جھوٹ کا پیغمبر

jhoot
مصنف غلام اکبر
10-11-2017
قسط6


ذہانت، فراست، تدبر اور دانشمندی رکھنے والا کوئی بھی سیاست دان اس قسم کا فیصلہ نہیں کر سکتاتھا ، لیکن بھٹو کو اپنی مکاری، چالاکی اور ریاکاری پر اندھا اعتماد تھا۔
اسی مکاری چالاکی اور ریاکاری سے کام لیتے ہوئے بھٹو نے چند اقدامات ایسے کئے جن کا مقصد یہ تاثر قائم کرانا تھا کہ انتخابات واقعی آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے مثلاً یہ کہ اخبارات پر جو سخت پابندیاں تھیں انہیں ذرا نرم کر دیا گیا پاکستان قومی اتحاد کی انتخابی مہم کے راستے میں ” سرکاری طاقت“ کی دیوار کھڑی کرنے سے پرہیز کیا گیا۔ خود بھٹو نے بڑے پیمانے پر پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تا کہ بوقت ضرورت یہ دلیل پیش کی جا سکے کہ اگر ” مجھے دھاندلی کرنا ہوتی تو رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے اتنی بھاگ دوڑ کیوں کرتا۔؟“پاکستان قومی اتحادکو ایک ہی انتخابی نشان یعنی ” ہل“ الاٹ کرنے کے معاملے میں بھی بھٹو نے بڑی فراخدلی سے کام لیا۔ مقصد دنیا بھر کو یہ بتانا تھا کہ ” میں اپوزیشن کے ساتھ تکنیکی بنیادوں پر کوئی نا انصافی نہیں کرنا چاہتا۔“
پاکستان قومی اتحاد کے لیڈر بھی رائے عامہ کو یہی تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھٹو چاہے بھی تو دھاندلی نہیں کرا سکتا۔ خاص طور پر اصغر خاں بار بار عوام سے کہہ رہے تھے کہ ” آپ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں ، کیوں کہ بھٹو کو دھاندلی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“اصغر خاں کی اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ عوام یہ سوچ کر بددلی کا شکار نہ ہو جائیں کہ بھٹو دھاندلی کرے گا اور دھاندلی کے ذریعے بہر حال جیت جائے گا۔ عوام کے جوش و خروش کو قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ انہیں بھٹو کی ناکامی اور اپنی کامیابی کے معقول امکانات نظر آتے رہیں۔ پوری انتخابی مہم کے دوران پاکستان قومی اتحاد نے ان امکانات کو روشن رکھا مگر جب انتخابات کا مرحلہ سر پر آپہنچا تو اصغر خان نے قوم کو بھٹو کے منصوبے سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو بتا دیا کہ نہ صرف یہ کہ پولنگ میں زبردست پیمانے پر گڑ بڑ کرائی جائے گی۔ بلکہ ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی ریڈیو ٹیلی ویژن اور سرکاری پریس کے ذریعے پیپلز پارٹی کی ”شاندار“ کامیابی کا اعلان کرانے کا اہتمام بھی کیا جا چکا ہے۔
نفسیاتی نقطئہ نظر سے عوام کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کا یہی موقع سب سے مناسب تھا۔ انتخابی مہم کے دوران عوامی جوش وخروش کافی شدت اختیار کرچکا تھا۔ اور عوام اب کسی قیمت پر کوئی ایسا فیصلہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جو ان کی امنگوں کے خلاف ہو۔
۷مارچ۷۷۹۱ءکی رات کو جب پیپلز پارٹی کے امیدوار ریڈیو اورٹیلی ویژن پر ”بھاری اکثریت“ کے ساتھ جیت رہے تھے اور بھٹو اپنی چشم تصور سے آنے والے دورِ اقتدار کی رنگینیوں کو دیکھ رہا تھا توپاکستان کے عوام بددل اور مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے اپنی غیور رگوں میں دوڑنے والے گرم لہو کی قسم کھا کر عہد کر رہے تھے کہ جمہوری روایات کے قاتل کو جشنِ فتح منانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
۸ مارچ ۷۷۹۱ءکو پاکستان قومی اتحاد نے صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جو دو دن بعد ہونے والے تھے۔
۰۱ مارچ۷۷۹۱ءکو ملک کے تقریباً ہر پولنگ سٹیشن پر ویرانی چھائی ہوئی تھی عوام کی بھاری اکثریت نے بائیکاٹ کے فیصلے پر عمل کر کے دنیا بھر کو بتا دیا کہ وہ اس فتح کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے جو بھٹو نے دھوکے دھاندلی اور فراڈ کے ذریعے حاصل کی تھی۔
۳۱ مارچ۷۷۹۱ءکو ملک گیر پیمانے پر تحریک ِ جمہوریت شروع ہوگئی۔ اگر بھٹو میں ذہانت ، فراست، تدبر اور دانش مندی ہوتی تو وہ ہوا کا رخ ۸ مارچ یا ۰۱ مارچ کو ہی پہچان لیتا اور انتخابات ازسرِ نو کرانے کے عوامی مطالبے کو تحریک کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لئے خود ہی اعلان کردیتا کہ” مجھے عوام کی حمایت حاصل ہے اس لئے میں دوبارہ انتخابات کرانے کے لئے تیار ہوں۔ میںخود ایسی فتح پر خوش ہونا نہیں چاہتا جس کے بارے میں ذرا سا بھی شک و شبہ ہو۔“
لیکن مکار چالاک اور ریاکار بھٹو نے عوام کی اسی طاقت سے ٹکرانے جا فیصلہ کر لیا۔ جس نے ۰۷۹۱ءکے انتخابات میں اس کی ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے لئے سازگار حالات پیدا کئے تھے۔ بھٹو کو یقین تھا کہ وہ مکاری چالاکی اور ریاکاری سے کام لے کر پاکستان قومی اتحاد میں دراڑیں ڈال دے گا اور اس سے پہلے کہ عوام تحریک پوری طرح ابھر سکے اس کی کمر توڑ دی جائے گی۔
تاریخ کا گہر شعور رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بھٹو نے طاقت کے نشے میں خود ہی اپنے زوال کو آواز دے دی تھی۔ سیاسی حکمتِ عملی تیار کرنے میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے کا داعی خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود چکا تھا۔

