غداروں کا نشیمن

تحریر ۔ غلام اکبر

جسمانی بے بسی کے باوجود اسد کا ذہن بے بس نہ تھا ۔ اس نے آہستہ سے اپنا پاو¿ں فرش پر سے اوپر اٹھایا اور اندازے سے پیچھے کر کے پورے زور سے جوتے کی ایڑھی اس کے پاو¿ں پر ماری ۔ خوش قسمتی سے ایڑھی کا دباو¿ اس کے پاو¿ں کے اس حصے پر پڑا جہاں انگوٹھے کی ہڈی تھی ۔ توقع کے عین مطابق اس کی گرفت ایک لمحے کیلئے ڈھیلی پڑی اور اسی لمحے میں اسد نے پوری طاقت سے اپنے جسم کو گھمایا ۔ حملہ آور کا شکنجہ ٹوٹ گیا اور اسد چیتے کی طرح اچھل کر گھوما لیکن اس کا مکہ ہوا میں لہرا کر رہ گیا کیونکہ مخالف بلا کی پھرتی سے جھک گیا تھا اور جھکنے کے ساتھ ہی اس کا مکہ گولی کی طرح اسد کے پیٹ پر پڑا ۔ اسد نے کراہ کر اپنا پیٹ پکڑ لیا لیکن شدید درد کے باوجود وہ دائیں طرف مڑ کر دوسرے مکے کی زد سے نکل گیا ۔
اچانک اسے احساس ہوا کہ مخالف فرش پر پڑے ہوئے پستول پر لپکنے والا ہے ۔ اس احساس کے ساتھ ہی اسد کا جسم گیند کی طرح اچھلا اور مخالف پر گرا ۔ دونوں ایک دوسرے پر قابو پانے کیلئے جدوجہد میں لڑھکتے ہوئے کرسی کے قریب پہنچ گئے ۔ جہاں دوسرے آدمی کا بے حس و حرکت جسم پڑا تھا ۔
اسد اپنے قوی ہیکل مخالف کو جسمانی طور پر مغلوب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا لیکن یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ فولاد کی دیوار سے گتھم گتھا ہو ۔ اچانک اس کی نظر مردہ آدمی کے بے جان ہاتھ پر پڑی اور اس کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔ اس نے زور آزمائی کے دوران اپنے مخالف کو یہ احساس ہونے دیا کہ وہ مغلوب ہو رہا ہے اور اسی دوران اس کا ایک ہاتھ بڑھتا بڑھتا مردہ آدمی کے بے جان ہاتھ تک پہنچ گیا ۔ اس کی گردن پھر مخالف کی گرفت میں آچکی تھی اوروہ اسد کو قابو کرنے کیلئے پورا زور لگا رہا تھا ۔ اسد نے آہستہ آہستہ مردہ آدمی کے بے جان ہاتھ سے پستول اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ اس کی گردن کے گرداب شکنجہ اتنا مضبوط تھا کہ اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی ۔ اس نے پوری طاقت سے یکے بعد دیگرے اپنے جسم کو کئی جھٹکے دیئے جیسے اسے بجلی کے جھٹکے لگ رہے ہوں ۔ اس کے مخالف کی سانسیں زور لگاتے لگاتے پھول گئی تھیں ۔ اس اثناءمیں اسد اپنے آزاد بازو کو ایسے زاویے کی شکل دے رہا تھا کہ پستول کا رخ مخالف کے سر کی طرف ہو سکے ۔ اچانک شاید اس نے اسد کے ہاتھ میں پستول دیکھ لیا ۔ ایک دم بدحواس ہو کر اس نے اسد کی گردن سے اپنا ایک ہاتھ نکالا اور پستول پکڑنے کی کوشش کی ۔ اسد پورے زور سے نیچے کی طرف پھسلا اور اس کی گرفت سے نکل گیا ۔ اس نے اسد پر چھپٹنا چاہا لیکن اب موت اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ پہلی گولی اس کے پیٹ اور دوسری سینے میں لگی اور وہ بے جان ہو کر گر پڑا ۔
اسد چند لمحے ٹکٹکی لگائے اسے دیکھتا رہا ۔ پھر اس نے اپنی پیشانی پر سے پسینہ پونچھا اور اٹھ کر ٹیلیفون کی طرف بڑھا ۔
چند لمحے بعد وہ کرنل مختار سے کہہ رہا تھا ” سکیورٹی پولیس کو مطلع کر دو کہ دو بھاری بھرکم لاشیں میرے کمرے میں ان کا انتظار کر رہی ہیں “ ۔
