برما اور مسلم امہ کی خاموشی

حسن سلیم


برما جسے سرکاری اور بین الاقوامی طور پر ریپبلک آف یونین آف میانمار کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ براعظم ایشیا کے جنوب مشرقی حصے میںواقع ہے۔ اس کی سرحدیں انڈیا، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، لا ¿وس اور چین سے ملتی ہیں۔ اس ملک کا کل رقبہ 676,578مربع کلومیڑ اور کل آبادی تقریباً 5کروڑ10لاکھ سے زیادہ ہے۔اس ملک میں 14 بڑی سٹیٹس یا ریجن ہیں جن میںتقریباً 63ضلعے ہیں۔ یہاں87.5 فیصد بدھ مت،6.2 فیصد عیسائی جبکہ صرف 4.3 فیصد مسلمان آباد ہیں۔ یہ ملک نیلم ، یاقوت اور دیگر قیمتی پتھروں، قدرتی گیس اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔یہ ملک مختلف ادوار میںمختلف اقوام کے زیراثر رہا ہے۔انگریز جب بر صغیر پر قابض ہوئے تو انہوں نے برما پر بھی اپنا تسلط جمایااور اسی طرح برماپر ملکہءبرطانیہ کی حکومت رہی۔ یہاں کی افواج جب بھی ضرورت پیش آئی توباقی افواج کے ساتھ مل کر ملکہ بر طانیہ کے لئے لڑتی رہیں ۔ انگریزوں نے رنگون کو یہاں کا دارالحکومت بنایاجہاں آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور آج بھی وہاں دفن ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ملکہ برطانیہ کو جب افواج کی ضرورت پڑی تو برما کی افواج نے اس جنگ میں باقاعدہ طو ر پر حصہ لیا۔1942 ءمیں جاپانی افواج نے برما پر حملہ کیا تو برما نے انگریز ی افواج کے ساتھ مل کر ملک کا دفاع کیا لیکن جاپانی افواج انہیں شکست دیتے ہوئے یہاں قابض ہو گئیں۔ اگست 1942 میں جاپانی افواج نے یہاں لوکل گورنمنٹ قائم کی جو کہ تقریباً 3 برس تک قائم رہی ۔ جولائی1945 میں انگریز وں نے جاپانی افواج سے یہاں کا تسلط دوبارہ حاصل کیا جو کے ان کے انخلاءتک قائم رہا۔ انگریزوں کے برصغیر سے جانے کے بعد4 جنوری 1948 کو برما آزاد ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا اور اپنی آزاد حکومت قائم کی۔ ابتدائی چند سال تک عوامی حکومت رہی جو کہ زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔ سازشیں اور بغاوتیں آئے روز کاامعمول رہیں اور آخر کار فوج نے1962 میں ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ برما میں تقریباً 49 برس تک فوجی حکومت رہی اور اسی عرصے میں برما مسائل کا شکار رہا ۔
خانہ جنگی ہمیشہ سے اس ملک میں مسلط رہی ہے چاہے وہ عوامی حکومت ہو ےافوجی حکومت ہو۔جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ برما بدھ مت اکثریتی ملک ہے اور بدھ مت ہی اس ملک کا مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کو چاہے وہ عیسائی ہوں یا مسلمان، ہمیشہ اپنے حقوق سے محرومی کا سامنا رہا ہے ا ور حقوق کے حصول کے لئے لڑنا پڑا ہے جسے روکنے کے لئے حکومت اور حکومت نواز گروپس نے ہر بار ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ۔اس ملک میں میڈیا حکومت کے زیر اثر کام کرتا ہے اور بغیر حکومتی اجازت کوئی بھی خبر نشر نہیں کی جاتی، یہی وجہ ہے کہ کبھی بھی یہ مظالم عالمی میڈیا پر سامنے نہیں آئے۔ اور تو اور کسی بھی غیر ملکی رپورٹر کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔حکومتی اجازت نامہ بھی صرف مخصوص علاقوں کے لئے ملتا ہے جہاںان کے ساتھ حکومتی نمائندے ساتھ جاتے ہیں اورصرف وہ چیز سامنے لاتے ہیں جو حکومت دکھانا چاہتی ہے۔ اس وجہ سے غیر ملکی رپورٹر بھی خانہ جنگی میں ہونے والے مظالم سامنے نہیں لا سکے اور حکومت کے ظلم و ستم پر پردہ پڑا رہا۔اس خانہ جنگی میں بلا شبہ ہزاروں مسلمان اور عیسائی لوگوں کوانتہائی بے رحمی اور بے دردی سے قتل کیا گیا، ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جانا پڑا۔یہ سب کچھ کبھی برما کی افواج نے کیا تو کبھی بدھ شدت پسندوں نے ،لیکن ہر صورت میں انہیں حکومتی سر پرستی حاصل رہی ہے۔مقصد صرف اور صرف بدھ مت مذہب کی اجارہ داری ہے اور دوسرے مذاہب کے فروغ کو روکنا ہے تاکہ کہیں وہ اقلیت سے اکثریت نہ بن جائیں۔
