مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر

jhoot

مصنف غلام اکبر
14-11-2017
قسط 10


پہلے دن کے اجلاس کے بعد چیف رپورٹر منظور ملک بھاگے بھاگے دفتر آئے تو ان کی آنکھیں کسی بڑی کامیابی کے احساس سے چمک رہی تھیں۔ میں نے ان سے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک کاغذ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا۔
” یہ کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
” پڑھ لیجئے۔ میں نے بڑی صفائی سے اس دستاویز کو شیخ مجیب الرحمان کے بریف کیس سے چرایا ہے۔“ منظور ملک نے جواب دیا۔
شیخ مجیب الرحمان کا نام سن کر میں نے بڑی دلچسپی سے دستاویز کو پڑھا میرے سامنے عوامی لیگ کا وہ چھ نکاتی فارمولا پڑا تھا جو آنے والے ادوار میں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنےو الا تھا۔ اس دستاویز کی اہمیت کا اندازہ مجھے اسی وقت ہو گیا تھا مگر یہ بات میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی چند سال بعد اسے پاکستان کو توڑنے والا ہتھیار بنا دیا جائے گا۔
اگلی صبح کوہستان کا پورا پہلا صفحہ شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات کے متعلق بڑی بڑی جلی سرخیوں سے بھر اپڑا تھا۔ اس دستاویز کی اشاعت سے اتنا بڑا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ شیخ مجیب الرحمان کو اس سے لا تعلقی ظاہر کرنے پر مجبورہونا پڑا اور محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابی منشور میں اسے کوئی جگہ نہ مل سکی۔
اس وقت میرے نزدیک اس قسم کا فارمولا تیار کرنا نظریہ پاکستان کے ساتھ غداری اور ملکی سالمیت کے خلاف سازش کرنے کے مترادف تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ شیخ مجیب الرحمان کو جمہوری محاذ سے اپنے نکات منوانے کا موقع نہیں مل سکا۔ ورنہ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کو پروپیکنڈے کے سرکاری ذرائع زبردست نقصان پہنچاتے۔
اس وقت میں اور مجھ جیسے انتہا پسند قومی خیالات رکھنے والے لوگ مشرقی پاکستان کے مسئلے کو حقیقت پسندی کی آنکھ سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ نظریہ پاکستان اور حب الوطنی کے جوش میں ہم یہ نہیں سوچ پا رہے تھے کہ ایوب خاں کی آمریت نے مشرقی پاکستان کے عوام کو ایک خطرناک احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ مغربی پاکستان اقلیتی صوبہ ہونے کے باوجود سیاسی طور پر ہمیشہ اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان پر حاوی رہے گا۔ چنانچہ کم از کم مشرقی پاکستان کے معاملات میں تو اس کے عوام اور لیڈروں کو ثانوی حیثیت حاصل نہ رہے۔
اس مسئلے کو بھٹو نے بھی یقینا خوب جانچا اور پرکھا ہوگا۔ ہر زاویے سے اس کا جائز ہ لیا ہوگا۔ حب الوطنی اور نظریہ پاکستان کی عینک لگا کر نہیں۔ ایک ایسے سیاستدان کی نظر سے جو اسلام آباد کے قصرِ صدارت کو اپنی منزل بنا چکا تھا۔ اس نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ایوب کی آمریت اگر قائم رہی تو مشرقی پاکستان میں اس کے خلاف ردِ عمل شدید سے شدید تر ہوتا چلا جائے گا اور بالآخر شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اس ردِ عمل کو اپنی سیاسی قوت کی بنیاد بنا لے گی۔ بھٹو کو پوری طرح علم تھا کہ مشرقی پاکستان کے ہندو اس صورت ِ حال سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ اور عوامی لیگ پر ان کا اثر و رسوخ اتنا بڑھے گا کہ پاکستان کے دونوں بازوو¿ں کے درمیان شکوک و شبہات اور باہمی عدم اعتمادی کی دیوار بلند سے بلند تر ہو جائے گی۔ بھٹو کو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے ایسی ہی فضا کی ضرورت تھی اور اس کے لئے وہ چند برس انتظار کر سکتا تھا۔ ان چند برسوں کے دوران اس کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح مغربی پاکستان کے عوام کو اپنے پیچھے لگائے۔ بھٹو کو سمجھنے کے لئے اس کے الفاظ بیانات اور تقاریر کو نہیں اس کے عمل کو اہمیت دینی چاہیئے۔ جو باتیں وہ کہتا ہے وہ دوسروں پر مطلوبہ تاثر قائم کرنے کے لئے کہتا ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے وہ اپنے طے شدہ مقاصد کی تکمیل کے لئے کرتا ہے
