لاہور ہائیکورٹ شریف خاندان کی ملکیت اتفاق ٹیکسٹائل ملز نیلام کرنے کا حکم

  • ڈیفالٹر ملزکےخلاف 2016ءمیں 25کروڑ 33لاکھ 64ہزار کی ڈگری جاری کی گئی ، مالکان نے14کروڑ 32لاکھ 69ہزار ادا کیے، بقایا 11کروڑ 95ہزار کی رقم ادا نہیں کی جارہی‘ بنک کا موقف
  • رہن رکھی گئی زمین کی نیلامی کے لیے 15 دسمبر کو کارروائی کا آغاز کیا جائے، عدالت عالیہ، ہارون یوسف، یوسف عزیز، کوثریوسف، سائرہ فاروق،عائشہ ہارون گارنٹرز میں شامل

شریف خاندانلاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے شریف خاندان کی ملکیت اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو 15دسمبر کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم نے بینک کی جانب سے شریف خاندان کی مل کی نیلامی کے لیے درخواست کی سماعت کی ۔بینک کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہ نوازشریف کے قریبی عزیز نے 27کنال ایک مرلے پر مشتمل مل کو رہن رکھوا کر قرضہ حاصل کیا، قرض کی عدم ادائیگی پر اتفاق ٹیکسٹائل ملزکو2000 ءمیں ڈیفالٹر قراردیا گیا۔بینک کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل ملز کے مالکان نے کاروبار کے لیے قرض حاصل کیے، ڈیفالٹرہارون یوسف، یوسف عزیز، کوثریوسف، سائرہ فاروق،عائشہ ہارون نے قرض کے لیے گارنٹی دی، ڈیفالٹر اتفاق ٹیکسٹائل ملزکے خلاف 2016ءمیں 25کروڑ 33لاکھ 64ہزار کی ڈگری بھی جاری کی جاچکی ہے۔بینک کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہا کہ عدالتی ڈگری کے بعد اتفاق ٹیکسٹائل ملز مالکان نے14کروڑ 32لاکھ 69ہزار ادا کیے، ڈیفالٹر ملز نے ڈگری کی بقایا 11کروڑ 95ہزار کی رقم ادا نہیں کی جارہی۔بینک کے وکیل نے استدعا کی کہ رقم کی ریکوری کے لیے اتفاق اڈہ پر واقع اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو نیلام کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے بینک کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد شریف خاندان کی اتفاق ٹیکسٹائل ملز کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملز کی جانب سے رہن رکھی گئی زمین کی نیلامی کے لیے 15 دسمبر کو کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

Scroll To Top