جھوٹ کا پیغمبر

jhoot

جھوٹ کا پیغمبر

مصنف غلام اکبر
قسط5
09-11-2017


بھٹو انتخابات کے لئے اپنے حق میں سازگار فضاپیدا کر چکا تھا۔ اس نے تمام امکانات کا خاکہ بھی اپنے ذہین میں تیار کر لیا تھا۔ یہ خاکہ کچھ اس طرح تھا۔
۱۔ تحریک استقلال اور جمعیت العلمائے پاکستان کے اتحاد اور متحدہ جمہوری محاز کے درمیان سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
۲۔ تحریک استقلال کے قائد اصغر خاں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے حق میں مہم چلائیں گے اور متحدہ جمہوری محاذ اسمبلیوں میں اپنی پوزیشن زیادہ مستحکم کرنے کی امید پر انتخابات کا چیلنج قبول کرلے گا۔
۳۔ اگر تحریک استقلال کے گروپ اور متحدہ جمہوری محاز میں سمجھوتہ ہوا بھی تو اس کی بنیادیں اتنی کمزور ہوں گی کہ انہیں بڑی آسانی کے ساتھ ہلایا جا سکے گا ۔
۴۔ تحریک استقلال کے گروپ اور متحدہ جمہوری محاذ کے درمیان انتخابی سمجھوتے کی صورت میں بڑی کامیابی سے پروپیگنڈہ کیا جا سکے گا کہ اتنے سارے متضاد عناصر کا اتحاد ” بھٹو دشمنی“ کی حد تک تو قائم رہ سکتا ہے لیکن برسرِاقتدار آنے کی صورت میں فوراً ٹوٹ جائے گا اور ملک ایک خوفناک سیاسی بحران کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکے گا۔
۵۔ اگر اپوزیشن حقیقتاً متحد ہونے میں کامیاب ہوگئی تو بھی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے اس کے پاس نہ تو پیپلز پارٹی جیسے وسائل ہوں گے اور نہ ہی اتنا وقت ہوگا کہ وہ ڈیفنس آف پاکستان رولز کی موجودگی میں مﺅثر سیاسی طاقت بن سکے۔
ان تمام امکانات کی روشنی میں بھٹو کے لئے انتخابات جیتنا اور واضح اکثریت سے جیتنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ مگر ہوا یہ کہ بھٹو کے بعض اندازے یکسر غلط ثابت ہوئے۔ ادھر بھٹو نے انتخابات کا اعلان کیا اور ادھر اصغر خان اور متحدہ جمہوری محاذ جو ایک دوسرے سے کوسوں دور نظر آتے تھے۔ یکایک ہاتھ پھیلا کر ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ فاصلے بڑی تیزی کے ساتھ سمٹنے لگے۔ اپوزیشن کے تمام لیڈروں کے درمیان اچانک ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان قومی اتحاد قائم ہوگیا۔ بھٹو کے لئے یہ صورت حال قطعی طور پر غیر متوقع تھی۔ اس نے اپنے آپ کو یقین دلا رکھا تھا کہ پاکستان جمہوری پارٹی کے قیام کا راستہ ہموار کرنے کے لئے جسٹس پارٹی کو توڑ کر اصغر خاں نے اپنی ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کو جو نقصان پہنچا یا تھا اس کے پیش نظر تحریک استقلال کا قائد دوبارہ اپنے آپ کو متحدہ جمہوری محاذ کے پیشہ ور سیاست بازوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لیگا اصغر خاں نے اچانک متحدہ اپوزیشن کا داعی بن کر بھٹو کے اس یقین کو پاش پاش کر دیا۔ پاکستان قومی اتحاد کے قیام نے پہلی بار بھٹو کو احساس دلایا کہ انتخابات وہ اتنی آسانی کے ساتھ نہیں جیت سکے گا جتنی آسانی کے ساتھ اس نے سوچ رکھا تھا۔ بھٹو اچانک جس پریشان کن صورت ِ حال سے دوچار ہوگیا تھا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے اصغر خاں نے کہا۔
” ہمارا اتحاد بہت پہلے قائم ہو چکا تھا۔ چند مہینوں سے بھٹو جو اقدامات کر رہا تھا ان سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کر چکا ہے اور انتخابات جیتنے کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی خفیہ طور پر فیصلہ کر لیا کہ متحد ہو کر بھٹو کا مقابلہ کیا جائے گا ہم نے اپنے اتحاد کوخفیہ رکھنے کے لئے اتنی زبردست احتیاط برتی کہ بھٹو کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہوئی۔ اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ ہم سب پاکستان کو بھٹو کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے کے لئے متحد ہو گئے ہیں تو وہ کبھی انتخابات کرانے کا اعلان نہ کرتا۔ اب بھٹو اس اعلان سے واپس نہیں جاسکتا۔ ہمارا اتحاد اس کی پہلی شکست ہے۔“
