احتساب عدالت: ریفرنسز یکجا کرنیکی درخواست مسترد: ججز بغض سے بھرے ہوئے ہیں، نواز شریف

  • سوال رہبری کا نہیں منصفی کا ہے، ن لیگ
    تو ادھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا‘مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری”منصفی“ کا سوال ہے!نوازشریف کی نیب کے تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد،دوبارہ فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی،سابق وزیراعظم کا صحت جرم سے انکار
  • پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے ستر برس کے دوران قافلے کیوں لٹتے رہے اور کن راہزنوں نے لوٹے؟ راہزنوں کے ہاتھ پر بیعت کی گئی، وفاداری کے حلف اٹھائے گئے راہزنی کو جواز فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کئے گئے، آئین سے کھیلنے کے فرمان جاری کئے گئے ‘ن لےگ
اسلام آباد:سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میںپیشی کے بعد میڈیاسے گفتگوکررہے ہیں

اسلام آباد:سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میںپیشی کے بعد میڈیاسے گفتگوکررہے ہیں

اسلام آباد:(اےن اےن آئی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ججز بغض سے بھرے ہوئے ہیں۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ججز بغض سے بھرے پڑے ہیں۔ کل سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں ججز کا غصہ اور بغض ان کے الفاظ میں ڈھل کر سامنے آگیا ہے جو کہ تاریخ کا سیاہ باب بنے گا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے 70 سال میں جب بھی  آمر آئے تو ہماری عدلیہ نے کئی سیاہ باب لکھے ہیں اور آج کا فیصلہ بھی تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔قبل ازیں احتساب عدالت کے روبرو نواز شریف نے کہا کہ ان پر عائد تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور نیب ریفرنسز بدنیتی و سیاسی انتقام کیلئے بنائے گئے ہیں جب کہ ہمیں فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز پاناما کیس میں فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جب کہ آج احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کے خلاف تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی ہے۔درےں اثناءن لےگ نے پارٹی کے اہم اجلاس کے بعد ریویو پٹیشن پرسپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے حوالے سے اپنارد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کا یہ اجلاس عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے جاری ، ریویو پٹیشن کے تفصیلی فیصلے میں لکھے گئے انتہائی نا مناسب ریمارکس کو مسترد کرتا ہے ۔بیان کے مطابق پاکستان کے مقبول ترین رہنما ،سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد اور تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی قومی شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی سطح کی عدالتی زبان کے معیار پرپورا نہیں اترتا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین اور قانونی ماہرین کی رائے کے مطابق بینچ نے اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف ذیلی عدالتوں پر اثر اندازہونے کی کوشش کی ہے بلکہ اپیل کا فیصلہ بھی ابھی سے سنا دیاہے۔ نواز شریف کے بارے میں توہین اور تضخیک کے الفاظ اور جملے دنیا کی کسی بھی عدالت کیلئے باعث فخر نہیں ہو سکتے۔ یہ فیصلہ اول سے آخر تک بغض ، عناد، غصہ اور اشتعال کی نہایت افسوس ناک مثال ہے۔ مسلم لیگ ن نے عدالتی فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا ہے کہ شاعری کا سہارا لیتے ہوئے ”راہبری“ کا سوال اٹھایا گیا ہے ۔ قومی جانتی ہے کہ راہبری کرنے والوں نے ہی پاکستان بنایا اور اس کیلئے قربانیاں بھی دیں۔ انہوں نے ہی اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا انہوں نے جیلیں کاٹیں وہ پھانسی چڑھے وہ جلا وطن ہوئے وہ نا اہل قرار دیئے گئے ۔ لہذا سوال ”راہبری“ کا نہیں ”منصفی“ کا ہے ۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ستر برس کے دوران قافلے کیوں لٹتے رہے اور کن راہزنوں نے لوٹے؟ قافلے اس لئے لٹے کہ راہزنوں کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ۔ راہزنوں سے وفاداری کے حلف اٹھائے گئے راہزنوں کی راہزنی کو جواز فراہم کرنے کیلئے نظریہ ضرورت ایجاد کئے گئے راہزنوں کو آئین سے کھیلنے کے فرمان جاری کئے گئے ۔بیان کے مطابق ستر سال پر پھیلا ہوا سوال”راہبری“ کا نہیں ”منصفی“ کا ہے ۔ راہبر تو آج بھی سزا پا رہے ہیں ۔ پیشیاں بھگت رہے ہیں بتایا جائے کہ ”راہزن“ کہاں ہے ؟ مسلم لیگ ن نے بیان میں کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے کسی تذبذب کے بغیرعدالتی فیصلوں پر عمل کیا لیکن ان کے بارے میں سیاسی حریفوں کے جلسوں جیسی زبان برداشت نہیں کی جا سکتی ۔ عدلیہ جیسے مقدس ادارے کیلئے نواز شریف کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے ۔مسلم لیگ (ن) آئندہ بھی ایک آزاد اورآئین کے تحفظ کی علم بردار عدلیہ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔لیکن مقدس عدالتی منصب کو بغض و عناد کے تحت سیاسی شخصیات بلکہ کسی بھی پاکستانی کی کردار کشی کیلئے استعمال کرنے کو”عدلیہ کہ آزادی“ کے لبادے میں نہیں چھپایا جاسکتا۔ پاکستان کی سر سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بینچ کے پیش کردہ شعر میں ایک لفظی تبدیلی صورت حال کی صحیح ترجمانی کرے گی۔
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی / ایجنسیاں)احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی نیب کے تین ریفرنسزکو یکجا کرنے کی درخواست مسترد کر دی،تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نوازشریف کی نیب کے تین ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کی نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کوروسٹرم پربلالیاگیااور ان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی ،سابق وزیراعظم نے صحت جرم سے انکار کر دیا،ان کا کہناتھا کہ کیسز میں بنیادی حقوق سلب کئے جارہے ہیں،ٹرائل کورٹ میں اپنادفاع کروں گا،نواز شریف کا کہناتھا کہ کارروائی سیاسی بنیادوں پرکی گئی۔اس دوران نوازشریف کا احتساب عدالت کے جج سے مکالمہ بھی ہوا ،سابق وزیراعظم نے جج سے سوال کیا کہ6 ماہ میں ٹرائل کیسے مکمل ہوسکتاہے؟اس پر نیب کورٹ کے جج محمد بشیر نے کہا کہ چاروں ریفرنسزکی سماعت ایک ساتھ شروع کریں تومکمل کرلیں گے۔سابق وزیراعظم نے نمائندہ مقررکرنے کےلئے عدالت سے استدعاکر دی جس پر عدالت نے نوازشریف سے باقاعدہ درخواست مانگ لی اور مقدمے کی سماعت15 نومبر تک ملتوی کردی اور گواہوں کو طلب کر لیا،دوران سماعت سابق وزیراعظم نوازشریف 20 منٹ تک روسٹرم پرکھڑے رہے۔

Scroll To Top