ہم ہیں کون ؟ 30-5-2012

kal-ki-baat

میرے کل کے کالم سے کچھ لوگوں کو شاید یہ تاثر ملا ہو کہ میں جنگ وجدل اور خون ریزی کو مسائل کا حل سمجھتا ہوں۔ یہ تاثر یکسر غلط ہے۔ میں صرف اس سوچ کا پرچم فضاﺅںمیں لہراتا دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہماری شناخت ایک ہے ` ہمارا قبلہ ایک ہے ۔ ہمارا خدا ایک ہے اور ہمارا رسول ایک ہے۔
اس سوچ کے خلاف ہمارے اندرچھُپے شیطان نے بہت ساری ایسی عصیبتیوں کو ہمارے ذہنوں میں جگہ دے رکھی ہے جو ہمیں ہماری حقیقی شناخت سے دور لے جاتی ہیں۔
آپ سے ایک صحابی نے پوچھا۔
” یار رسول آپ کس شخص کو یقینی جنت کی بشارت دیں گے ؟ جس نے کبھی کوئی نماز قضا نہ کی ہو ؟“
” ضروری نہیں کہ وہ جنت میں جائے ۔“ آپ نے جواب دیا۔
” جس نے کوئی روزہ نہ چھوڑا ہو اور جس نے تمام ارکانِ دین پر باقاعدگی سے عمل کیا ہو ؟“ صحابی نے پوچھا۔
” یہ بھی ضروری نہیں۔ “ آپ نے جواب دیا ۔
” کوئی تو ایسا خوش نصیب ہوگا جسے آپ جنت کی ضمانت دے سکیں۔ “ صحابی نے کہا۔ ” ہاں ہے۔ “ آپ نے جواب دیا۔ ” ایسا شخص جو تاحیات خدائے واحد کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکا ہو۔ ۔۔ ایسا شخص لازماً جنت میںجائے گا۔“
میرے بھائیو۔۔۔ ذرا غور کیجئے ان الفاظ میں چھپی حکمت پر۔۔۔!
ہم تو زندگی بھر اپنے ہی بنائے ہوئے خداﺅں کے سامنے جھکتے رہتے ہیں۔ ان جھوٹے خداﺅں میں ایک خدا قومیت کا خدابھی ہے۔عرب اپنی نسل اور اپنے حسب نسب پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔ آنحضرت نے اپنی زندگی کا آخری فیصلہ کیا کیا۔۔۔؟
اعلیٰ نسل کے سرداروں پر مشتمل لشکر کا سالار ایک حبشی غلام زادے کو بنایا۔
اس کا نام اسامہ بن زید بن حارث ؓ تھا۔
میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ جو لوگ اپنی اس شناخت کو بھول کر جو ” قبلہ “ سے ہوتی ہے` اس شناخت کے لئے لڑتے ہیں جو کبھی بگٹی زادہ کبھی مینگل زادہ اور کبھی مری زادہ ہونے کی بناءپر ملتی ہے ` وہ لوگ اس عظمت کے مستحق نہیں جو اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدی کے لئے مخصوص کررکھی ہے۔۔۔

Scroll To Top