نواز شریف کرپشن کی کمائی بچانے کی خاطر فوج اور عدلیہ پر حملے کر رہے ہیں، عمران خان

  • ن لیگ کے اندر ایک باغی گروپ بن چکا ہے جس کے اراکین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی
اسلا م آباد، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بلین ٹری سونامی کی تقریب سے خطاب ر رہے ہیں

اسلا م آباد، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بلین ٹری سونامی کی تقریب سے خطاب ر رہے ہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے اندر ایک باغی گروپ بن چکا ہے جس کے اراکین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کی ہے کہ ن لیگ کے اندر ایک باغی گروپ تشکیل پا چکا ہے جس کے اراکین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ایک نجی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر آرمی چیف اپنی پالیسی بناتا ہے۔ ملک کی لیڈرشپ تگڑی ہو گی تو فوج کو ہر چیز میں آنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ پاکستان کی جمہوریت کو جنرل باجوہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جنرل باجوہ جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں۔ فوج اس وقت آئین کے مطابق چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی جمہوریت میں مجرم کو پارٹی صدر نہیں بنایا جاتا۔ ریاست ملک کا پیسہ بچانے کی بجائے مجرم کو بچا رہی ہے۔ نواز شریف پیسے کو بچانے کی خاطر فوج اور ججوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسی زبان کسی اور ملک میں استعمال کی ہوتی تو جیل میں ہوتے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کیا کوئی دنیا کی سٹیبلشمنٹ عوام کو باہر نکال سکتی ہے۔ پوری دنیا کی سٹیبلشمنٹ ساتھ ملا کر بھی (ن) لیگ دو ہفتے کا دھرنا دے کر دکھا دیں۔ ہمارے ساتھ عوام ہے۔ ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا۔ چیلنج کرتا ہوں ہمارے جیسے کوئی ایک جلسہ ہی کر کے دکھا دیں۔ شاہد خاقان عباسی ایک مفلوج وزیر اعظم ہیں ان کی حکومت نواز شریف کی کرپشن بچانے میں مصروف ہے،عمران خان کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا بتائے بغیر ایم کیو ایم سے ملے۔ ہمیں تو میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔ پارٹی کی طرف سے فیصل واوڈا کو مذاکرات میں بیٹھنے کی ہدایت نہیں تھی۔ سندھ کے صدر عارف علوی فیصل واوڈا سے ملاقات بارے پوچھیں گے۔دریں اثناءپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس بنا ے گئے ، پر امن احتجاج پردہشت گردی کاکیس بنا دیا ،منی لانڈرنگ کرنے والا ملک کا وزیر خزانہ کیسے ہوسکتا ہے ،اسحاق ڈار کو پہلے ہی دن مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔ منگل کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت میں عمران خان نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس بنایا گیا، پر امن احتجاج کے اوپردہشت گردی کاکیس بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ مجھ پر دہشت گردی کے کیس کرسکتے ہیں تو کسی پر بھی کرسکتے ہیں، یہ لوگ دہشت گردی کے نام پر کسی کے بھی وارنٹ نکال سکتے ہیں، یہ ایک سیاسی کیس تھا۔چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے، جس دن اسحاق ڈار کا نام نیب میں آیا انہیں اسی دن مستعفی ہونا چاہیے تھا، ان پر اربوں کی کرپشن کا کیس ہے، منی لانڈرنگ کرنے والا ملک کا وزیر خزانہ کیسے ہوسکتا ہے۔بابر اعوان نے کہاکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی آواز دبانے کے لیے سیکڑوں کارکنان پر پرچے درج کیے گئے، جو لوگ ان مظاہروں کے دوران ریاستی تشدد سے مارے گئے ان کا کوئی پرچہ درج نہیں ہوا جس طرح ماڈل ٹان کا کوئی پرچہ درج نہیں ہوا۔بابر اعوان نے کہا کہ یہ جمہوری احتجاج تھا، جس کی قیادت عمران خان نے کی، وہ کسی دفعہ کے تحت قابل دست اندازی جرم نہیں تھے اور پولیس کا اس سے کوئی تعلق نہیں، اس وقت نوازشریف ریاستی طاقت استعمال کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ تمام مقدمات سیاسی ہیں جو ناکام ہوں گے اور ہم ان مقدمات میں سرخرو ہوں گے، اب کوئی عمران خان کا راستہ نہیں روک سکتا۔

Scroll To Top