مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhootمصنف غلام اکبر
21-11-2017
..قسط 17..


جب ایوب خان افقِ سیاست سے غائب ہو چکے تھے اور یحییٰ خان کے زوال کے بعد بھٹو مسندِ صدارت پر جلوہ افروز ہو چکا تھا تو ایک بزرگ صحافی نے ایوب خان سے ایک ملاقات کے دوران اعلانِ تاشقند کے بارے میں اصل حقائق معلوم کرنا چاہیے۔ایوب خان نے اس صحافی کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے توگریز کیا، لیکن پھر کچھ باتیں بتانے پر آمادہ ہوگئے۔ یہ باتیں ان روایتوں سے زیادہ مختلف نہیں تھیں جو ایوب خان کے قریبی حلقوں سے سامنے آئیں۔ بھٹو کے طالب علم کی حیثیت سے میری بھی ایک تھیوری ہے جو ان باتوں اور روائیتوں سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے۔ یہاں میں یہ تھیوری پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
تاشقند مذاکرات تین مرتبہ تعطل کاشکار ہوئے اورتینوں مرتبہ سوویت وزیراعظم نے مداخلت کر کے کانفرنس کو ناکامی سے بچایا کیونکہ روسی لیڈروں نے ”ایشیائی معاہدئہ امن“ کا جو منصوبہ تیار کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کی جائے اور کشیدگی ختم کرنے کا کریڈٹ بھی سوویت یونین کو حاصل ہو۔
مذاکرات کے درمیانی مرحلہ پر ایک اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے وفود کے تمام ارکان شرکت کر رہے تھے۔ روسی وزیراعظم بھی موجود تھے ۔ کسی اہم نکتے پر وفود کے قائدین اور کوسیگن کے درمیان بحث ہو رہی تھی۔ بھٹو نے اس بحث میں دو تین مرتبہ مداخلت کی اور اپنا نقطئہ نظر پیش کرنا چاہا۔ اس کی یہ متواتر مداخلت کو سیگن کو پسند نہ آئی اور آخر روسی وزیراعظم نے ذراسخت لہجے میں بھٹو کو کہہ ہی دیا کہ وہ معاملے کو الجھانے کی بجائے خاموشی اختیار کرے تو بہتر ہوگا۔
ایوب خان اپنے وزیرخارجہ کی یہ بے عزتی برداشت نہ کرسکے اور یہ کہہ کر اجلاس سے واک آو¿ٹ کر گئے کہ ” توہین بھٹو کی نہیں پاکستان کی گئی ہے اور چھوٹا ملک ہونے کے باوجود پاکستان عزتِ نفس سے عاری نہیں۔“
اس غیر متوقع صورت حال کے تھوڑی دیر بعد سوویت وزیراعظم نے جا کر تنہائی میں ایوب خاں سے ملاقات کی اور اظہارِ معذرت کے ساتھ صدر پاکستان کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ بھٹو پر قطعاً اعتماد نہ کریں۔
”شاید آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا وزیر خارجہ چین کا حامی ہے اور اسی وجہ سے ہم اسے پسند نہیں کرتے، لیکن ہماری اطلاعات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ آپ کا وزیرخارجہ بنیادی طور پر امریکہ کا آدمی ہے اور سی آئی اے کے لئے کام کر رہا ہے موجودہ مذاکرات کو وہ چین کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کے اشارے پر ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے آپ اس سے جس قدر محتاط رہیں گے آپ کے حق میں بہتر ہوگا۔“
ایوب خان کے لئے سوویت وزیراعظم کا یہ انکشاف بڑا سنسنی خیز اور تکلیف دہ تھا۔ اسی روز انہیں ایک ایسی بات کا علم ہوا جو ان کے خواب وخیال میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ بھٹو خفیہ طور پر تنہائی میں لالا بہادر شاستری کے ساتھ ملاقات کر چکا تھا۔
ایوب خان نے اس بارے میں بھٹو سے استفسار کیا تو اس نے صاف انکار کرتے ہوئے وفد کے بعض دوسرے ارکان پر الزام لگایا کہ وہ اس کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں۔ اپنی صفائی میں بھٹو نے یہ دلیل بھی دی کہ مذاکرات میں بھارت کے خلاف اتنا سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد اسے لال بہادر شاستری سے خفیہ ملاقات کی کیا ضرورت تھی۔
بظاہر ایوب خان مطمئن ہوگئے لیکن لال بہادر شاستری کے ساتھ بھٹو کی خفیہ ملاقات کا علم انہیں جس ذریعے سے ہوا تھا وہ بڑا ہی مستند تھا۔پھر کو سیگن نے بھی جو باتیں انہیں بتائی تھیں ان کی وجہ سے ایوب خان کے ذہن میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے ایک اور بات بھی قابلِ غور تھی اور وہ یہ کہ مذاکرات کے بارے میں بھٹو نے بڑے متضاد رویے اختیار کر رکھے تھے جب وہ اجلاس میں شرکت کرتا تو بھارت کے ساتھ معاہدے کے سلسلے میں اس کی شرائط خاصی سخت ہوتیں، مگر پاکستانی کیمپ میں اس نے خاصا معتدل اور متوازن نقطئہ نظر اپنا رکھا تھا ان تمام باتوں نے ایوب خان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ ان کا وزیر خارجہ کوئی خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ پھر بھی انہوں نے فوری طور پر بھٹو کو یہ احساس دلانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ اپنے صدر کے اعتماد سے محروم ہو چکا ہے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ اس بارے میں مناسب کارروائی وہ وطن واپس پہنچنے کے بعد کریں گے۔

 

Scroll To Top