سپریم کورٹ: حدیبیہ پیپرز ملز کیس سماعت کیلئے مقرر

  • شریف خاندان پر90کی دہائی میں بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام اسحاق ڈار کا لندن میں شریف فیملی کیلئے1ارب 20کروڑ کی منی لانڈرنگ کا اعتراف
    حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں میاں شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، حسین نواز، مریم نواز اور حمزہ شہباز ملزمان نامزدہیں،شہباز شریف کی اہلیہ شمیم اختربھی ملزمان میں شامل
  • سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 13 نومبر کو حدیبیہ ملز ریفرنس کی پہلی سماعت کرے گا،بینچ کی سربراہی چیف جسٹس کرینگے، لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کےخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کردیا تھا
  • پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر تحقیقات ہونی چاہیے‘ نیب کی لاہور ہائیکورٹ فیصلے کےخلاف استدعا

سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نیب کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کےلئے 3 رکنی بینچ تشکیل دےدیا۔بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے ،دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 13 نومبر کو پہلی سماعت کرے گا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نیب پراسکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کےخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کردیا تھاجس کے بعد پاناما پیپر کیس کے دوران سپریم کورٹ کے فل بنچ کی آبزرویشن پر نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔نیب کی جانب سے دائر اپیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو فریق بناتے ہوئے درخواست میں استدعا کی گئی کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر تحقیقات ہونی چاہیے۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عظمیٰ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف کارروائی کرے جس میں عدالت عالیہ کے دو ججوں کے درمیان اس کیس پر فیصلہ ٹائی ہوا تھا اور تیسرے ریفری جج نے کیس ختم کرنے کا کہا تھا۔نیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس معاملے میں کچھ چیزیں ضروری ہے جن کی نیب تحقیقات کرنا چاہتا ہے۔ خیال رہے کہ اس کیس کی تحقیقات کا آغاز1994ءتا 1996ء، بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں کیا گیا۔ 1997ءایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے رحمان ملک نے ذاتی حیثیت میں تحقیقات کیں۔ستمبر 1998ءرحمان ملک نے کارروائی کے لئے صدر رفیق تارڑ کو خطوط لکھے۔رحمان ملک نے اپنے خط میں شریف خاندان پر بے نامی بنک اکاو¿نٹس سے منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے تھے۔ اس کیس کا باضابطہ ریفرنس پرویز مشرف کے دور حکومت میں سال 2000ءمیں دائر ہوا۔27 مارچ 2000ء عبوری ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکیا گیا تھا جبکہ 16 نومبر 2000 کو حتمی ریفرنس دائر کیا گیا۔اس ریفرنس میں شریف خاندان پر 1990ء کی دہائی میں بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے۔جس میں میاں شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، حسین نواز، مریم نواز اور حمزہ شہباز ملزمان نامزدکئے گئے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف کی اہلیہ شمیم اختر، عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ مشرف دور میں اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار اسحاق ڈار ریفرنس میں پہلے ملزم بعد میں وعدہ گواہ بن گئے تھے۔ اسحاق ڈار نے اپریل 2000ءمیں مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان قلم بند کرایا۔اسحاق ڈارنے شریف فیملی کے لیے فارن کرنشی اکاونٹ کھولنے کا اعتراف کیا۔اسحاق ڈار نے قبول کیا کہ انہوں نے لندن میں شریف فیملی کیلئے ایک ارب 20 کروڑ کی منی لانڈرنگ کی۔ان کا کہنا تھا کہ لندن میں مقیم قاضی فیملی کے 4 بے نامی اور دیگر 2 فارن کرنسی اکاو¿نٹس استعمال ہوئے۔لیکن 2000ء شریف خاندان کی جل اوطنی کے باعث ریفرنس منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا تھا۔ اب رحمان ملک کی رپورٹ لگے الزامات پر پاناما بینچ اور پاناما جے آئی ٹی کی تحقیقات میں بھی غور کیا گیا تھا۔جبکہ 2007ءنواز شریف کی وطن واپسی کے بعد اسحاق ڈار بیان حدیبیہ پیپلز ملز کیس میں دیئے گئے اپنے اعترافی بیان سے سے منحرف ہو گئے تھے۔ ستمبر 2011ءنیب کی احتساب عدالت راولپنڈی میں مقدمہ کھولنے کی درخواست کی تھی۔ جبکہ شریف خاندان نے ریفرنس لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیاتھا۔ 2012ء لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کا شریف خاندان کی درخواست پر اختلافی فیصلہ سامنے آیا جس میں دونوں ججوں کا اختلاف پر معاملہ ریفری جج کو بھجوایا گیا۔ جس پر مئی 2014ءریفری جج نے حدیبیہ ریفرنس خارج کرنے کے حق میں فیصلہ سنا دیاتھا۔ جبکہ نیب بورڈ کا اپنے پراسکیوٹر کی رائے پر فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ستمبر 2014ء احتساب عدالت نے بھی حدیبیہ ریفرنس بحال نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ لیکن اب پناما کیس کی سماعت کے دوران ججز کا ریفرنس پر اپیل دائر نہ کرنے پر تحفظات کا اظہارکیا تھا۔ دوسری طرف جے آئی ٹی رپورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ 22 جولائی 2017ءایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب کی سپریم کورٹ کو اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کر ائی تھی۔ اپیل میں نیب کے ٹال مٹول پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی نئی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جس میں شیخ رشید کی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر نیب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعاکی۔ 15 ستمبر 2017ء پراسکیوٹر نیب نے سپریم کورٹ میں جلد اپیل دائر کرنے کا یقین دلایا تھا۔ 20 ستمبر 2017ءنیب نے حدیپیہ پیپرز ملز ریفرنس دوبارہ کھولنے کیلئے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کر دی تھی۔ 13 نومبر 2017ء جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ سماعت کرے گا۔

Scroll To Top