تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_bیہ زمانہ تمام عالم اسلامی میں بڑا نازک اور خطرناک زمانہ تھا‘ ہر ایک ملک اور ہر ایک صوبہ میں جابجا لڑائیاں اور فسادات برپا تھے‘ واسط میں ابن ہبیرہ کو مغلوب کرنا آسان نہ تھا‘ ادھر مروان بن محمد اموی خلیفہ شام میں موجود تھا‘ حجاز میں بھی طوائف الملوکی برپا تھی‘ مصر کی حالت بھی خراب تھی‘ اندلس میں عباسی تحریک کا کوئی مطلق اثر نہ تھا‘ جزیرہ و آرمینیا میں اموی سردار موجود تھے اور عباسیوں کے خلاف تحریک پر آمادہ ہوگئے تھے‘ خراسان بھی پورے طور پر قابو میں نہ آیا تھا‘ بصرہ میں بھی عباسی حکومت قائم نہ ہو سکتی تھی‘ حضر موت و یمامہ و یمن کی بھی یہی حالت تھی۔
عبداللہ سفاح کے خلیفہ ہوتے ہی آل ابی طالب یعنی علویوں میں جو اب تک شریک کار تھے ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی تھی اور وہ اس نتیجہ پر حیران اور ناراض تھے کیونکہ ان کو اپنی خلافت کی توقع تھی‘ عباسیوں کی اس کامیابی میں سب سے بڑا دخل محمد بن حنفیہ کے بیٹے ابوہشام عبداللہ کی اس وصیت کو ہے جو انہوں نے مرتے وقت محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے حق میں کی تھی‘ اس وصیت کی وجہ سے شیعوں کے فرقہ کیسانیہ کا یہ عقیدہ قائم ہوا کہ سیدنا علی ابی طالب کے بعد محمد بن حنفیہ امام تھے‘ ان کے بعد انکے بیٹے ابوہشام عبداللہ امام ہوئے‘ ان کے بعد محمد بن علی عباسی ان کے جانشین اور امام تھے‘ اس طرح شیعوں کی ایک بڑی جماعت شیعوں سے کٹ کر عباسیوں میں شامل ہو گئی اور علویوں یا فاطمیوں کو کوئی موقع عباسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا نہ مل سکا‘ وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے۔
جب مروان بن محمد آخری اموی خلیفہ مارا گیا تو حبیب بن مرہ حاکم بلقائ نے عبداللہ سفاح کے خلاف خروج کیا اور سفید جھنڈے لے کر نکلا‘ ادہر عامل قنسرین بھی اٹھ کھڑا ہوا حالانکہ اس سے پہلے وہ عبداللہ بن علی عباسی کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا‘ اہل حمص بھی اس کے شریک ہو گئے‘ ادہر آرمینیا کے گورنر اسحاق بن مسلم عقیلی نے عباسیوں کے خلاف خروج کیا‘ ان تمام بغاوتوں کو فرو کرنے کے لیے عبداللہ سفاح نے اپنے سرداروں اور رشتہ داروں کو بھیجا اور بتدریج کامیابی حاصل کی‘ لیکن یزید بن عمر بن ہبیرہ ابھی تک واسط پر قابض و متصرف تھا اور کوئی سردار اس کو مغلوب و مفتوح نہ کر سکا تھا‘ آخر مجبور ہو کر یزید بن عمر بن ہبیرہ سے ابوجعفر منصور اور عبداللہ سفاح نے جا کر صلح کی اور یزید بن عمر بیعت پر آمادہ ہوا لیکن ابو مسلم نے خراسان سے عبداللہ بن سفاح کو لکھا کہ یزید بن عمر کا وجود بے حد خطرناک ہے اس کو قتل کر دو‘ چنانچہ دھوکہ سے منصور عباسی نے اس کو قتل کرا دیا اور اس خطرہ سے نجات حاصل کی۔
اب کوفہ میں ابومسلمہ باقی تھا اور بظاہر کوئی موقع اس کے قتل کا حاصل نہ تھا کیونکہ عباسی اس ابتدائی زمانہ میں شیعان علی کی مخالفت اعلانیہ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ ابوسلمہ کے متعلق تمام حالات لکھ کر ابومسلم کے پاس خراسان بھیجے گئے اور اس سے مشورہ طلب کیا گیا‘ ابومسلم نے لکھا کہ ابوسلمہ کو فوراً قتل کرا دینا چاہیئے‘ اس پر عبداللہ سفاح نے اپنے چچا داﺅد بن علی کے مشورہ سے ابومسلم کو لکھا کہ اگر ہم اس کو قتل کریں گے تو ابوسلمہ کے طرف داروں اور شیعان علی کی جانب سے اعلانیہ مخالفت اور بغاوت کا خطرہ ہے‘ تم وہاں سے کسی شخص کو بھیج دو جو ابوسلمہ کو قتل کر دے‘ ابومسلم نے مراد بن انس کو ابوسلمہ کے قتل پر مامور کر کے بھیج دیا‘ مراد نے کوفہ میں آکر ایک روز کوفہ کی کسی گلی میں جب کہ ابوسلمہ جا رہا تھا اس پر تلوار کا وار کیا‘ ابوسلمہ مارا گیا‘ مراد بن انس بھاگ گیا اور لوگوں میں مشہور ہوا کہ کوئی خارجی ابوسلمہ کو قتل کر گیا۔
