مرنے والوں کی جگہ جینے والے لے لیں گے مگر ملک زندہ رہے گا 29-5-2012

kal-ki-baat

26مئی 2012ءکو جو ” قومی بلوچستان کانفرنس “ ہوئی اس میں تمام ہی شرکاءنے تقریباً ایک ہی بات کہی ” اگر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے تو مذاکرات کئے جائیں۔“
میاں نوازشریف نے بھی یہی کہا۔ عمران خان نے بھی یہی کہا۔ دوسرے چھوٹے بڑے لیڈروں نے بھی یہی کہا۔کانفرنس میں محترمہ عاصمہ جہانگیر بھی موجود تھیں۔ وہ سب سے آگے بڑھ گئیں۔ انہوں نے کہا۔
” خفیہ ایجنسیاں اور سکیورٹی کے ادارے بلوچستان کا اصل مسئلہ ہیں۔ انہیں وہاں سے ہٹا دیا جائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ “
مجھے یوں لگا کہ جیسے وہ یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ ” پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ہٹا کر اگر وہاں بھارتی امریکی یا دوسری کوئی فورسز تعینات کردی جائیں تو مسئلہ رہے گا ہی نہیں۔“
میں جانتا ہوں کہ میرے قلم میں اس وقت تلخی آرہی ہے۔ اور میں یہ کہوںگا کہ اس تلخی کی بڑی مضبوط وجہ بھی ہے۔
سننے کے لئے یہ بات بڑی دل خوش کن ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے مذاکرات کئے جائیں۔ مگر کیا میاں نوازشریف ` جناب زرداری صاحب ` جناب عمران خان صاحب اور تمام دیگر صاحبان یہ بتانا پسند کریں گے کہ مذاکرات کس سے کئے جائیں۔۔۔ بلوچستان کے ان سرداروں ` سردار زادوں ` نوابوں اور نواب زادوں کے ساتھ جو خدا کی زمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ جو خلقِ خدا کو اپنی رعایا قرار دیتے ہیںاور جن کے نزدیک آقا ہمیشہ آقا رہیں گے۔ اور غلام ہمیشہ غلام۔۔۔؟
کیا آنحضرت نے امیہ سے ` عتبہ سے ` شیبہ سے `عمروہشام سے ` ابو سفیان سے ` ولید سے ` سہیل سے اور حجاز میں اندھیروں کا راج قائم کرنے والے زمینی خداﺅں سے مذاکرات کئے تھے؟
جو طبقہ بلوچستان کی ہر بدنصیبی کا ذمہ دار ہے اس سے مذاکرات کر کے ہمارے قومی لیڈر کیا حاصل کرناچاہتے ہیں۔؟
حضرت ابوبکر صدیق ؓنے مدینہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے مذاکرات کرنے کے لئے سفیر نہیں بھیجے تھے۔ ان کی سرکوبی کے لئے شہسوار بھیجے تھے۔
ایک صحابی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا تھا۔
” یا خلیفہ ۔۔۔ جو کام مصلحت سے نکل سکتا ہے اس کے لئے خوں ریزی کا خطرہ کیوں مول لیا جائے۔؟“
” رب کی قسم۔۔۔ محمد کے باغیوں کے لئے میرے پاس تلوار کے سواکچھ بھی نہیں۔ “ حضرت صدیق اکبر ؓ نے جواب دیا تھا۔
” بڑا خو ن بہے گا یا امیر۔۔۔“
” ہم اپنے دین کی فصل اپنے خون سے سینچیں گے ۔“
یہ خلیفہ اول کا جواب تھا۔
کتنا عجیب اتفاق ہے کہ ایسا ہی مکالمہ 1860ءمیں امریکہ کے صدر لنکن اور ایک ” مصالحت کار “ کے درمیان ہوا۔
” مسٹر پریزیڈنٹ ۔۔۔ جنوب پر لشکر کشی کا مطلب خون کی ندیاں بہانا ہوگا۔“
” اگر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سا لمیت اور عظمت کو خون کا غسل چاہئے تو میں اسے نہیں روک سکتا۔“
” بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوں گی جناب صدر ۔“
”کتنی تعداد میں ۔۔۔؟ “
” لاکھو ں کی تعداد میں ۔“
” مرنے والوں کی جگہ جینے والے لے لیں گے ۔ لیکن اگر ہم نے آئین سے غداری کی روایت قائم ہونے دی تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ ایک ایک جان قیمتی ہے۔ مگر امریکہ سے زیادہ قیمتی کچھ بھی نہیں۔“
یہ دونوں مکالمے میں نے اس لئے درج کئے ہیں کہ ہمارے رہنما جان لیں کہ غداروں کے ساتھ مذاکرات نہیں کئے جاتے۔۔۔

Scroll To Top