راخائن سٹیٹ میں 4 ضلعے جبکہ 3,871گاﺅں آباد ہیں جو کہ مسلمان اکثریتی علاقہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں تقریباً 15لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں ۔ یاد رہے روہنگیا یہاں مسلمانوں کی نسل کا نام ہے۔ بدھ مت یہاں مسلمانوں کے بڑھتے اثر رسوخ کی وجہ سے بہت نالاں ہیں اور انہیں یہی لگتا ہے کے کچھ عرصے میں مسلمان بڑھتے بڑھتے یہاں کے علاقوں میں پھیل جائےں گے اور اسلام ایک بڑا مذہب بن جائے گا۔ بدھ شدت پسند تنظیمیں اس علاقے کو اپنے زیر اثر رکھنے کے لیے آئے روز نت نئے قانون لاگو کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ اور اکثر اوقات طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے۔کبھی مساجد پر پابندی تو کبھی دینی تعلیم پر، کبھی مسلمانوں کے اجتماع پر تو کبھی مسلما نوں کے مذہبی تہواروں پر، غرض ہر طرح کا حربہ استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ علاوہ ازیںمسلمانوں کے بڑھتے اثر رسوخ اور آبادی کو روکنے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے۔2012میں فسادات کی آڑ میں برمی افواج نے بدھ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور وہ مظالم ڈھائے جس کی تاریخ نہیں ملتی۔ مردوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، انہیں زندہ جلایا گیا اور جسموں کے ٹکڑے کئے گئے۔ عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور بچوں کوذبح کیا گیا۔جگہ جگہ مسلمانوں کی لاشوں کو لٹکایا گیا اور لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ 300 سے زائد مسلمان شہید، 500سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 2لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جوکسی سرکاری سطح پر ظاہر کئے گئے ہیں جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار جو کہ ایک حقیقت ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ گاﺅں کے گاﺅں جلا دیے گئے اور آبادی کا نام و نشان مٹا دیا گیالیکن افسوس ہے مسلم امہ پر جو ان مظالم پر ان کے حق میںایک لفظ بھی کہا ہو۔مظلوم روہنگیا مسلمان مدد کو ترستے رہ گئے لیکن افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیںہوا۔ اسی خاموشی کو دیکھتے ہوئے2017میں ایک بار پھربدھ شدت پسندمسلمانوں کی نسل کشی کے لئے سرگرم عمل ہیں ، انہیں حکومت اور فوج کی مکمل سر پرستی حاصل ہے۔ اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زائد مسلمان شہید کئے جا چکے ہیں ، ہزاروں زخمی ہیں اور تقریباً 3لاکھ سے زائد بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں مزید پناہ کے لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ راخائن سٹیٹ سے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کے ارادے کو لے کر بدھ شدت پسند اور ان کی سرپرست برمی افواج مصروف عمل ہیںاور بین اقوامی سطح پر ہر طرف خاموشی کا سماں نظر آتا ہے جیسے کہ کسی کو کوئی غرض ہی نہ ہو۔ مظلوم روہنگیا مسلمان جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلمان حکومتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شائد کوئی ان کی مدد کو آجائے لیکن فی الحال ایسا نظر نہیں آرہا۔
یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا چلا جارہا ہے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہااور وجہ صرف یہی ہے کہ مسلمان ممالک اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے لڑنے میں مصروف ہیں۔کوئی بھی روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لئے تیار نہیں ہے، نہ سفارتی سطح پر اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر۔اگر مسلم ممالک کے حالات پر نظر ڈالی جائے توسعودی عرب، یمن، کویت، ایران، متحدہ عرب امارات ایک دوسرے سے لڑ تے نظرآتے ہیںجبکہ غیر مسلم سازشوں کا جال بچھا کر ان کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی لڑائی سے فرصت حاصل کریں گے توپھر ہی کسی اور کی مدد کریں گے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف سرسری طور پر تھوڑا بہت واویلا کر رہی ہیں، اقوام متحدہ، سیکورٹی کونسل اور عالمی تنظیموں سے توقع رکھنا فضول ہے جب اپنے ہی مدد کو نہ پہنچیں۔یہ سب تنظیمیں صرف وہاں کام کرتی نظر آتی ہیں جہاں کسی اور مذہب کے ماننے والوں پر ظلم ہو۔ روہنگیا کے مظلوم مسلمان اس امید میں ہیںکہ شائد کوئی محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی ان کی مدد کو آئے لیکن باد نظر تو یہی لگتا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ میں کوئی محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی موجود نہیں جو ان کی مدد کو آسکے۔ فلسطین ،عراق، افغانستان اور شام تو پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں باقی بھی ایک کے بعد ایک لائن میں اپنی باری کے انتظا ر میں ہیں۔سازشوں کے جال بچھ چکے ہیں، عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے پیادے سیٹ کر لئے ہیںاب صرف چال چلنا باقی ہے۔ یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب باقی مسلمان ممالک کا حال بھی عراق اور افغانستان جیسا ہو جائے گا اور مسلمان ایک اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔

Scroll To Top