ایم ایم اے کی بحالی بجا مگر ۔۔۔۔۔۔

zaheer-babar-logo

مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کردیا ۔ لاہور میں مختلف مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والی 6 سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مل کر ایم ایم اے کو پھر سے متحرک کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس پیش رفت کا اظہار جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا ۔اس موقع پر سراج الحق کے ساتھ جمعیت علما اسلام ف کے صدر مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علما اسلام پاکستان کے سربراہ پیر اعجاز ہاشمی اور دیگر جماعتوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دسمبر میں نئے اتحاد کا سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 2002 میں بنائی گئی متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا میں 2002 سے 2007 تک حکومت کی تھی مگر 2008 اور 2013 کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل واضح حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اب مذہبی وسیاسی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل کے تحت اکھٹے ہو کر 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
وطن عزیز میں بشیتر مذہبی سیاسی جماعتوں کا نعرہ ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کا نظام قائم کرنا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے لاکھوں کارکن سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں کئی بار دیکھا گیا کہ سوشل میڈیا پر جب کبھی مذہبی قائدین کے خلاف کوئی جملہ استمال کیا گیا تو اس کے کارکن بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے پائے گے ۔ اس ضمن میں محض مذہبی پارٹیوں کو ہی ہدف تنقید بنانا درست نہیں۔ دراصل اس حقیقت سے نظریں چرانا بھی نا انصافی ہے کہ ہم میں ہر کوئی سماج کا کل پرزہ ہے لہذا معاشرہ ہی تو ہے جو ہر کسی کی تربیت کرتا ہے لہذا آج مجموعی طور پر ہمارے رویہ زوال پذیر ہیں تو یہ ہرگز حیران کن نہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ملک کی مذہبی جماعتیں اپنے غیر ضروری وجود کے باعث پاکستان کے سیاسی ماحول میں اکثر منفی کردار ہی ادا کرتی چلی آرہیں۔ وطنِ عزیز کی خیر خواہی میں ، ان کا مذہبی کردار ہے اور نہ سیاسی کردار قابل تحسین ہے، مذہبی کردار فقط یہ ہے کہ حساس مسائل پر سیاست کریں، یہود و ہنودکا ایجنٹ اور مغربی تہذیب کی یلغار جیسی اصطلاحات متعارف کرواکر اس کے سامنے خودکو سینہ سپر ہونے کا دعوی کریں۔ بعض حلقوں کے نزدیک ان کا سیاسی کردار کا یہ عالم ہے کہ وہ اعتدال پسند اور لبرل سیاسی قوتوں کی طرح کچھ لو اور کچھ دو پر ہی یقین رکھتی ہیں۔ اب تک مذہبی جماعتوں کے ساتھ یہ بھی ہوتا آیا کہ جنہیں حکومت وزارتیں دے بھی دے تو محکمے نہیں دیتی۔ محکمے دے دے تو اختیارات نہیں دیتی، اختیارات بھی دے دے، تووزیر اعظم ملاقات کا وقت نہیں دیتے۔ الغرض کسی نہ کسی مقام پہ مذہبی سیاسی قوتوں کی بے عزتی اور بے قدری کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
گزرے ماہ وسال میں جب درجنوں نجی ٹی وی چنیلز کی بجائے محض پی ٹی وی ہوتا تھا اس دور میں آئے روز یہ مذہبی جماعتیں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کے خلاف مظاہرہ کرتی رہتی تھیںجبکہ اب پرائیویٹ چینلز سب کچھ دکھا رہے ہیں بلکہ وہ بھی دکھا رہے ہیں جن کا پی ٹی وی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا مگر آج مذہبی سیاسی قائدین مکمل طور پر خاموش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج کیوں کسی بھی جماعت کی رگ حمیت نہیںپھڑکتی یعنی کسی کو بھی مظاہرے اور احتجاج یاد نہیں آتے۔ آخر کیا وجہ ہے؟
یقینا جمہوری ملک میں یہ اعتراض کسی طور پر درست نہیں کہ مختلف مسالک کے علمائے کرام انتخابی سیاست نہ کریں اس کے برعکس نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی عالمِ دین کا رجحان میدانِ سیاست کی طرف ہے تو وہ پاکستان کی مقبولِ عوام جماعتوں سے کسی کا انتخاب کر لے اور اس میں رہ کر اپنے ہم خیال لوگ تیار کرے اور اس طرح قومی دھارے میں شامل رہے۔ صدیوں قبل حقیقی علماءکرام کسی طور پر اقتدار کے خواہمشند نہ تھے بلکہ ایسا بھی ہوتا رہا کہ اہل اقتدار اہم مناصب پر ان کو دینے کے لیے کوشاں رہے مگر وہ اس سے انکار کرتے رہے۔
مسلم معاشرے میں منبر ومحراب کا کردار کسی طور پر نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ دراصل اسی کے نتیجے میں عام آدمی دینی احکامات پر عمل درآمد کرکے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتا رہا۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ علماءحق معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی بھرپور صلاحتیوں سے کام لیتے رہے ۔ جب معاشرے میںاچھائی کی قوتیں طاقتور اور برائی کی قوتیں کمزور واقع ہونگی تو سیاست اور سماج دونوں میں بہتری کے آثار نمودار ہونگے۔ یقینا ایسی صورت حال میں علماءکرام کے دلوں میں عوام کی خدمت کرکے تسکین ہو گی وہاں اسلام کے مقاصد بھی پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ۔ موجودہ مذہبی طرزِ سیاست نے اسلام اور عوام کی خدمت جس طرح کی اس پر ایک سے زائد آراءموجود ہیں۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستانی سیاست تیزی سے بدل رہی۔ نئی سیاسی رججانات میں ایسا امکان کم ہے کہ مذہبی قوتیں پرانے طور طریقوں سے عوامی حمایت کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ حال ہی میں لاہور اور پشاور کے ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی کے ووٹ بنک میں جس قدر کمی واقعہ ہوئی وہ افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی ، ان حالات میں اہل مذہب کے لیے لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کے مطابق اپنا طرزسیاست فوری طورپربدلیں۔

Scroll To Top