نااہل وزیراعظم کے زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ ن کی طویل بیٹھک

  • جی ٹی روڈ بیانیہ پوری قوت سے آگے بڑھانے کا فیصلہ

مائنس فارمولے متعلق کوئی ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی ،نواز شریفلاہور( الاخبار نیوز) پیر کے روز سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کی زیر صدارت جاتی امرا میں پارٹی رہنماو¿ں کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنائ اللہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں شریف خاندان کے عدالتوں میں زیر سماعت کیسز زیر بحث آئے، اجلاس میں ناراض اراکین کو منانے پر بات ہوئی اور سیاسی جماعتوں سے روابط تیز کرنے پر بھی غور ہوا جب کہ اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ آئینی ترمیم اور حلقہ بندیوں پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اجلاس میں پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم نظر آئی اور مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کو لے کر شرکا میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہبازشریف اور احسن اقبال نے مفاہمت کی سیاست پر زور دیتے ہوئے نوازشریف کو مفاہمت کی سیاست کا مشورہ دیا، شہبازشریف نے کہا کہ محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف نقصان ہوگا جب کہ نوازشریف نے دونوں جانب کا مو¿قف سنا لیکن کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ذرائع نے بتایا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اداروں کے مبینہ طور پر آئینی حدود سے تجاوز پر آواز اٹھائی جائے گی، (ن) لیگ الیکشن میں تاخیر اور دھاندلی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی جب کہ پارٹی قیادت کی کردار کشی کی مہم کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس کے شرکا نے الیکشن کے بروقت انعقاد پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ الیکشن سیل قائم کرکے انتخابات کی بھرپور تیاری کی جائے گی، نوازشریف سمیت تمام رہنما اپنے اپنے حلقوں میں جلسے کریں گے۔ دریں اثناء نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ہمیشہ سے مفاہمت چاہتی ہے، نواز شریف بڑے پیمانے پر انتخابی مہم میں حصہ لیں گے، آج کی میٹنگ میں چودھری نثار شامل نہیں تھے، نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں سب نے تجاویز دیں، نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر جو بیانیہ دیا وہی پارٹی کا مو¿قف ہے۔رانا ثناء اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاناما کیس کے ججز میں سے کسی بھی جج کوحدیبیہ کیس میں بطورجج نہیں بیٹھنا چاہیے، جسٹس آصف سعید اگر کیس سنتے تو ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوتا۔

Scroll To Top