آغازِ سفر
(بھٹو جیسے لوگ اپنی منزلوں کا تعین بہت پہلے کر لیا کرتے ہیں اور پھر ان کا ہر قدم ان ہی منزلوں کی طرف اٹھتا ہے۔ بھٹو نے اپنی منزل کا تعین ۹۵۹۱ءمیں ہی کر لیا تھا۔)

بھٹو کے زوال کا تفصیلی تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے عروج کا بھی سرسری جائزہ لے لیا جائے۔
یہ اکتوبر ۸۵۹۱ءکی بات ہے ۔ میں سندھ یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ ہر نوجوان کی طرح میں بھی اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں بڑ ے حسین خوب دیکھا کرتا تھا، لیکن قومی سیاست پر جو لوگ چھائے ہوئے تھے ان کی طالع آزمائیوں، مفاد پرستیوں، خود غرضیوں، سازشوں اور ریشہ دوانیوں نے میرے حسین خوابوں پر مایوسیوں اور نا امیدیوں کا تاریک سایہ ڈال رکھا تھا۔ بابائے قوم قائداعظمؒ کی وفات کے بعد وطنِ عزیز نوابزادوں، جاگیرداروں، وڈیروںاور ان کے ایجنٹوں کی باہمی جنگ ِ اقتدار کا اکھاڑہ بن چکا تھا۔ لیاقت علی خاں نے ملک کو جمہوری آئین سے محروم رکھ کر سیاسی جوڑ توڑ اور محلاتی سازشوں کے ذریعے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے والوں کے ہاتھ اتنے مضبوط کر دیئے تھے کہ جمہوری روایات کو یہان قدم جمانے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اگر لیاقت علی خاں نے پاکستان کو آئین دے کر قائداعظمؒ کے جمہوری خوابوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی ہوتی تو وہ اس کی گولی کا نشانہ نہ بنتے جس نے وطنِ عزیز کو اقتدار برائے اقتدار کی اندھی ہوس رکھنے والے قسمت آزماو¿ں کی شکار گاہ بنا کر رکھ دیا۔ ان قسمت آزماو¿ںمیں غلام محمدنام سرِ فہرست ہے، جس نے سیاسی جوڑ توڑ اور محلاتی سازشوں میں کچھ ایسا کمال حاصل کیا کہ حقیقی سیاسی اقتدار گورنر جنرل کے غیر سیاسی عہدے کے ساتھ وابستہ ہوگیا اور وزیراعظم کا عہدہ ایک فٹ بال بن کر رہ گیا۔ جب اپنے آخری ایام میں غلام محمد جسمانی اور ذہنی طور پر بالکل مفلوج ہوچکا تھا تب بھی وزیراعظم کی حیثیت فٹ بال سے مختلف نہیں تھی۔

Scroll To Top