سموگ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد ہوگا ؟

zaheer-babar-logo

وطن عزیزمیں سرکاری حکام یہ چلن حیران کن نہیں کہ وہ ہر بار مسائل کے بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں یعنی ایسا شاذ ہی دیکھا گیا کہ عام آدمی کو درپیش مشکل کو مسلہ بنے سے پہلے ہی حل کرلیا گیا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سموگ کے معاملہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پنجاب بالخصوص لاہور میں ہونے والے تعمیراتی کاموں کے نتیجے میں جہاں درختوں کی بے تحاشا کٹائی کی گی وہی گردوغبار کم کرنے کے لیے منصوبوں پر تیزی سے کام بھی نہ ہوسکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ موسم تبد یل ہوتے ہی ماحول انسان دشمن بن گیا۔
تازہ پیش رفت میں پنجاب حکومت نے سموگ و فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے تیار کی گئی حکمت عملی کے تحت صوبے بھر میں فضائی آلودگی کا باعث بننے والی تقریبا ڈھائی سو فیکٹریوں کو بند کر دیا جبکہ بیس ہزار سے زیادہ گاڑیوں کے چالان کیے گئے ۔ صوبے کے محکمہ ماحولیات کے ترجمان نسیم الرحمان نے میڈیا کو بتایا کہ ملک کے زرعی علاقوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کر کے کھیتوں میں آگ لگانے کے واقعات پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ،مذید یہ کہ کھیتوں میں آگ لگانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر ساڑھے تین سو کسانوں کے خلاف پرچے بھی درج کیے گئے ۔ قبل ازیں پنجاب حکومت کی صوبائی وزیر ماحولیات یہ کہتی ہوئی نظر آئیں کہ پنجاب بھر میں سموگ کی بنیادی وجہ بھارت سے آنے والے دھوئیں کے بادل بنے ۔“
اس میں شک نہیں کہ بھارت میں سموگ کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی۔ درالحکومت
نئی دہلی میں سموگ سے عوام پریشان حال ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بچی کچھی فصلوں کو جلا دینے سے مسائل پیدا ہوئے مگر تمام تر زمہ داری بھارت پر عائد کر دینا بھی درست نہیں ۔ اس میں دوآراء نہیںکہ ارباب اختیار اصلاح احوال کے لیے اگر بروقت اقدمات اٹھاتے تو صورت حال کسی طور پر اس قدر گھمبیر نہ ہوتی۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سموگ کے مضر اثرات سے بچاو کے لیے حکومت کی کوشش اپنی جگہ مگر میڈیا کا کردار کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرنٹ ، الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کو آگے بڑھ کر عام آدمی کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا ہوگا۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ ایسے شواہد دستیاب نہیں جو حوصلہ دلائیں کہ تیزی سے اثر رسوخ پھیلاتا میڈیا موجودہ صورت حال میں اپنا موثر کردار ادا کررہا۔مثلا اس پیغام وسیع انداز میں پھیلانے کی ضرورت ہے کہ جن علاقوں میں سموگ کی بہتات ہے وہاں کے لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ اس نے موسمی حالات کے پیش نظر سکولوں کے اوقات میں تبدیلی کر دی ،اس سے ایک طرف ٹریفک حادثات میں کمی کا امکان ہے تو دوسری جانب سموگ کے نتیجے میں بچوں میں پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ صوبائی وزارت ماحولیات کے ترجمان نے دعوی کیا کہ پنجاب بھر کی تمام فیکٹروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دھوئیں کو کم کرنے کے آلات نصب کریں کسانوں کو کھیتوں میں آگ کے بجائے کھیتوں کو صاف کرنے کے دوسرے طریقے سکھائے جانے کے لیے آگاہی مہم شروع بھی کردی گی۔ سرکاری طور پر عوام سے یہ بھی درخواست کی گی کہ وہ ماسک کا استعمال کریں۔ صوبے بھر کی ٹریکٹر ٹرالیوں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کے مالکان کو کہا گیاہے وہ سموگ لائٹس استعمال کریں اور گاڑیوں کی پشت پر روشنی منعکس کرنے والے بتیاں یا ریفلیکٹر لگوائیں۔ بھٹہ مالکان کو بھٹوں میں ٹائروں یا آلودگی پھیلانے والے ایندھن استعمال نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گے ہیں۔ پنجاب پولیس اور میونسپل حکام کو شہروں میں ٹائروں اور کچرے کو آگ لگانے پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرانے کو کہا گیا ہے۔
درج بالا احکامات کی اہمیت سے انکار نہیں مگر عمومی طور پر دیکھا گیا کہ سرکار احکامات کا اعلان کرکے یہ تاثر دیتی ہے کہ شائداس نے اپنی زمہ داریاں ادا کردی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک بھی کیا جاتا ہے جہاں قوانین کی بہتات ہے مگر ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے اکثریت تیار نہیں۔ یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ شہریوں کی جان ومال سے متعلق قوائد وضوابط پر عمل درآمد کرانا وفاقی وصوبائی حکومتوںکی بنیادی زمہ داری ہے یا نہیں ۔
یہ سمجھنے کے لیے سقراط جیسی دانش کی ضرورت نہیںکہ کوئی عام وخاص محض ٹریفک قوانین کی خلاف کرتا ہے تو دراصل وہ ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا مرتکب ہوا ۔ٹھیک کہا جاتا ہے کہ کسی قوم کے مہذب اور غیر مہذب ہونے کے لیے محض اتنیا ہی کافی ہے کہ وہاں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہورہا ہے یا نہیں۔ خبیر تا کراچی خرابیوں کی موجودگی سے انکار نہیں مگر آخر کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی شکل میں بہتری کا آغاز تو کیا جانا ہے۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود ہم ادارے نہیں بنا سکے۔ اس میں کیا شک ہے کہ پاک فوج اور اب عدلیہ کے علاوہ شائد ہی ملک میں کوئی تیسرا ادارہ موجود ہے جو طاقت ور لوگوں کی مرضی ومنشاءکی بجائے اپنے آئینی وقانونی فرائض کی ادائیگی میں پیش پیش نظر آئے لہذا اس بنیادی خرابی کو دور کیے بغیر بہتری کا ہر دعوی ادھورا ہی رہیگا۔
اینٹوں کے بھٹے بھی آلودگی کا باعث بنتے ہیں

Scroll To Top