” کیا مطلب ؟ “ کرنل مختار نے حیرت سے پوچھا ۔
” شام کو بتاو¿ں گا ۔ “ اسد نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے جواب دیا ” اس وقت میرا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے “ ۔
٭٭٭٭
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ اسد نے فائل ایک طرف رکھ کر ریسیوراٹھایا ۔
” اسد ! میں مختار بول رہا ہوں “ ۔ اس کی آواز گھبرائی ہوئی تھی ۔
” خیریت تو ہے ؟ “ اسد نے پوچھا ۔
” خیریت ہی تو نہیں ۔ بریگیڈیئر عبداللہ دفتر سے گھر جارہے تھے کہ ان کی کار پر مشین گن سے فائرنگ کی گئی ۔ ایک گولی بریگیڈیئر کی پسلیوں کو توڑتی ہوئی نکل گئی ۔ میں ہسپتال سے بول رہا ہوں ۔ ا ن کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن وزارت دفاع کا موڈ بہت خراب ہے ۔ کمانڈر انچیف نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تین دن کے اندر پر اسرار حملہ آوروں کا سراغ لگایا جائے ۔ ورنہ سکریٹ سروس کو نااہل قرار دیدیا جائے گا ۔
” مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا ۔ ان پر گولیاں کیسے چلائی گئیں ؟ “ اسد نے اپنی آواز پر قابو پاتے ہوئے پوچھا ۔
” کچھ اندازہ نہیں ۔ ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ۔ بریگیڈیئر عبداللہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئے ۔ ان کی کار کھمبے سے ٹکراتے ٹکراتے رہ گئی ۔ غالباً ڈرائیور نے گولیوں کا نشانہ بننے سے پہلے بریک لگا دی تھی ۔ فائرنگ کی آواز سن کر قریب سے آدمی بھاگے آئے ۔ بریگیڈیئر عبداللہ فوجی وردی میں تھے ۔ انہیں نیم جان حالت میں دیکھ کر ایک آدمی نے فوراً ہسپتال ٹیلیفون کیا “ ۔
” اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حملہ آور یہ یقین کر کے بھاگ گئے کہ بریگیڈیئر عبداللہ ختم ہو چکے ہیں ۔ “ اسد نے کہا ۔
” یقیناً ایسا ہی ہوا ہو گا ¾ لیکن میں بہت پریشان ہوں “ ۔
” تم نے جائے واردات کا معائنہ کیا ؟ “ اسد نے پوچھا ۔
” ہاں میں ابھی وہیں سے آرہا ہوں ۔ صرف دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ڈرائیور نے موڑ پر کار گھمانے کیلئے رفتار کم کی ہو اور وہاں حملہ آور تیار کھڑے ہوں یا پھر قریب سے گزرتی ہوئی کار میں سے حملہ کیا گیا ہو ۔ “ مختار نے جواب دیا ۔
” دوسری صورت زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ مشین گنوں سے مسلح ہو کر شارع عام پر کھڑے ہونے کی غلطی افگر یا وزف کے ایجنٹ نہیں کر سکتے “ ۔
” تم فوراً یہاں پہنچ جاو¿ ۔ اتنی دیر میں شاید بریگیڈیئر عبداللہ کو ہوش آ جائے ۔ وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا ہوا ۔ “ مختار نے کہا اور اسد بولا ۔
” میں بیس منٹ میں پہنچ رہا ہوں ۔ تم ملٹری ہسپتال سے بول رہے ہو ؟ “
”ہاں ، تم جلدی پہنچنے کی کوشش کرو “ ۔
٭٭٭٭
ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ کے باہر کرنل مختار بے تابی سے اسد کا انتظار کر رہا تھا ۔
” بریگیڈیئر کو ہوش آگیا ہے ۔ ایک گولی ان کی کمر میں لگی ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں نے ہمیں پہلے نہیں بتایا ۔ اب وہ بریگیڈیئر کو آپریشن تھیٹر لے گئے ہیں تاکہ یہ گولی نکال سکیں “ ۔
