پیچھے رہنے والوں میں حضرت لوط کی اہلیہ بھی تھی 9-6-2012

kal-ki-baat

یہ بات کئی روز سے اسلام آباد کے اسرار خیز ماحول میں گردش کررہی تھی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ایک ایسا کاری وار ہونے والا ہے کہ وہ اپنے سار ے اصولوں اپنی ساری ضدوں اور اپنے سارے فیصلوں کو بھول کر خود اپنے شخصی وقار و کردار کا دفاع کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
یہ بات مجھ سے جناب عمران خان نے بھی کی تھی کہ انہوں نے بھی کچھ ایسا ہی سنا ہے۔ بلکہ انہوں نے اس ضمن میں کرسٹینا لیمب کا بھی نام لیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا اس خوفناک سازش کے تانے بانے ایک ایسے شخص سے جاملتے ہیں جو وطنِ عزیز کی ہر اہم بااختیار با اثر یا مقتدر شخصیت کو نوازنے اور خریدنے کی استطاعت اور شہرت رکھتا ہے خواہ خریدی جانے والی شخصیت کا تعلق کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔
اب بات افواہوں سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں مشہور اینکر کامران خان کے بیان نے اس معاملے کو پاکستان کی تاریخ کے ایک ایسے کیس میں تبدیل کردیا ہے جس کے اثرات سے بچنا بہت سارے لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل ہوگا۔
مجھے اس ضمن میں قرآنِ حکیم کی وہ آیات یاد آرہی ہیں جن میں خدا نے فرمایا ہے کہ ” جو بھی حضرت لوط کے پیروکار تھے وہ ان کے ساتھ بستی سے نکل آئے مگر پیچھے رہنے والوں میں پیغمبر کی اہلیہ بھی تھی۔ اور تمام پیچھے رہنے والوں کو عذاب نے آن لیا“ ۔
اگر حضرت لوط اپنی اہلیہ کو عذاب سے نہ بچا سکے تو پھر جسٹس افتخار محمد چوہدری پر اس بات پر انگلیاں کیوں اٹھائی جائیں کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار ان کا بیٹا ہے ؟
یومِ حساب کوئی کسی کا بیٹا اور کوئی کسی کا باپ نہیں ہوگا۔
فیصلہ یہ نہیں ہونا کہ چیف جسٹس کے بیٹے نے اپنے منہ پر کالک ملی ہے یا نہیں۔ فیصلہ یہ ہونا ہے کہ کرپشن کے خلاف جو جہاد چیف جسٹس نے شروع کررکھا ہے اس پر یہ خوفناک سازش اثرانداز ہوگی یا نہیں۔۔۔

Scroll To Top