سی سی آئی اجلاس سندھ کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم پر مشروط آمادگی

  • وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت الیکشن کمیشن اور ادارہ شماریات کے حکام کی شرکت
  • سندھ حکومت کا مردم شماری ریکارڈ چیک اور تصدیق کرانیکا حق تسلیم کر لیا گیا اور کہا گیا کہ تصدیق کے نتائج چیک کرانے کا فارمولا تمام صوبوں پر لاگو ہو گا

سندھ کی نئی حلقہ بندیوں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں سندھ نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم پر مشروط آمادگی پر اتفاق کیا ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے سی سی آئی کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی سمیت الیکشن کمیشن اور ادارہ شماریات کے حکام نے بھی شرکت کی۔سی سی آئی اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام کی  جانب سے بریفنگ دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن حکام نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بتایا کہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانا مشکل ہو گا لہذا حکومت نئی حلقہ بندیوں کے لیے فوری طور پر قومی اسمبلی سے ترمیم منظور کروائے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ ہم مردم شماری نتائج اسی صورت میں قبول کریں گے جب ایک فیصد مردم شماری بلاکس کی تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے اور اس حوالے سے عوامی خدشات دور کیے جائیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے مسائل وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئے، سندھ سمیت تمام صوبوں کی تجاویز پر عمل ہوتا تو مسائل پیدا نہ ہوتے۔ادارہ شماریات کے حکام نے غیرملکیوں کا ڈیٹا جاری کرنے کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اجلاس کے دوران بتایا کہ غیر ملکیوں کی درست تعداد مردم شماری کے مکمل نتائج سے پہلے نہیں بتا سکتے۔مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں سندھ نے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم منظور کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے جب کہ مردم شماری نتائج کا ایک فیصد تیسرے فریق سے چیک کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔سی سی آئی اجلاس میں سندھ حکومت کا مردم شماری ریکارڈ چیک اور تصدیق کا حق تسلیم کر لیا گیا اور کہا گیا کہ تصدیق کے نتائج چیک کرانے کا فارمولا تمام صوبوں پر لاگو ہو گا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ شکر ہے کہ حکومت کو دیر سے سہی لیکن بات سمجھ تو آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی اور آئینی موقف اپنایا اور نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل کی حمایت کریں گے۔خورشید شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل 2017 کی مکمل حمایت کریں گے۔

Scroll To Top