رائے سازی اور شو بزنس 31-5-2012

kal-ki-baat

مجھ سے فیس بُک پر کسی صاحب نے یہ سوال پوچھا ہے کہ میری رائے میں کون کون سے ٹی وی اینکر ناظرین کی سوچ پر زیادہ اثر انداز ہورہے ہیں ۔ آج میں نے قلم اٹھایا تو فوراً یہ سوال میرے ذہن میں ابھر آیا۔
اس سوال کا حتمی جواب دینا ممکن نہیں کیوں کہ ہر شخص کا اپنا نقطہ ءنظر `اپنی پسند اور اپنی سوچ ہوا کرتی ہے۔ میرا نقطہ ءنظر اس معاملے میں ایک عام ناظر کا نہیں ہوسکتا۔ میں نے خود دنیائے ابلاغ میں نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزارا ہے۔ کئی دہائیاں قبل میں ملک کے دو بڑے قومی روزناموں کا ایڈیٹر رہا۔ پھر میں نے ملک کے واحد ایسے ہفت روزہ کا اجراءکیا اور اسے چلایا جس کی اشاعت ایک لاکھ تک پہنچی۔میں نے ایک ایسی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ایک نہایت ذمہ دار عہدے پر کام کیا جو دو دوہائیوں تک پہلی پوزیشن حاصل کرتی رہی۔ پھر میں نے ایک ایسے ایڈورٹائزنگ گروپ کی بنیاد رکھی اور اسے بامِ عروج تک پہنچایا جو آج ملک کا سب سے بڑا اور طاقتور میڈیا گروپ ہے۔
میں کبھی اچھا بولنے والوں کو اچھا لکھنے یا اچھا سوچنے والوں کی صف میں کھڑا نہیں کرسکتا۔ اگر شان ` مہر بخاری ` کامران شاہد ` کاشف عباسی اور ثنا بچہ وغیرہ اینکر پرسن ہیں تو طلعت حسین ` حامد میر ` سجاد میر ` جاوید چوہدری اور کامران خان وغیرہ اینکر پرسن نہیں۔ جو لوگ صحافت میں نام پیدا کرکے ٹی وی سکرین پر آئے وہ یقینا ” رائے سازی “ کے شعبے میں زیادہ بڑے اور زیادہ معتبر نام ہیں۔ ان کی بدولت ہی ٹی وی کی صحافت پر ہنوز شعبدہ بازوں کا مکمل قبضہ نہیں ہوا۔ آپ اُن سے اختلاف کرسکتے ہیں ` مگر ان کے الفاظ و افکار میں جو وزن ہوتا ہے اس سے انکار نہیں کرسکتے۔
اب تو ایسے اینکر پرسن بھی پائے جاتے ہیں جو عورتیں ہوں تو مرد بن جاتے ہیں ۔ اور مرد ہوں تو لپ سٹک لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان کے لئے ” رائے سازی “ بھی شو بزنس کا ایک شعبہ ہے۔

Scroll To Top