پاکستان قومی اتحاد کا قیام درحقیقت بھٹوکی پہلی شکست تھی۔
لیکن جس بات نے بھٹو کو بری طرح بوکھلا دیا وہ انتخابات کے بارے میں اصغر خان کا غیر متوقع مﺅقف تھا۔ اصغر خان نے اس سے پہلے یہ مﺅقف اختیار رکھا تھا کہ بھٹو حکومت کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا بالکل بے سود بات ہوگی۔ کیونکہ ایسے انتخابات ہرگز آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے اور انہیں برسرِاقتدار پارٹی فراڈ اور دھاندلی کے ذریعے جیت جائیگی۔ لیکن جب بھٹو کی خواہشات اور توقعات کے برعکس پاکستان قومی اتحاد قائم ہو گیا تو اصغر خاں اچانک اس امر کے داعی بن گئے کہ انتخابات میں بھٹو کا مقابلہ ضرور کرنا چاہیئے۔دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ متحدہ جمہوری محاز کے لیڈر جو پہلے انتخابات کو ہی حکومت بدلنے کا آئینی طریقہ قرار دیا کرتے تھے اب اچانک ایسے انتخابات کو ہی حکومت بدلنے کا آئینی طریقہ قرار دیا کرتے تھے اب اچانک ایسے انتخابات میں حصہ لینے کے مخالف بن گئے تھے جو بھٹو حکومت کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ پہلے اصغر خاں کا مطالبہ ہوا کرتا تھا کہ بھٹوحکومت مستعفی ہو جائے تا کہ فوج اور عدلیہ کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے صحیح معنوں میں نمائندہ اور آئینی حکومت قائم کی جا سکے۔ اب یہی مطالبہ متحدہ جمہوری محاذ کا تھا اور اصغر خان اپنا مﺅقف بدل کر بھٹو حکومت کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے پر آمادہ ہوچکے تھے۔ اصغر خاں نے اپنا مﺅقف کیوں تبدیل کیا یہ ایک الگ بحث ہے اور اس سوال کا جواب میں آگے چل کر دوں گا۔یہاں میں صرف بھٹو کی ”ذہانت“ کا جائزہ لینا چاہتا ہوں جو پہلی بار ایک حقیقی اور طاقتور چلینج کر سامنا کر رہی تھی۔ یہ چیلنج پاکستان قومی اتحاد کے قطعی ”غیر متوقع“ قیام کی بدولت ابھرا تھا۔ بھٹو نے صرف ایسے انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا جنہیں جیتنے کا اب اسے سو فیصد یقین تھا۔ اب سے اچانک ایسے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک جھنڈے تلے متحد ہو کر حصہ لینے والی تھیں۔ غالباً اسی چیلنج کے احساس نے بھٹو کو ”بڑے پیمانے پر دھاندلی“ کے راستے پر ڈال دیا۔ جب پنجاب اور سندھ میں پاکستان قومی اتحاد کے لیڈروں کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی اور اصغر خاں کا استقبال کرنے کے لئے کراچی کے شہریوں نے قومی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس نکالا تو بھٹو کو اقتدار کی مسند پر فائز رہنے کی اس کے علاوہ اور کوئی صورت نظر نہ آئی کہ دھاندلی کے پروگرام پر بہت بڑے پیمانے پر عمل کیا جائے۔ دھاندلی کا پروگرام تو پہلے ہی بن چکا تھا، لیکن بھٹو کا خیال تھا کہ زیادہ دھاندلی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اب پاکستان قومی اتحاد کی بڑھتی ہوتی مقبولیت کے پیشِ نظر انتخابات جیتنے کے لئے زیادہ ”مﺅثر“ اور ”مکمل“ انتظامات کی ضرورت تھی۔ اگر بھٹو میں تدبر ذہانت اور دانشمندی ہوتی تو وہ بیس پچیس نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے پر اکتفا کرتا۔ اس صورت میں بھٹو حکومت پر دھاندلی کر الزام ثابت کرنا اور عوام کو احتجاجی تحریک پر آمادہ کرنا پاکستان قومی اتحاد کے لئے خاصا مشکل کام ہوتا ۔ لیکن عوام پر بھرپور غیر محدود اور وحشیانہ طاقت کے ساتھ حکومت کرنے کی مجنونانہ خواہش نے بھٹو کو ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جو اس کے زوال کا باعث بنا۔فیصلہ یہ تھا کہ اکثریتی صوبے پنجاب میں دھاندلی اتنے بڑے پیمانے پر کی جائے کہ اپوزیشن کا وجود باقی نہ رہے۔

(جاری ہے)
Scroll To Top