افغانستان کی نئی ممکنہ پالیسی

  • حسن سلیم

افغانستان ایک مشکل اور پر خطر علاقہ ہے جو کہ ایشیاءکے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس ملک کی تاریخ جنگوں سے بھرپور نظر آتی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کسی بھی ملک یا کسی بھی فوج نے اس ملک کو مکمل فتح نہیں کیا یا اس ملک کو اپنے کنٹرول میں نہیں کر سکے۔ جو بھی اس ملک کو فتح کرنے آیا اس ملک کے بلند و بالا پہاڑوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر پاش ہو گیا۔ سپر پاورز اور کئی مضبوط ممالک اس ملک کو فتح کرنے کے چکر میں آئے اور خود ختم ہو گئے۔ اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ افغانستان حملہ آور اقوام کا قبرستان ہے۔یہاں کے لوگ سخت جان اور محنتی لوگ ہیں۔ غیرت اور عزت ان کا طرہ امتیاز ہے اور اسی غیرت کے لئے یہ لوگ اپنی جان تک دینے سے گریز نہیں کرتے۔ ہمیشہ سے آزاد رہنے کے عادی لوگ کسی کا تسلط برداشت نہیں کرتے اور اپنی آزادی کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
انیسویں صدی میں برٹش افواج نے اس ملک پر قبضہ کرنے کے لئے کئی حملے کئے لیکن ہر بار شدید مزاحمت کے نتیجے میںوہ ناکام رہے۔ تھوڑے بہت علاقے پر اگر قبضہ کر بھی لیا تو وو واپس کرنا پڑا۔ آخر کار شدید جانی نقصان اٹھانے کے بعدوہ ناکام و نامراد لوٹ گئے۔
اسے طرح 1980کی دہائی میں اپنے وقت کی سپر پاور روس نے بھی اس ملک میں اپنی قسمت آزمائی ۔ تقریباً 10برس جاری رہنے والی اس جنگ میںبلا شبہ لاکھوں لوگ مارے گئے، لاکھوں کے حساب سے زخمی ہوئے اور تقریباً 35 لاکھ سے زائد لوگوں کو پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔ معاشی طور پر بدحال افغانستان مزید تباہ ہو گیا۔تھوڑا بہت انفراسٹرکچر جو موجود تھا وہ بھی تباہ کر دیا گیا۔ روس نے اپنی پوری طاقت اس جنگ میں جھونک دی، جتنے بھی وسائل تھے وہ اس جنگ میں لگا دیئے لیکن سخت جان پٹھانوں کے سامنے بے بس ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے بے پناہ اخراجات اٹھاتے اٹھاتے روس کی معیشت مکمل طور پر بیٹھ گئی ۔معاشی طور پر روس خود کو نہ بچا سکا اور ٹوٹ گیا جس سے کئی نئی ریاستیں معرض وجود میں آ گئیں۔ آج بھی روس ان زخموں کو چاٹ رہا ہے جو اسے افغانستان میں لگے۔ جہاں افغانستان اور روس اس جنگ میں مصروف عمل رہے وہیں اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے اور پاکستان بھی اس جنگ میں شامل ہو کرمعاشی طورپرکمزور ہو گیا۔جب جب افغانستان پر کوئی افتاد آئی ہے پاکستان پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی اور ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔
9/11کو افغانستان کے دور دراز علاقے جسے تورا بورا کے نام سے جانا جاتا ہے وہاں چند عربوں نے بیٹھ کر منصوبہ بندی کی اوردنیا کے انتہا ئی محفوظ او ر جدید ترین سیکورٹی کے حامل ملک امریکاکے نظا م کو شکست دے کران کے چار جہاز ہائی جیک کیے اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گان سے ٹکرا دیئے۔
دنیا حیران رہ گئی کہ کس طرح دور درازاور پسماندہ ملک میں رہ کر چند لوگوں نے ایک سپر پاور کو شکست سے دوچار کیا۔ امریکا اپنی شکست اور رسوائی کا بدلہ لینے کے لئے افغانستان پر چڑھ دوڑا۔اس کا شائد یہ خیال تھا کہ وہ اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی ، مہلک ترین ہتھیار اور وسیع افواج کے بل بوتے پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔نیٹو کی افواج بھی امریکا کے ساتھ اس جنگ میں شامل تھیں۔پاکستان کو بھی اس جنگ کا حصہ بنایا گیا۔پاکستان وسیع تر مفاد میں مصلحت کے تحت اس جنگ میں امریکاکا ساتھ دینے پر راضی ہوا۔ امریکانے افغا نستان کے پہاڑوں میں خوب سر ٹکرایا، ہر طرح کا ہتھیار آزمایا، اپنی افواج کا نقصان کرایا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ امریکا نے بھی وہی غلطی دہرائی جو روس نے چار دہائی پہلے دہرائی تھی۔
امریکا کو جب غلطی کا احساس ہوا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور امریکا کی معیشت بیٹھنے لگی تھی۔امریکا کو احساس ہوا کہ افغانستان میں حملہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے اور یہی خودکشی روس نے بھی کی تھی۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹوافواج پر حملے آئے روز ہوتے رہے اور ہر بار انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی اس ہزیمت کا الزام امریکا نے پاکستان پر لگایا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور پاکستان ان کی مدد کر رہا ہے۔
