شہادتوں کا سلسلہ جاری وساری ہے

zaheer-babar-logoباجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب قائم چیک پوسٹ پر دہشت گروں کے حملے میں
2 فوجی جوان شہید جبکہ 4 کا زخمی ہونا پاک افغان سرحد کی تشویشناک صورت حال پھر بتا گیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک افغان سرحد پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر متعدد دہشت گردوں نے حملہ کیا تاہم پاک فوج نے بھر پور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 8 سے 10 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ جوابی کارروائی کے بعد فرار ہونے والے متعدد دہشت گردوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے جوانوں میں کیپٹن جنید اور سپاہی رہام شامل ہیں جبکہ اس واقعہ میں چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔“
سرحد پار سے رونما ہونے والے واقعات کی بنیادی وجہ پاک افغان سرحد پر افغان حکومت کی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد باآسانی پاکستانی سرحدوں پر حملہ کرنے میںکامیاب رہتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایک ست زائد مرتبہ افغان حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گی مگر تاحال خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ گزشتہ ہفتے بھی پاک افغان سرحدی علاقے سے دہشت گردوں کی خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں فائرنگ سے ایک فوجی جوان سپاہی محمد الیاس شہید ہوگئے تاہم پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کو بروقت اور بھرپور جواب دیا گیا جس میں 5 دہشت گرد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔
دراصل یہی وہ حالات رواں برس 15 جون کو پاک فوج نے خیبرایجنسی کے تمام علاقوں میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن خیبر 4 کا آغاز کیا ۔اب تک اس آپریشن کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر کالعدم جماعتوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حتمی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغان حکومت اپنی بنیادی زمہ داریوں کو ادا کرنے میں کامیاب نہیںہوتی۔ درپیش صورت حال کے سبب سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں کو روکنے کے لیے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے عمل کا آغاز ہوا، اس ضمن میں افغان حکومت کی جانب سے شدید مزاحمت بھی ہوئی مگر باڈ لگانے کا کام مسلسل جاری وساری ہے ۔
قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سیکورٹی فورسز ایک طرف علاقے کو کالعدم گررہوں سے پاک کرنے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری جانب قبائلی علاقوں کی تعمیر نو بھی وہ پیش پیش ہیں ۔ فاٹا میں قیام امن کا خواب کسی طور پر بھی کم اہمیت کا حامل نہیں یہی وجہ ہے کہ مسلح افواج اس کام کا پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ سرحد پر موجود مسلح گروہوں کے خلاف ٹھوس کاروائیاں نہ ہونے کے باعث صورت حال میں نمایاں بہتری سامنے نہیں آرہی۔ ماضی میں فاٹا کی شمالی وزیرستان، خیبر اور اورکزئی ایجنسیز سمیت 7 ایجنسیوں کو انتہاپسند گروپوںن کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا مگر اب ایسی صورت حال نہیں رہی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایک طرف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں اور دوسری جانب سرحدوں پر باڈ لگانے سے مسقبل قریب میں بڑی حد تک بہتری آنے کا امکان ہے، یقینا سرحدوں پر مکمل طور پر باڈ نصب ہوجانے کے بعد دہشت گردوں کی نقل و حرکت ختم ہوجائے گی اور پہاڑی مقامات پر چیک پوسٹس بنانے سے کالعدم گروہوں پر کڑی نظر رکھی جاسکے گی۔
افغانستان میںپاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔
حال ہی میں افغانستان میں تعینات پاکستانی سفارت خانے کے رکن کو نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے شہید کیا۔ پاکستان نے اس واقعہ پر افغانستان کے ساتھ بھرپور انداز میں احتجاج کیا جس پر افغان صدر نے پاکستانی سفارتکار کے قتل کی تحقیقات کرنے اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دینے کی یقین دہانی کروائی۔
کابل حکومت اپنی ناکامیوںکا اعتراف کرنے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کا وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہے۔اشرف غنی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے تیار نہیںکہ جب تک انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ کوشش نہ ہوگی ٹھوس پیش رفت ہونے کا امکان نہیں۔ اچھے اور برے طالبان کی تقیسم کسی کو بھی فائدہ نہیں دینے والی ۔ بظاہر یہ تجزیہ کسی طورپر غلط نہیں کہ اب تک انتہاپسندی کے خلاف اسی لیے قابو نہیں پایا جاسکا کہ خطے کے اہم ممالک طالبان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ اب یہ راز نہیں رہا کہ افغانستان میں مختلف مسلح گروہ مختلف ملکوں کے زیر اثر ہیں۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے سرحدوں پر باڈ لگانے کا سلسلہ شروع کیا جس پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ پاکستان کی جانب سے کئی بار کہا جاچکا کہ سرحدوں پر غیر قانونی نقل وحرکت کا خاتمہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کی بجائے بہتری کا باعث بنے گا۔
پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ مسقبل قریب میں تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ لازم ہے کہ ملکی سیاسی ومذہبی قوتیں پورے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنی سپاہ کے ساتھ شانہ بشانہ موجود رہیں۔ رواں برس متعدد بار افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جاچکے جن میں کئی فوجی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا تاہم ہر بار پاک فوج نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی میں دشمن کو خاموش ہونے پر مجبور کیا جس پر بجا طور پر اطمنیان کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top