اس قتل کے بعد ابومسلم نے اسی طرح سلیمان بن کثیر کو بھی قتل کرا دیا یہ وہی سلیمان بن کثیر ہے جس نے ابومسلم کو شروع میں وارد خراسان ہونے پر واپس کرا دیا تھا اور ابوداﺅد نے ابومسلم کو راستے سے واپس بلایا تھا‘ غرض ابومسلم نے چن چن کر ہر ایک اس شخص کو جو اس کی مخالفت کر سکتا تھا قتل کرا دیا۔
بنو امیہ کا عباسیوں کے ہاتھ سے قتل عام
خلافت اسلامیہ کو جو قوم یا خاندان وراثتاً اپنا حق سمجھے وہ سخت غلطی اور ظلم میں مبتلا ہے‘ بنو امیہ نے اگر حکومت اسلامی کو اپنی ہی قوم اور خاندان میں باقی رکھنا چاہا تو یہ ان کی غلطی تھی‘ بنوعباس‘ بنوہاشم اگر اس کو اپنا خاندانی حق سمجھتے تھے تو یہ ان کی بھی (غلطی و نا انصافی تھی) مگر چونکہ دنیا میں عام طور پر لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں لہٰذا سلطنت اور حکومت میں بھی حق وراثت کو جاری سمجھا جاتا ہے‘ اس بنا پر جو شخص کسی غاصب سلطنت سے اپنا حق سلطنت واپس چھینتا ہے وہ اکثر قتل و تشدد سے کام لیا کرتا ہے‘ لیکن اس قتل و تشدد کو بنوعباس نے بنو امیہ کے حق میں جس طرح روا رکھا ہے اس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔
ہاں تاریخی زمانہ سے گزر کر اگر نیم تاریخی حکایات کو قابل اعتنا سمجھا جائے تو بخت نصر نے بنی اسرائیل کے قتل کرنے میں بڑی سفاکی و بیباکی سے کام لیا تھا اور بنی اسرائیل کو صفحہ¿ ہستی سے مٹا دینا چاہا تھا‘ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی قوم آج تک دنیا میں موجود ہے‘ اس سے بھی بڑھ کر ہندوستان میں آریوں نے غیر آریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی مگر کوہ ہمالیہ وبندہیاچل کے جنگلوں اور راجپوتانہ کے ریگستانوں نے غیر آریوں کی نسلوں کو اپنے آغوش میں چھپائے رکھا اور ہندوﺅں کی شودر قوموں کی صورت میں وہ آج بھی ہندوستان کی آبادی کا ایک قابل تذکرہ حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ہندوستان کے آریہ بھی ایرانی و خراسان لوگ تھے‘ عباسیوں کے خراسانی سپہ سالار بھی بنوامیہ کے قتل و غارت میں عباسیوں کو ایسے مظالم اور ایسے تشدد پر آمادہ کر سکے کہ ہندوستان کے غیر آریوں کی مظلومی کے افسانے درست نظر آنے لگے۔
دنیا کی خفیہ انجمنوں کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خفیہ سازشوں کو کامیاب بنانے والے حد سے زیادہ قتل و خونریزی اور مظالم و بے رحمی کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔
خاندان بنو امیہ سے خلافت اسلامیہ کو نکالنا کوئی جرم نہ تھا لیکن خاندان بنو امیہ سے خلافت اسلامیہ کو نکال کر ایک دوسرے خاندان کو اسی طرح خلافت اسلامیہ کے سپرد کر دینا ہرگز کوئی خوبی کی بات نہ تھی‘ اسلام اور عالم اسلام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا لہٰذا بنوعباس کو نہایت ہی قابل شرم خونریزی اور قتل و غارت کا ارتکاب کرنا پڑا۔
ابومسلم اور قحطبہ بن شبیب اور دوسرے نقباءاہل بیت نے خراسان کے شہروں میں جس قدر قتل عام کا بازار گرم کیا اس کا کچھ تھوڑا تھوڑا تذکرہ اوپر کے صفحات میں آچکا ہے‘ امام ابراہیم نے خود ابومسلم کو اپنے آخری خط میں تاکیدی طور پر لکھا تھا کہ خراسان میں کسی عربی بولنے والے کو زندہ نہ رکھنا‘ اس سے بھی ان کا مدعا یہی تھا کہ بنو امیہ کے طرفدار لوگ خراسان میں وہی عربی قبائل تھے جو فاتحانہ خراسان میں سکونت پذیر تھے‘ جبکہ باشندگان خراسان کو جو نو مسلم تھے وہ سب کے سب دعوت عباسیہ کے معمول بن سکتے تھے۔
(جای ہے)

Scroll To Top