” تمہاری کچھ بات ہوئی ہے ان سے ؟ “ اسد نے پوچھا ۔
” انہوں نے صرف یہ بتایا کہ کار دائیں جانب مڑ رہی تھی کہ سامنے سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی ۔ کوئی کار قریب سے نہیں گزری اور نہ ہی انہیں کوئی آدمی نظر آیا “ ۔
” کیا مطلب ؟ “ اسد اچانک چونک اٹھا ۔
” مطلب خود میری سمجھ میں نہیں آرہا ۔ “ مختار کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی ۔
” گولیاں آسمان سے نہیں آسکتیں “ ۔ اسد کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔ پھر اچانک اس کی آنکھوں میں تیز چمک پیدا ہوئی ” تم نے جائے واردات کا مکمل طور پر معائنہ کیا ہے ؟ “
” زیادہ وقت نہیں تھا ۔ میں نے صرف کار کا رخ دیکھا اور آس پاس نظر دوڑا کر جائزہ لیا کہ …. “ مختار اچانک خاموش ہو گیا ۔ اس کے ماتھے پر تیوریاں نمودار ہوئیں ” میرے خدا ! میں نے اس امکان کے بارے میں سوچا بھی نہیں ۔ اگر گولیاں چلانے والے نظر نہیں آئے اور نہ ہی قریب سے کوئی کار گزری تو ایک ہی صورت رہ جاتی ہے ۔ گولیاں یقیناً ایسی جگہ سے چلائی گئی ہوں گی جہاں وہ چھپ سکتے ہوں ۔ اس صورت میں انہیں اس بات کا یقین ہو گا کہ بریگیڈیئر کی کار ادھر سے ہی گزرے گی “ ۔
” بریگیڈیئر عبداللہ دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر اسی راستے سے گزرتے ہوں گے ۔ “ اسد نے مسکرا کر کہا ” اب تم مجھے صرف یہ بتاو¿ کہ کیا وہاں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں سے چھپ کر کار پر گولیاں چلائی جا سکتی ہوں ؟ “
” میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ بریگیڈیئر کی کار Open Convertible ( اوپن کنور ٹیبل) ہے ۔ مجھے جان کینڈی کا قتل یاد آ گیا ہے ۔ ہمیں فوراً وہاں پہنچنا چاہیے ۔ “
” تمہارا مطلب ہے کہ وہاں قریب کوئی ایسی عمارت ہے جہاں سے کار پر گولیاں چلائی جا سکتی ہیں ؟ “ اسد نے پوچھا ۔
” وہاں موڑ پر ایک تین منزلہ عمارت ہے ۔ دوسری اور تیسری منزل سے بڑی آسانی کے ساتھ نیچے گزرنے والی کار کو مشین گنوں کی زد میں لیا جا سکتا ہے ۔ دوسری منزل اور کار کے درمیان زیادہ سے زیادہ ساٹھ فٹ کا فاصلہ ہو گا ۔ تیسری منزل مزید دس فٹ اونچی ہے “ ۔
اسد نے مختار کی طرف دیکھا اور کچھ سوچے بغیر کہا ” تم فوری طور پر اپنے آدمیوں کو ہدایت کر دو کہ اس عمارت کا محاصرہ کر لیا جائے ۔ ہمارے وہاں پہنچنے تک تمہارے آدمی بھی وہاں پہنچ جانے چاہئیں ۔“
” تم اپنی کار میں چل کر بیٹھو ۔ میں فون پر ہدایات دے کر پہنچتا ہوں ۔ “ کرنل مختار بولا ۔
اچانک اسد کو جیسے کچھ یاد آگیا ” تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ تھے ؟ “
” ڈرائیور کو جو گولیاں لگیں وہ ہلکی مشین گن سے چلائی گئی تھیں ۔ ہمیں وہاں دو مختلف قسم کی گولیاں ملی ہیں ۔ “ مختار نے اندر کی طرف بڑھتے ہوئے جواب دیا ۔
٭٭٭٭٭
اسد اور مختار نے کار میںسے اتر کر چاروں اطراف کا جائزہ لیا۔ مختار کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ”ہمارے آدمی پہنچ چکے ہیں۔“ اس نے اسد کی طرف جھک کر کہا۔