ایوب خاں کی انتخابی مہم کے دوران بھٹو نے اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے بعض بیانات محترمہ فاطمہ جناح اور ان کی زیر قیادت چلنے والی جمہوری تحریک کے خلاف ضرور دیئے تھے، لیکن عملی طور پر اس نے اس مہم سے دور رہنے کی پوری کوشش کی۔ ایوب خاں کے دستِ راست کی حیثیت سے اسے چاہیئے تھا کہ وہ ہر سٹیج پر اپنے آقا کے ساتھ نظر آئے۔ عوام کے سامنے جائے اور ان کی صفوں میں گھس کر ایوب خاں کا کیس لڑے ۔ لیکن وہ خانہ پُری کی حد تک ایوب خاں کا وفادار نظر آنا چاہتا تھا۔ جن عوام کو وہ اپنے پیچھے لگاکر اقتدار کی منزل تک پہنچنا چاہتا تھا ان عوام کے سامنے وہ ایوب خاں کے اقتدار کے تحفظ کے لئے جانے کے لئے تیار نہ تھا۔
۲۔ جنوری ۵۶۹۱ءکو بنیادی جمہوریتوں کے اسی ہزار ارکان نے ملک کا اگلا صدر منتخب کرنے کے لئے ووٹ ڈالے۔ اس روز میں نے روزنامہ کوہستان کے صفحہ اول کی تیاری پر خاصی محنت کی تھی ایک طرف ایوب خان کی تصویر تھی اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح کی۔
سرخی یہ تھی۔
” آج قوم اچھائی اور برائی کے درمیان انتخاب کرے گی۔“ اچھائی کا لفظ محترمہ فاطمہ جناح کی تصویر کے اوپر اور برائی کا لفظ ایوب خاں کی تصویر کے اوپر سجایا گیا تھا۔
انتخابی نتائج کا اعلان چار بجے سہ پہر کے بعد شروع ہونا تھا۔ میں انتظار کے طویل اور صبر آزما لمحات گذارنے کے لئے میٹنی شو دیکھنے چلا گیا۔ انٹرول میں باہر نکلا تو سامنے کچھ لوگ نظر آئے۔ جنہوںنے ریڈیو کے ساتھ کان لگا رکھے تھے دھڑکتے دل کے ساتھ میں ریڈیو کے قریب گیا۔ چند ہی لمحوں میں میری امیدوں کے محل گر کر مسمار ہوچکے تھے۔ ایوب خان کو ہر انتخابی حلقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہو رہی تھی۔
اس رات میں نے سوچا کہ ایک آمر کو جمہوری طریقوں سے شکست دینا کس قدر مشکل تھا۔ عوام محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ تھے اور جیت ایوب خان کی ہوئی تھی اس جیت کو یقینی بنانے کے لئے ایوب خاں کی انتظامیہ نے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے۔ بنیادی جمہوریتوںکے ارکان کو کیا کیا لالچ دیئے گئے اور جو لالچ میں نہ آئے انہیں کیسی کیسی صعوبتوں کاسامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک الگ داستان ہے۔ یہاں میرا موضوع بھٹو ہے جو انتخابات کے اس ڈرامہ سے ایک واضح نتیجے پر پہنچ چکا تھا اور وہ یہ کہ عوام اور ایوب خان کے درمیان جو خلیج حائل ہوچکی ہے اسے پاٹنا ایک آمر کے بس کی بات نہ تھی اور وقت آگیا تھا کہ بھٹو خود عوام کو اپنے پیچھے لگانے کے لئے کوئی ترکیب سوچے۔
اتفاق سے کچھ ہی عرصہ بعد رَن کچھ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک محدود جنگ چھڑ گئی۔ لندن میں ایوب خاں اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں رن کچھ کا مسئلہ بین الاقوامی عدالت ِ انصاف کے سپرد تو کر دیا گیا۔ لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان اچانک اتنی سخت کشیدگی پیدا ہوئی تھی کہ بھٹو کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے ایک مﺅثر ہتھیار مل گیا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top