شریف خاندان کو ایک اور کڑے امتحان کا سامنا: عدالت عظمیٰ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کی سماعت آج کریگی

  • گزشتہ ہفتے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے، بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں
  • مقدمے میں نواز شریف‘ شہباز شریف‘ حمزہ شہباز اور مریم صفدر نامزد ہیں جو کہ سواارب روپے کی منی لانڈرنگ سے متعلق ہے،لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کیخلاف یہ ریفرنس خارج کر دیا تھا، نیب نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ریفرنس دوبارہ کھولنے کی اجازت طلب کر رکھی ہے

شریف خاندان

اسلام آباد (ایجنسیاں)سپریم کورٹ آف پاکستان کا 3 رکنی بینچ (آج) پیر13 نومبر سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرےگا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔اس سے قبل ملزمان نے 2011 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ریفرنس ختم کیا جائے اور دوبارہ تحقیقات نہ کرائی جائیں، جس پر 2 رکنی بینچ نے منقسم فیصلہ دیا تو ریفری جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس دوبارہ تحقیقات کےلئے نہیں کھولا جا سکتا۔بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں عملدرآمد بینچ کے رو برو 21 جولائی کو نیب حکام نے پیش ہوکر آگاہ کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر مشاورت کر رہے ہیں تاہم نیب حکام نے معاملے پر عدالت عظمیٰ سے رجوع نہیں کیا۔شیخ رشید نے عدالت ِ عظمیٰ میں نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی تھی جسے پانچ رکنی بینچ نے شریف خاندان کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران سنا تاہم اس سے ایک روز قبل 14 ستمبر 2017 کو نیب حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے اور 20 ستمبر کو نیب نے لاہور ہائی کورٹ کا حدیبیہ پیپرز ملز پر دوبارہ تحقیقات نہ کرنے کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا۔سپریم کورٹ میں تاحال حدیبیہ پیپرملزکیس سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے 13 نومبر کو مقرر کردیا گیا، جس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا ۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان حدیبیہ پیپر ملز کی آڑ میں سواارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کرے گا‘مقدمے میں نواز شریف‘ شہباز شریف‘ حمزہ شہباز اور مریم صفدر نامزد ہیں۔ حدیبیہ ریفرنس سترہ سال پہلے سن دوہزارمیں وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے اعترافی بیان پرنیب نے دائرکیاتھا۔انہوں نے بیان میں نوازشریف کے دباو¿پرشریف فیملی کے لیے ایک ارب چوبیس کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ اورجعلی اکاو¿نٹس کھولنے کا اعتراف کیاتھا۔ شریف برادران کی جلاوطنی کے سبب کیس التواء میں چلا گیا تھا۔ 2011 میں شریف خاندان نے اس کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا‘ عدالتِ عالیہ نے احتساب عدالت کوکیس پرمزیدکارروائی سے روکا۔ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ کے درمیان نیب کی اہلیت پر فیصلہ ایک ایک ووٹ سے ٹائی ہوگیا‘ مئی دوہزارچودہ میں ریفری جج نے ٹیکنیکل بنیادوں پرشریف خاندان کے خلاف کیس ختم کردیا اور اس وقت نیب نےفیصلےکو چیلنج نہ کر نے کا فیصلہ کیا۔پاناماکیس کی تحقیقات کےدوران جے آئی ٹی کےہاتھ مزیدشواہدلگے‘ جس کے بعد سپریم کورٹ کےحکم پرنیب نےحدیبہ کیس کھولنےکی درخواست دائر کردی۔ اور اب پاکستان کی تاریخ کے اس بڑے مقدمے کی سماعت کل سے شروع ہوگی۔دوسری جانب مریم صفدر کے مسلسل عدلیہ مخالف بیانات پرکل ان کے خلاف توہین عدالت کیس کی بھی سماعت ہونے جارہی ہے۔حسن اور حسین کوتیس روز میں پیش ہونے کی احتساب عدالت کی ڈیڈ لائن بھی ختم ہوگئی ہے‘ بارہ اکتوبر کو اشتہاری قرار دینے کا نوٹس دیا گیا تھا۔

Scroll To Top