”اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے “

zaheer-babar-logo


حکومت جہاں کئی محاذوں پر ناکام ہے وہی ناقدین کے بعقول اس کی سب سے بڑی کمزوری گورنس میںناکامی ہے۔ پنجاب جو آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اکثر وبیشتر ایسے واقعات کا شکار دکھائی دیتا ہے جس کی زمہ داری لینے کو کوئی بھی تیار نہیں ۔ مثلا سانحہ ماڈل ٹاون بجا طور پر ایسا واقعہ ہے جو سر عام پنجاب کے دل لاہور میں رونما ہوا۔ دن دیہاڈے مرد وخواتین پولیس کے ہاتھوں شہید ہوئے مگر سالوں گزرنے کے باوجود بھی تاحال زمہ داروں کا تعین نہیں کیا جاسکا ۔حال ہی میں وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں کے پمز ہسپتال میں ڈاکڑوں کی کئی روزہ ہڑتال اور قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ تنظمیوں کا احتجاج بھی ایسے مسائل کی صورت میں سامنے آئے جن پر وفاقی حکومت کئی دنوں تک کنڑول کرنے میں ناکام رہی۔ جڑواں شہروںکے لیے نئی مشکل تحریک لیبک پاکستان کے دھرنے کی صورت میں ہے جس کی بدولت راولپنڈی اسلام آباد کے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گے۔ تازہ پیش رفت میں اسلام آباد پولیس نے گزشتہ روز راستے بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال کر جانے والے بچے کے والد کی درخواست پر تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور ان کی جماعت کے دیگر ذمہ داران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ جناح گارڈن میں 8 ماہ کے بچے کی گزشتہ روز طبیعت خراب ہوئی تو اہل خانہ اسے اسپتال لے جانے کے لیے گھر سے نکلے تاہم راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ گیا۔حسن بلال نامی بچے کے والد نے اپنے بچے کے کی ہلاکت کا ذمہ دار تحریک لبیک کے سربراہ کو ٹہراتے ہوئے تھانہ کورال میں ایف آئی کے اندراج کے لیے درخواست دائر کی تھی جس میں مقف اختیار کیا گیا کہ اگر دھرنے کی وجہ سے راستے بند نہ ہوتے تو ہم بروقت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال پہنچ جاتے اور بچے کی جان بچ سکتی تھی۔ بچے کے والد کی درخواست پر پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور جماعت کے دیگر رہنماوں کے خلاف دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب سیلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد خادم حسین رضوی نے اپنی مذہبی جماعت کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹرڈ کروانے کا اعلان کیا تھا۔لبیک پاکستان نے حال ہی میں لاہور کے این اے 120 اور پشاور کے این اے 4 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ بھی لیا اور بڑی تعداد میں ووٹ بھی حاصل کیے۔لبیک پاکستان کا اسلام آباد میں موجودہ دھرنا الیکشن ایکٹ 2017 میں مبینہ طور پر ختم نبوت قانون کے حوالے سے ہونے والی متنازع ترمیم کے معاملے کے بعد سامنے آیا جس پر مذہبی جماعتوں کا نہ صرف شدید ردِ عمل سامنے آیا بلکہ انھوں نے احتجاج بھی کیا۔بعد ازاں وفاقی وزرقانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ حکومت نے اس طرح کا کوئی بل منظور نہیں کیا اور وفاقی وزیر داخلہ نے امیدوار کے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے باوجود تحریک لبیک اور سنی تحریک نے مشترکہ لائحہ عمل بناتے ہوئے اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا اور ایک ہفتے قبل پنجاب کے مختلف شہروں سے شرکا اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگئے۔اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے شرکا کو روکنے کی ناقص حکمت عملی کے باعث وفاقی دارالحکومت کا زمینی رابطہ آج دیگر علاقوں سے عملا مننقطع کیا اور شہر کا نظامِ زندگی بری طرح مفلوج ہوچکا ۔
یقینا جمہوری ملک ہونے کی حثیثت سے ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے پرنہ صرف اختلاف کرے بلکہ ایسا احتجاج کرنا بھی ہر کسی کا حق جس کے نتیجے میں معمولات زندگی کسی طور پر متاثر نہ ہوں۔ بدقسمتی کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان میں مہذب طور طریقے فروغ نہیں پاسکے یہی وجہ ہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود ہم کسی سسٹم پر عمل درآمد نہیں کررہے۔
بلاشبہ وطن عزیز میں بہتری کا عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری وساری ہے مگر لازم ہے کہ اسے مذید بہتر بنایاجائے۔ اس ضمن میں سیاسی، مذہبی اور لسانی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سطح پر چند بنیادی اصولوں پر متفق ہونا ہوگا۔ مثلا طے کرلیاجائے کہ سڑکوں پر پر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی ہوگی ، مخصوص علاقے میں ہر شخص کو دھرنا دینے یا اجتجاج کرنے کا حق ہوگا مگر اس کے نتیجے میں کسی طور پر عام آدمی کی زندگی متاثر نہ ہو۔
سمجھ لینا چاہے کہ یہ ملک ہمارا ہے لہذا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے باہر سے کسی نے نہیں آنا۔وقت آن پہنچا کہ اپنی سرزمین کی ملکیت کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے یعنی یہاں خامیوں کی بجائے خوبیوں کو فروغ دیا جائے ۔ ہر شخص معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے،احمد فراز نے درست کہا تھا کہ
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے“
۔۔۔۔اہل دانش ہوں یا مذہبی رہنما ہر کسی کو صرف اور صرف آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یاد رکھا جائے کہ قوائد وضوابط سے ہٹ کر کیا جانے والا ہراقدام ملک وملت کی مشکلات میں مذید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں حکام کو لبیک پاکستان کی قیادت کو آمادہ کرنے کے لیے جلد ازجلد کوئی اقدام کرنا ہوگاتاکہ جڑواں شہروںکے باسیوں کی مشکلات ہنگامی بنیادوں پر کم کی جاسکیں۔

Scroll To Top