جینا عذاب نہیں 08-06-2012

kal-ki-baat

حکمران ہمیشہ ایک ہی خواب دیکھا کرتے ہیں۔ ان کی حکومت ہمیشہ قائم رہے۔

ایک خواب عوام کا بھی ہوا کرتا ہے۔
انہیں سکھ چین اور تحفظ میسر ہو۔
عوام جو خواب دیکھتے ہیں اس کی تکمیل ان کے اپنے ہاتھوں میں نہیں ہوا کرتی۔ ان کی تقدیر کے فیصلے ہمیشہ حکمرانوں کے ایوانوں میں ہوا کرتے ہیں۔ جن حکمرانوں نے زندگی میں کبھی بھوک نہ دیکھی ہو یا کبھی پیاس نہ سہی ہو ` وہ عوام کی بھوک اور پیاس کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟ یہ بات فرانس کی ملکہ کے ساتھ منسوب کی جاتی ہے کہ ” اگر لوگوں کو روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھا کر گزارہ کرلیں۔“ مگر دنیا کے تمام ایسے حکمران اپنے اپنے انداز میں یہی بات کہتے رہے ہیں جنہیں روٹی کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی اور وہ ہمیشہ کیک کھاتے رہے ہیں۔
وطن ِ عزیز پر جو طبقہ حکمران ہے وہ ایسے” نمائندگان جمہور“ پر مشتمل ہے جن کے لئے کھانے کے کیک بھی پیرس لندن یا نیویارک وغیرہ سے بن کر آتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کوئی ایسا سوٹ زیب تن نہیں فرماتے جس کی قیمت لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے کم ہو۔ مشہور یہ بھی ہے کہ ایک ہی سوٹ کو وہ چھ سات بار سے زیادہ نہیں پہنتے۔ اپنے سوٹوں کے بارے میں انہوں نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ انہیں شاپنگ کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ان کے قدر قدر دان انہیں تحائف سے لاد دیا کرتے ہیں۔
حکمرانوں کے قدر دانوں کا حلقہ بڑا وسیع ہوا کرتا ہے۔ وہ کبھی کسی حکمران کو اپنی حلال کی آمدنی فضول اخراجات پر ضائع کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ جہاںتک عوام کا تعلق ہے انہیں اپنی حلال کی آمدنی پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ مہینے میں ان دنوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ جب عوام کی جیب میں کچھ نہ کچھ خرچ کرنے کے لئے موجود ہوتا ہے ۔ باقی سارے دن وہ خواب دیکھنے میں گزارتے ہیں۔ اور اب تو خواب بھی روٹھ گئے ہیں۔ خواب دیکھنے کے لئے بھی سونا ضروری ہے۔ جن گھروں سے بجلی غائب ہو اور جہاں صرف فاقے آباد ہوں ان گھروں میں نیند کسے آتی ہوگی۔؟
خواب دیکھنے کے لئے بھی بجلی ضروری ہے۔
آج کے حکمران کیا خواب دیکھ رہے ہیں ۔؟
جس روز انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے جائیں ` ” غیب“ سے فرشتے اتریں اور حکمرانوں کو اگلی مدت کے لئے بھی حکومت کرتے رہنے کی ضمانت دے جائیں ۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے انہیں بس ایک فرشتے کا انتظار ہے جو انہیں یہ احساس دلائے دے کہ جینا عذاب نہیں۔

Scroll To Top