مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر

jhootمصنف غلام اکبر
15-11-2017
قسط 11


بھٹو اپنا عوامی امیج ایک سا مراج دشمن چین نواز ایشیائی رہنما کے طور پر بنانا چاہتا تھا لیکن درپردہ اس کے روابط بدنام زمانہ امریکی تنظیم سی آئی اے کے ساتھ قائم ہو چکے تھے۔ایوب خاں کو امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھتی تھی اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس پارٹی کے لبرل فلسفی امریکی امداد ایسے ممالک کو فراہم کرنے کے حق میں نہیں تھے جہاں آمرانہ نظام قائم ہوں۔ ان لبرل فلسفیوں کا نقطئہ نظریہ تھا کہ جس ملک میں آمرانہ نظام قائم ہو وہاں کے عوام ایسی امریکی امداد کے خلاف جائز طور پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں جو اس آمرانہ نظام کو مزید تقویت دینے پر خرچ ہوتی ہو۔ اس طرح امداد دے کر امریکہ کا امیج بہتر ہونے کی بجائے اور زیادہ بگڑ جاتا ہے۔
۱۶۹۱ءکے اوائل میں جب ڈیمو کرٹیک پارٹی کے کامیاب امیدوار جان ایف کینیڈی نے امریکہ کی صدارت سنبھالی تو امریکی حکومت نے ایوب خاں کو زیادہ جمہوری طور طریقے اختیار کرنے کے مشورے دینے شروع کر دیئے۔ ان مشوروں نے جب دباو¿ کی صورت اختیار کی تو ایوب خاں نے ناراض ہو کر اپنی خارجہ پالیسی کو امریکی مفادات کے تنگ دائرے سے نکالنا شروع کر دیا۔ چین کے ساتھ تعلقات کو اور زیادہ مضبوط کیا گیا اور سوویت یونین کے معاملے میں بھی حکومت ِ پاکستان کا رویہ تبدیل ہونے لگا۔ اس کے علاوہ ایوب خان نے یورپی ممالک کے ساتھ بالعموم اور عرب ممالک کے ساتھ بالخصوص زیادہ مستحکم بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے شروع کردیئے۔
ظاہر ہے کہ پاکستان کی اس آزاد روی کو امریکہ نے اچھی نظر سے نہ دیکھا۔ چنانچہ ایوب خاں کا ”مزاج“ درست کرنے کے لئے امریکی حکومت نے ایک طرف تو بھارت کی طرف جھکنا شروع کر دیا اور دوسری طرف پاکستان میں متبادل قیادت پیدا کرنے کی ذمہ داری سی آئی اے کو سونپ دی۔
یہ صورت ِ حال بھٹو کے ”عزائم“ کے لئے ایک نیک فال تھی ۔ اسے سی آئی اے سے خفیہ روابط قائم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اب مسئلہ صرف یہ تھا کہ بھٹو ایوب خاں کے لئے خطرہ بننے کی اہلیت ثابت کر دکھائے۔
رن کچھ کی لڑائی کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات میں جو زبردست کشیدگی پیدا ہوئی تھی اسے بھٹو نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
مسئلہ کشمیر موجود تھا اور بھٹو جیسے چالاک شخص کے لئے ایوب خان کے ذہن میں یہ بات ڈالنی مشکل نہ تھی کہ کشمیر کے ساتھ پوری قوم کے جذبات وابستہ ہیں اور اگر آزادی کشمیر کے لئے کوئی مﺅثر قدم اٹھایا جائے تو رائے عامہ فوراً ایوب خان کو ایک قومی ہیرو کا درجہ عطا کر دے گی۔
ایوب خاں نے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے دوران اپنی ساکھ کے بت کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لئے وہ اپنے امیج کو عوام کی نظروں میں بحال کرنے کے لئے ذہنی اور جذباتی طور پر ہر قسم کا اقدام کرنے کے لئے تیار تھے۔ آہستہ آہستہ یہ بات ان کے ذہن میں بیٹھتی چلی گئی کہ آزادی کشمیر کے مشن کی تکمیل ان پر عوام کے دلوں کے درواز ے کھول دے گی اور وہ تاریخ میں ایک قومی ہیرو کی حیثیت سے یاد کئے جائیں گے۔ بھٹو کی چال کامیاب ہو چکی تھی۔
