونج دنیا کے کونے کونے تک پہنچی اور سنائی دی ۔اس روایت سے ایک بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ ابوجہل بھی یقیناغیر معمولی اوصاف کا حامل ہوگا ورنہ آنحضرت اس کے لئے دعا نہ فرماتے۔
سردارانِ قریش میں نمایاں اہمیت رکھنے والے اس شخص کے مقدر میں ابوجہل کی شناخت لکھی گئی تھی۔
اس بدبخت کے ساتھ ایک تاریخی بیان منسوب ہے جس میں اس نے کہاتھا۔ ”بنی ہاشم کا یہ فرزند اکیلا سرزمینِ عرب کے ہزاروں لاکھوں باسیوں کی تقدیر اور روایات کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ لات ومنات کی قسم میں اپنے آباﺅ اجداد کی حرمت قائم رکھنے کے لئے عبداللہ بن عبدالمطلب کے بیٹے کوناکام بناﺅں گا۔“
مجھے ابوجہل کی یہ لاف زنی اِس موقع پر میاں نواز شریف کے اس خطاب کی وجہ سے یاد آئی ہے جو انہوں نے اپنے داماد کے علاقے میں ہونے والے جلسے میں کیا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ”پانچ لوگ بیس بائیس کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ نواز شریف ایک نظریہ کا نام ہے۔“
یقینا میاں نواز شریف ایک نظریہ کا نام ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ابوجہل ایک نظریہ کا نام تھا۔
ابوجہل کا نظریہ ان سینکڑوں بتوں کی خدائی قائم رکھنے کا عزمِ صمیم تھا جنہیں توڑنے اور گرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو بھیجا تھا۔
میاں نواز شریف کا نظریہ دولت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنا اور اقتدار کے ذریعے اپنی دولتمندی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
میاں نواز شریف دعویٰ کرتے ہیں کہ لوگ اُن کے ساتھ ہیں ۔یقینا ہوں گے۔ وہ تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں جنہوں نے لات ومنات کی عظمت قائم رکھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔
لیکن میاں صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ بے سروسامانی میں کی جانے والی ہجرت ”نظریہءابوجہل“ کی فتح نہیں تھی ۔ اُس ہجرت کا ایک راستہ میدانِ بدر کی طرف نکلا تھا۔میدانِ بدر ابوجہل کے لئے میدانِ اجل بن گیا تھا۔
جن ”پانچ“ لوگوں کا ذکر میاں صاحب اِ س قدر تضحیک حقارت اور نفرت کے ساتھ کرتے ہیں ان کا اصل جرم یہ ہے کہ انہیں میاں صاحب کی بے انداز دولت اور بھر پور حکومتی طاقت خرید نہیں سکی۔
جیسے ابوجہل کا نظریہ کٹے ہوئے درخت کی طرح میدانِ بدر میں گرا تھا ویسے ہی میاں نواز شریف اپنے میدانِ بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔جب قانونِ قدر ت حرکت میں آتا ہے تو میاں صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ قارون کے خزانے بھی کام نہیں آتے۔

Scroll To Top