پاکستان میں ڈرون حملے

dron


حسن سلیم

ایک وقت تھا جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتا تو اپنی افواج کو تیا ر کرتا، گولہ بارود کے ذخائر جمع کرتا اور جنگ میں ضرورت پڑنے والی تمام اشیاءکا بندوبست کرکے اپنے دشمن پر حملہ کردیتا۔ اپنے وسائل جنگ میں جھونک دینے کے بعد وہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرتا جس سے نہ صرف اس کی معیشت پر اثر پڑتا بلکہ جانی ہ مالی نقصان بھی اٹھا نا پڑتا۔ دوسری طرف جس ملک پر حملہ کیا جاتا وہ ملک بھی اگر مکمل طور پر تباہ نہ ہوتا تو یقینا اتنا تباہ ہو جاتا کہ اسے دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے میں کافی عرصہ لگ جاتا۔ 9/11ءکے حملے کے بعد امریکہ نے بلاشبہ مسلم ممالک پر حملہ کرنے میں کوئی دیر نہیں کی اور تباہی مچا دی۔عسکری ماہرین نے روایتی حملے کے علاوہ غیر روایتی حملے کرنے کی بھی تجویز امریکی حکومت کے سامنے رکھی اور اسی طرح غیر روایتی جنگی طریقہ کار بھی جنگ میں استعمال ہونے لگے۔ ان غیر روایتی حملوں میں دشمن کے خلاف ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔ اگر ڈرون کی بات کی جائے تو اس کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، یہ پہلے دشمن کے خلاف جاسوسی کرنے اور اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ آج تقریباً ہر ترقی یافتہ ملک ڈرون طیارے بنا رہا ہے لیکن جنگ میں حملہ کرنے والے ڈرون طیارے صرف چند ممالک کے پاس ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔آج دنیا میں بچوں کے کھیلنے والے ڈرون سے لیکردشمن پر تباہی مچانے والے ہر طرح کے ڈرون طیارے بنائے جا رہے ہیں اور خوب استعمال ہو رہے ہیں۔
امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف فوجی حملوں سے کہیں زیادہ ڈرون حملے کئے ہیں اور بغیر کسی افرادی استعمال یا جانی نقصان کے وہ نتائج حاصل کئے ہیں جو شائد بڑے فوجی حملوں سے بھی حاصل نہ کر سکتا۔یہ ڈرون طیارے ہزاروں فٹ بلندی پر اڑتے ہوئے انتہائی طاقتور کیمروں اور دوسرے جاسوسی کے آلات سے لیس ہونے کے علاوہ تباہ کن میزائیل بھی لے جانے اورمطلوبہ ہدف کو تباہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ طیارے امریکی خفیہ ایجنسی CIA کے زیر استعمال ہوتے ہیںاور ان کا عملہ اس فیلڈ میں مہارت رکھتا ہے جس میں پائلٹ اور انجینئر شامل ہوتے ہیں جو طیارے کو اڑانے اور اس کی دیکھ بھال کے زمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ طیارے کسی بھی ایئر بیس سے ایک عام جہاز کی طرح اڑائے جاتے ہیں اور ان کا گراﺅنڈ اسٹیشن اسے دوران پرواز کنٹرول کرتا ہے۔ یہ طیارہ براہ راست سیٹیلائیٹ کے ذریعے اس گراﺅنڈ اسٹیشن سے رابطے میں ہوتا ہے جہاں اس کا عملہ اس میں لگے کیمروں کے ذریعے علاقے کی مکمل معلومات براہ راست لے رہا ہوتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس طیارے میں لگے کیمرے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ہزاروں فٹ بلندی پر اڑتے ہوئے نیچے زمین پر چلنے والی گاڑی اور اس میں بیٹھے افراد کو دیکھا جا سکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کے خلاف یہ طیارے انتہائی کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں اور کئی بار چلتی گاڑی کو اس طیارے سے انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ڈرون طیارے میں لگے کیمرے کی مدد سے پیچھے بیٹھے عملے کے افراد ہر چیز براہ راست سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ریکارڈنگ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب یہ اپنے ہدف کے بارے میں ہر طرح سے یقین کر لیتے ہیں تو وہیںسے ڈرون طیارے میں لگے میزائیل فائر کرکے ہزاروں کلومیٹر دور اپنے ہدف کو تباہ کر دیتے ہیں۔ان کیمروں کی مدد سے دن اور رات یکساں طور پر علاقے کو دیکھا جا سکتا ہے اور معلومات لی جا سکتی ہیں۔ بلا شبہ یہ دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کامیابی حا صل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے جس کی مدد سے دور بیٹھے اپنے دشمن کو ہلاک کیا جاسکتاہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف عام آپریشن کی بجائے ڈرو ن حملوں پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