کشمیر کو مسلح جدوجہد کے ذریعہ آزاد کرانے کا منصوبہ برق رفتاری سے تیار کیا گیا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ضروری اقدامات کئے گئے منصوبہ یہ تھا کہ تربیت یافتہ ”گوریلے“ بڑی تعداد میں مقبوضہ کشمیر بھیجے جائیں ۔ جو اچانک وہاں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار جنگ کی فضا پیدا کردیں اور ساتھ ہی ساتھ کشمیری عوام کو اس جنگ میں شریک کرنے کی کوشش کریں۔ اس منصوبہ پر عملدرآمد کرنے سے پہلے اگر کشمیری عوام کو ذہنی جذباتی اور عملی طور پر مسلح جدوجہد کے لئے تیار کیا جاتا تو ہمارے وہ مجاہدین جو سر پر کفن باندھ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے ان کی قربانیاں شاید رائیگاں نہ جائیں، لیکن اس مقصد کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار تھا اور ایوب خان اتنا بڑا مشن ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے تھے۔
چنانچہ اگست ۵۶۹۱ءکے پہلے ہفتے میں وادی کشمیر گولیوں اور بموں کے دھماکوں سے گونج اٹھی۔ ۹ اگست کو صدائے کشمیر کی نشریات شروع ہوگئیں اور ہر روز مجاہدین کشمیر کی پیش قدمی اور مزید کامیابیوں کے اعلانات نشر ہونے لگے۔
بھارت کا شدید رد ِعمل غیر متوقع نہیں تھا۔ بھارتی حکومت نے الزام لگایا کہ مقبوضہ کشمیر میں اچانک پیدا ہونے والی صورت حال کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور جو لوگ چھاپہ مار کارروائیوں میں مصروف ہیں وہ کشمیری نہیں پاکستانی ”گھس بیٹھئے“ ہیں۔ جوابی کارروائی کے طور پر بھارت نے اپنی فوجیں آزاد کشمیر میں داخل کر دیں۔ کرگل اور ٹٹوال وغیرہ پر قبضہ کرنے بعد بھارتی فوجوں نے حاجی پیر پاس کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لئے پیش قدمی شروع کر دی کیونکہ بھارتی دعوو¿ں کے مطابق” پاکستانی مداخلت کار“ اسی راستے سے مقبوضہ کشمیر میں بھیجے جا رہے تھے۔
حکومت پاکستا ن نے بھارت کی اس کارروائی کو ایک آزاد ملک کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بھارتی حملہ جاری رہا تو پاکستان اس کا مﺅثر جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔ بھارت نے اس انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ مﺅقف اختیار کیا کہ جارحیت کا آغاز پاکستان نے کیا ہے اور بھارتی فوجیں جو کارروائی کر رہی ہیں وہ محض دفاعی نوعیت کی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا اچانک بارود کے ڈھیر پر کھڑا تھا۔
اور بھٹو کی نظریں مستقبل پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ چشمِ تصور سے ان حالات کا جائزہ لے رہا تھا جو متوقع پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تھے۔ چند باتوں کا اسے پوری طرح یقین تھا۔ ایک تو یہ کہ حاجی پیر پاس کی طرف بھارتی یلغار کے جواب میں پاکستان کو بھی مﺅثر فوجی کارروائی کرنا پڑے گی۔ ایسی صورت میں بھارت جنگ کے دائرے کو وسیع تر کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور پھر براہ راست دونوں ملکوں کا تصادم ہوگا۔ اس بات سے قطع نظر کہ کس ملک کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ یہ بات یقینی تھی کہ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی مداخلت سے جنگ بند ہو جائے گی۔ جنگ بندی کے بعد بھٹو کو ہر صورت میں اپنے لئے کئی ”امکانات“ نظر آرہے تھے۔ ان ”امکانات“ سے بھرپور فائدہ اٹھاکر آگے بڑھنابھٹو کے لئے مشکل بات نہ تھی۔
o o
(جاری ہے)

Scroll To Top