”جب کار پر فائرنگ کی گئی تو کار موڑ کے کس زاوےے پر تھی؟“ اسد نے سامنے کی تین منزلہ عمارت پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
مختار نے پوری تفصیل سے اسد کو سب کچھ بتایا۔ اسد کچھ سوچ کر عمارت کے صدر دروازے کی طرف بڑھا۔ مختار بھی اس کے پیچھے پیچھے لپکا۔
عمارت کا چوکیدار خاصا معمر آدمی تھا۔ اسد نے بغور اس کی سفید داڑھی، جھکے ہوئے شانوں، کانپتے ہوئے ہاتھوں اور آنکھوں پر چڑھے ہوئے عینک کے موٹے شیشوں کا جائزہ لیا۔
”آپ کس سے ملنے آئے ہیں؟“ چوکیدار نے قدرے توقف کے بعد پوچھا۔
”ہم مسعود بن داﺅد سے ملنا چاہتے ہیں۔“ اسد نے جیب میں سے سگریٹ نکالتے ہوئے کہا۔
”اس نام کا کوئی آدمی یہاں نہیں رہتا۔“ چوکیدار نے اپنی بوڑھی آواز میں کہا۔ وہ مڑنے ہی والا تھا کہ اسد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
”آپ ہمیں دوسری منزل پر لے چلئے۔ ہمارے پاس مسعود بن داﺅد کا جو پتہ ہے اس کے مطابق وہ اسی عمارت کی دوسری منزل پر رہتے ہیں۔ وہ میرے چچا کے لڑکے ہیں۔“
”آپ غلط پتے پر آگے ہیں۔ یہ عمارت تین ہفتوں سے خالی ہے۔ اس میں کوئی نہیں رہتا۔“ چوکیدار نے کہا۔
”تین ہفتوں سے خالی ہے؟“ اسد نے چونکتے ہوئے مختار کی طرف دیکھا ”وہ کیوں؟“
”اس عمارت کی کئی برس سے مرمت نہیں ہوئی۔ مالک نے مرمت کیلئے اسے خالی کرا لیا ہے۔ خطرہ تھا کہ کہیں کوئی چھت وغیرہ نہ گر پڑے۔ دوسری منزل کی چھت اوردیواروں میں شگاف بھی پڑچکے ہیں۔“ چوکیدار نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے عمارت کی طرف دیکھا ”میں بیس برس سے یہاں کام کررہا ہوں۔“
اسد اور مختار معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر اسد کی بجائے مختار نے ذرا بارعب آواز میں کہا۔
”آپ کو معلوم ہے کہ یہاں دوپہر کو گولیاں چلی تھیں؟“
بوڑھے چوکیدار نے مختار کی طرف دیکھ کر سرہلایا۔
”ہاںمعلوم ہے۔ میں کھانا کھانے کیلئے گھر گیا تھا۔ واپس آیا تو پتہ چلا۔ سنا ہے وہ فوج کے بہت بڑے افسر تھے۔“
”میںفوج کے اس بڑے افسر کا چھوٹا بھائی ہوں۔“ مختار نے مسکراتے ہوئے کہا ”اور مجھے شبہ ہے کہ گولیاں اس عمارت میں سے چلائی گئی تھیں۔“
چوکیدار ایک دم چونک پڑا ”نہیں نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں سب دروازے بند کر کے گیا تھا۔ واپس آیا تودروازے جوں کے توں تھے۔ کوئی اوپر جاہی نہیں سکتا۔“
”ہم اوپر جا کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ گولیاں کس جگہ سے چلائی گئیں۔“ مختار نے چوکیدار کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے خشک آواز میں کہا۔
”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔“ چوکیدار نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”ہم اپنی غلط فہمی رفع کرنے آئے ہیں۔“ مختار نے آگے بڑھتے ہوئے کہا ”تم ہمیں اوپر لے چلو۔“
چوکیدار ہچکچایا۔ پھراس نے ٹھنڈی سانس لے کر جیب سے چابیوں کا گچھا نکالا۔ اسد بڑے غور سے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اسد اور مختار چوکیدار کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں طے کررہے تھے۔ آخری سیڑھی پر چوکیدار رکا اور مڑکر کہا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top