سب سے پہلے امریکہ نے افغانستا ن میں اپنے دشمنوں کے خلاف ڈرون طیاروں سے جاسوسی کی اور اہم طالبان لیڈروں کے خلاف معلومات حاصل کیں ۔ جب مکمل معلومات حاصل ہو گئیں تو موقع دیکھ کر حملے شروع کر دئیے جس سے امریکہ طالبان لیڈروں اور اہم دہشتگردوں کو ختم کرتا چلا گیا۔ جوں جوں جنگ کا دائرہ پھیلتا چلا گیا اسی حساب سے ڈرون حملوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ دہشتگردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پھیل گئی اور امریکہ نے الزام لگایا کہ افغانستان میں ہونے والے حملہ آوروں کے ٹھکانے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔امریکہ نے پاکستان کو چونکہ اس جنگ میںواحد"Non NATO Ally" اور "Front Line State" کا درجہ حاصل تھااس لئے براہ راست حملے نہیں کئے لیکن ڈرون حملوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ڈرون حملے کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سلسلے میںبش انتظامیہ نے پاکستان میں پہلاڈرون حملہ18جون2004ءکو جنوبی وزیرستان میں وانا کے مقام پر کیا جس میں تحریک طالبان کے بانی اور پہلے امیر نیک محمد وزیر کو ہلاک کیا۔ اس حملے میں کل 6-8افراد ہلاک ہوئے جس میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے کے بعد پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کہ ایک سلسلہ چل پڑا جو کہ اوبامہ انتظامیہ کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ڈرون حملے2010ءمیں اوبامہ انتظامیہ کے دور میںہوئے جوکہ 122تھے جن میں امریکی اعداد و شمار کے مطابق 788ہائی پروفائل دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ان میں جو ہائی پروفائل دہشتگرد پاکستان میں ہلاک کئے گئے ان میں بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور ملا منصور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں61 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ یہ سلسلہ2004 ءسے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ اس سال بھی ملک میں5 ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ ابھی تک کل 406 ڈرون حملے ہوئے ہیں جن میں 2515 دہشتگردوں کے علاوہ ہزاروں عام شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیںجن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ پاکستان حکومت نے ہمیشہ ان ڈرون حملوں کی پرزور مذمت کی ہے اور امریکہ سے ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کچھ لوگ حکومت پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیںکہ حکومت کی منشاءپر ہی حملے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کسی بھی ملک میں اس کی مرضی کے خلاف ڈرون حملے کرنااس کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ ہے اور کوئی ملک اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ کیا جائے ۔پاکستان حکومت نے ہر دور میں ان حملوں کی پرزور مذمت کی ہے اور امریکہ سے حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں اور نیٹو سپلائی لائن بھی بند کرنے کی بات ہوئی ہے۔ڈرون حملوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی پالیسی میں یکسانیت نہیں ہے اور دونوں ممالک ڈرون حملوں کی وجہ سے ایک پیج پر نظر نہیں آتے۔ دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں دونوں ممالک ، خاص کر پاکستان نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ دوسری طرف افغانستان میں موجود امریکہ مشکلات کا شکار ہے۔ پاک فوج نے فاٹا اور دیگر شہروں کو دہشتگردی کے کینسر سے کافی حد تک نجات دلا دی ہے اور ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں نمایا ں کمی کر دی ہے لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکہ ابھی تک افغانستان میںنیٹو افواج پر ہونے والے طالبان حملوں کو نہیں روک پایا ہے۔ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دباﺅ کی وجہ سے امریکہ ڈرون حملے بند کرنے پر مجبور ہوا ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں بھی امریکہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا جس سے پاکستان کے عام شہری نقصان اٹھائیں۔
hassan.salimkhan24@gmail.com
Phone # 0332-2179171

Scroll To Top