دو دُعائیں 01-06-2012

kal-ki-baat

پاکستان کو جس قسم کے حالات کا سامنا ہے انہیں دیکھ کر مجھے دو دُعائیں یاد آرہی ہیں جو ہماری تاریخ کے دو اہم موڑوں پر کی گئیں۔
ایک دُعا عماد الدین زنگی کے دور میں کی گئی۔ ایک ایسے شخص نے کی جو کو تو ال ِشہر کے عتاب سے بچنے کے لئے جنگلوں کی طرف بھاگا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی اہلیہ تھی جو حاملہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھی۔
رات گئے جنگل کے خوفناک ماحول میں اس عورت نے جس طرح اپنے بچے کو جنم دیا ہوگا اس کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے علاوہ وہاں صرف جنگلی جانوروں کی آوازیں تھیں۔
” یا رب ۔۔۔ اس منحوس رات میں پیدا ہونے والے اِس بچے کو اپنی پناہ میں لے لے ¾ اور اسے ایسی تقدیر عطا کر کہ تاریخ اسے ایک نجات دہندہ کے طور پر یاد کرے۔۔۔ “ اس شخص نے دُعا کی۔
یہ وہ دور تھا جب مشرقِ وسطیٰ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوباہوا تھا۔ بیت المقدس پر عیسائی قبضے کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر غیب سے کسی نجات دہندہ کے نمودار ہونے کی خواہش نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
اس شخص کی دُعا کو خدائے بزرگ و برترنے قبولیت عطا کی۔ اس کا نام یوسف تھا۔ اور جس بچے کے لئے اس نے دُعا کی تھی ¾ تاریخ اسے صلاح الدین ایوبی ؒ کے نام سے جانتی ہے۔
دوسری دُعا سرنگاپٹم کے قلعے کی ایک فیصل پر کھڑے سلطان ٹیپو ؒ نے کی تھی۔
انگریزوں نے شہر کا محاصرہ کررکھا تھا ۔ برسہا برس سے ایسا ہوتا چلا آیا تھا کہ اپریل کے آخری دنوں یا مئی کے شروع میں دریائے کا ویری میں طغیانی آیا کرتی تھی جس کی وجہ سے سرنگا پٹم کا آس پاس پانیوں میں ڈوب جایا کرتا تھا۔
جس دُعا کی میں بات کررہا ہوں وہ سلطان ٹیپوؒ نے 2مئی کی رات کو بارش برسانے والے بادلوں کا انتظار کرتے ہوئے کی تھی۔
” اے میرے رب۔ تُو ہر سال یہاں اِن دنوں سیلاب بھیجتا ہے ۔ مگر اِس سال بادل کہاں چلے گئے ہیں۔؟ بادلوں کو بھیج۔ اور انہیں اس طرح برسا کہ سارا علاقہ ڈوب جائے۔انگریزوں کو شکست دینے کی یہی صورت باقی رہ گئی ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے سلطان ٹیپوؒ کی یہ دُعا قبول ضرور کی مگر دو دن کی تاخیر سے۔ تب تک میر صادق سرنگا پٹم کے دروازے انگریزوں کے لئے کھول چکا تھا۔
ہمارے لئے اب دُعاﺅں کا وقت ہے۔
خدا ہم میں سے کس کی کون سی دُعا قبول فرمائے گا۔ ؟

Scroll To Top