امریکا کو معلوم ہے کہ افغانستان مسئلے کا حل فوجی طریقے سے کبھی نہیں ہو سکتابلکہ تمام قبائلی گروپس اور طالبان کو ایک میز پر بٹھا کر اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما نے پاکستان اور افغانستان کو ایک ریجن ، ایک مسئلہ سمجھتے ہوئے ایک پالیسی دی جسے’ افپاک پالیسی ‘کا نام دیا گیایعنی افغانستان پاکستان پالیسی۔ اس پالیسی کے تحت افغانستان پاکستان کے مسائل کو ایک ہی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کا لائحہ عمل دیا گیا،حالانکہ پاکستان کے حالات، معیشت، افواج ہر لحاظ سے افغانستان سے مختلف ہیںاور پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ پالیسی تشکیل دیتے وقت اس بات کویکسر بھلا دیا گیاکہ اس جنگ میں امریکا پاکستان کا محتاج ہے اور قدم قدم پراسے پاکستان کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کو نظر انداز کر کے پاکستان کے مسائل کو افغانستان کے طرز پر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی دی جانے والی قربانیوں کو بھلا کر ڈو مور کرنے کا کہا گیا اور ساتھ ہی ساتھ بھارت کوافغان معاملات میں ترجیح دی گئی جس کے نتیجے میںپاکستان امریکا سے نالاں ہو گیا اور اس جنگ سے خود کو الگ کرنے کی تدبیر کرنے لگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نظر ثانی کی ضرورت پیش آئی اور پاکستان نے امریکا پر اپنا انحصار کم کرنے کی ٹھان لی۔
حالیہ امریکی انتخابات کے نتیجے میں ڈونلڈٹرمپ نئے امریکی صدر منتخب ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اورمسلمان مخالف نظریات کے حامل ہیں اورآئے روز بیان دیتے رہتے ہیں۔پاکستان کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسی مزید سخت کرنے اور امداد بھی روکنے کا عندیہ دیا۔ اپنی پالیسی مرتب کرتے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں کویکسر نظر انداز کرکے پاکستان کو اس مسئلے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ امریکی افواج پر جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان سب حملہ آوروں کی پشت پناہی پاکستان کر رہا ہے اور پاکستان میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ مزید اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کوافغانستان میں اہم ذمہ داریاں بھی سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان اور بھارت روایتی حریف ہیں اور بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا کرپاکستان کے لئے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے، اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں میں الجھ کر رہ جائے گااور دونوں محاذ پر بیک وقت خطرے کا سامنا کرے گا جو کہ پاکستان کے لئے بہت مشکل بات ہے۔
مزید یہ کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں بہت دخل اندازی کر رہا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے پاس کئی ثبوت بھی موجود ہیں۔اس سے پہلے بھی پاکستان بھارت کے کئی جاسوس پکڑ چکا ہے جو ملک دشمن سر گرمیوں میں مصروف رہے ہیں جس کی تازہ مثال کمانڈر کلبھوشن یادوہے جسے بلوچستان سے گرفتار کیا گیاہے۔امریکہ کی جانب سے بھارت کو افغانستان میں کردار ملنے پر وہ مزید کھل کرپاکستان میں مداخلت کرے گا اور امریکہ سفارتی اور بین الاقوامی محاذ پر بھارت کی بھرپور پشت پناہی کرے گا کیونکہ دونوں ہی پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
اس نئی پالیسی کے تحت پاکستان سے ایک بار پھر ڈو مورکا کہا گیاہے اور اس کے علاوہ حقانی گروپ کے خلاف ایکشن، دہشتگردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اور ان کے محفوظ ٹھکانوںکا خاتمہ، افغان طالبان جو کہ پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، ان کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔امریکی امداد کو ان اقدامات سے مشروط کر دیا گیا ہے حالانکہ پاکستان بارہا امریکا کو یہ بات باور کرا چکاہے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے اوربھر پور اقدامات کر رہا ہے لیکن یہ بات امریکا ماننے پر تیار نہیں۔اس نئی پالیسی کے تناظر میںپاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ امریکہ پر اپنا انحصار کم کر کے چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرے جو کہ پاکستان کے مفاد میں بہتر ہے۔بین الا قومی سطح پر دیکھا جائے تو امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لئے بھارت کو تیار کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ خطے میں روس اس کا روایتی حریف ہے جس سے نمٹنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لئے مناسب یہی ہوگا کہ بھار ت کے مقابلے میں چین اور روس کے ساتھ ایک مضبوط تعاون کی بنیاد رکھے جو آنے والے وقت میں اس کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔ امریکہ اپنی چالیں چل رہا ہے اب پاکستان کو اپنی چال چلنی ہے۔اس نئی پالیسی کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات مزید سرد مہری کا شکار ہو تے نظر آرہے ہیں جس کے بعد افغانستان کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا جو کہ مستقبل میںخطے کے لئے نئی پریشانیاں پیدا کر سکتا ہے۔

Scroll To Top