جھوٹ کا پیغمبر

jhootمصنف غلام اکبر
08-11-2017
قسط4


۶۷۹۱ءکے اواخر میں جب بھٹو نے قبل ازوت عام انتخابات منعقدہ کرانے کے فیصلے کا اعلان کیا تو بظاہر حزب ِ اختلاف کی پوزیشن بہت کمزور نظر آتی تھی۔اپوزیشن پارٹیوں کا شیرازہ بکھرا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ لگتا تھا کہ ڈیفنس آف پاکستان رولز کی طاقت کے سامنے اپوزیشن لیڈروں کے حوصلے جواب دے چکے ہیں اور وہ بھٹو کی بے انداز قوت سے ٹکرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ویسے بھی اپوزیشن دو دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک طرف تحریک استقلال اور جمعیت العلمائے پاکستان کا اتحاد تھا اور دوسری طرف باقی جماعتوں کا متحدہ جمہوری محاذ۔ ان دو گروپوں میں اشتراکِ عمل کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ متحدہ جمہوری محاذ کے بعض لیڈر تحریک استقلال کے صدر کی قد آور شخصیت سے خوف محسوس کرتے تھے ۔ بھٹو نے ان تمام باتوں کی مدِ نظر رکھ کر انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ اسے یقین تھا کہ شخصیات اور نظریات کا تضاد اور تصادم اپوزیشن پارٹیوں کو ایک جھنڈے تلے متحد نہیں ہونے دے گا۔ انتخابات کے اعلان سے پہلے بھٹو نے اپنا ”عوام امیج“ بحال کرنے کے لئے متعدد اقدامات کر لئے تھے۔ کسانوں کا ہفتہ منایا گیاتھا۔ مزدوروں کا ہفتہ منایا گیا تھا، خواتین کا ہفتہ منایا گیا تھا، اقلیتوں کا ہفتہ منایا گیا تھا۔ متعدد ہفتوں کے علاوہ زرعی اصلاحات کا ڈھونگ بھی ایک بار پھر رچایا جا چکا تھا۔ ان زرعی اصلاحات کی حقیقت کیا تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف گزشتہ سال کی فصل خریف سے بھٹو نے چالیس لاکھ روپے کا دھان رائس ملنگ کارپوریشن کو فروخت کیا۔ صرف دو سو ایکٹر زمین سے بھٹو نے انتی بڑی فصل کیسے اگائی یہ راز صرف بھٹو ہی جانتا ہے۔ یا پھر وہ تمام جاگیردار اور ووڈیرے جو زرعی اصلاحات کے باوجود ابھی تک ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ بہر حال ضروری نہیں کہ جن اصلاحات کا اعلان ہوا نہیں عملاً نافذ کیا جائے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور ۔ زرعی اصلاحات کا ڈھونگ بھٹو نے صرف یہ تاثر دینے کے لئے رچایا تھا کہ وہ غریب کسانوں کا کتنا بڑا ہمدرد ہے۔
پڑھی لکھی رائے عامہ کو بے وقوف بنانے کے لئے بھی بھٹو نے کچھ سٹنٹ تیار کر لئے تھے۔ ایک سٹنٹ ” تھرڈورلڈ“ کا تھا۔ جس کی تشہیر کچھ اتنے بڑے پیمانے پر کی گئی جیسے تیسری دنیا کے ممالک نے صرف یہ کہ بھٹو کو اپنا لیڈر بنا لیا تھا۔ بلکہ یہ تہیہ بھی کر لیا تھا کہ وہ بھٹو کی قیادت میں طاقت کے دونون بڑے بلاکوں کو ناکوں چنے چبوادیں گے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر تربیت یافتہ طوطے بس ایک ہی سبق دہراتے تھے کہ بھٹو نے صرف ایک مضمون لکھ کر تھرڈ ورلڈ میں جان ڈال دی ہے اور جب وہ تھرڈ ورلڈ کے ممالک کی کانفرنس بلائے گا تو واشنگٹن کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ لندن میں بھونچال آجائے گا اور ماسکو پر لرزرہ طاری ہو جائے گا۔ اس سارے پروپیگنڈے کا مقصد ملکی رائے عامہ پر یہ تاثر قائم کرنا تھا کہ بھٹو کی بین الاقوامی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ عالمی سیاسیت اس کے بغیرچل ہی نہیں سکتی بھٹو بنیادی طور پر ایک ایسا نفسیاتی مریض ہے جو خود ہی اپنی عظمت کا بت بناتا ہے اور پھر خود ہی اسے پوجنا شروع کر دیتا ہے ۔ اس بت کو زیادہ بلند و بالا اور پُرشکوہ بنانے کے لئے وہ اکثر دوسروں کے نظریات چراکر اپنے نام کے ساتھ وابستہ کر لیتا ہے۔ تھرڈ ورلڈ کی بات تو بنڈونگ کانفرنس کے ساتھ ہی چل نکلی تھی اور وہ یہ زمانہ تھا جب بھٹو کو صرف اس کے قریبی دوست اور شتہ دار جانتے تھے یا پھر کراچی اور بمبئی کے نائٹ کلبوں میں رقص وشراب کی محفلیں سجانے اور گرمانے والے امراءاور پلے بوائے۔
اپنا ”انٹر نیشنل امیج“ بنا کر اسے ملکی رائے عامہ پر مسلط کرنے کی کوشش میں بھٹو نے بعض طفلانہ حرکتیں بھی کی ہیں۔ اس سلسلہ میں یونان کے وزیراعظم کرمانوس کے دورئہ پاکستان کی مثال دی جاسکتی ہے۔ اس دورے کی ”اہمیت“ اجاگر کرنے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ بھٹو اور یونانی وزیر اعظم کے درمیان بڑے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ یہ ”دوستانہ تعلقات“ اس زمانے میں قائم ہوئے تھے،جب یونانی وزیر اعظم پیرس میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ان ”دوستانہ تعلقات“ کے حوالے سے کئے جانے والے پروپیگنڈے کی تھیم یہ تھی کہ ترکی سے پاکستان کے خصوصی تعلقات کے پیش نظر ، یونانی وزیراعظم جناب بھٹو سے یہ درخواست کرنے آیا ہے کہ قبرص کے مسئلہ پر پاکستان ، ترکی اور یونان کے درمیان مصالحت کنندہ کاکردار ادا کرے۔ مقصد اس پروپیگنڈے کا یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ بھٹو کی شخصیت بین الاقوامی سطح پر اتنی اہم ہے کہ جس مشن میں امریکہ اور اقوام متحدہ کو ناکامی ہو چکی تھی اسے بھٹو پائیہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔کتنا مضحکہ خیز تھا یہ سٹنٹ ! کون نہیں جانتا کہ مصالحت کنندہ کا کردار صرف وہی شخص یا ملک ادا کرسکتا ہے۔ جو تصفیہ طلب مسئلہ پر معقول حد تک غیر جانبدار ہو۔ ترکی کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ قبرص کے مسئلہ پر پاکستان کے غیر جانبدار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یونانی وزیر اعظم کو بھلا کس پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ وہ ترکی کے ایک حلیف سے مصالحت کنندہ بننے کی درخواست کرے۔؟
کہا جاتا ہے کہ خود بھٹو نے یونانی وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ اسے قبرص کے معاملے میں اپنی ” سفارتی مہارت“ استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر تجرباتی طور پر بھی بھٹو کو یہ موقع مل جاتا تو وہ چند ہفتوں کے لئے عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا اور پھر ریڈیو، ٹی وی اور پریس ٹرسٹ کے اخبارات کے ذریعے یہ پروپگینڈہ شروع ہو جاتا کہ بھٹو کی وجہ سے پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بہت بلند ہو گیا ہے۔
یہ اور بات ہے کہ یونانی وزیراعظم نے عالمی سطح پر اس قسم کی طفلانہ کامیڈی میں ملوث ہونا پسند نہ کیا اور یوں بھٹوکا یہ ایڈونچر ادھورا رہ گیا۔
بہر حال رائے عامہ پر اپنی حب الوطنی اور قوم پرستی کا سکہ جمانے کے لئے بھٹو نے ”ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ“ والے معاملے کو خاصی پبلسٹی دے رکھی تھی۔ تاکہ بوقت ضرورت اسے سٹنٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top