پانامہ لیکس کے بعد پیرڈائز پیپرز

zaheer-babar-logo

پانامہ لیکس کے پیرڈائز پیپرز کا سامنے آنا ایک بار پھر بتا گیا کہ امراء ترقی پذیر ملکوں کے ہوں یا ترقی یافتہ ریاستوں ٹیکس سے دولت بچانے کے لیے سب ہی پیش پیش ہیں۔ آف شور کمپنوں کے جائز یا ناجائز ہونے کے سوال سے قطع نظر معاملہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر کے سینکڑوں نہیں ہزاروں ارب پتی افراد اپنے ہاں ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں۔ادھر پانامہ لیکس کی طرح پیرڈائز پیپرز میں پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جن میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز خاصے نمایاں ہیں ۔ترقی یافتہ ملکوں کے برعکس ترقی پذیر ملکوں کے باسیوں کے دولت چھپانے کے مضر اثرات سے انکار نہیںکیا جاسکتا۔
پانامہ لیکس کے بعد پیرڈائز پیپرز نے "آف شور "کمپنیوں کے پیچھے کارفرما بڑے بڑے سیاستدانوں اور شخصیات کو بڑی حد تک بے نقاب کردیا ہے ۔یہ آف شور کمپنیاں کیا ہیں ،یہ کس قانونی حیثیت کی حامل ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں ۔دراصل برطانیہ ، ماریشس اور قبرص سمیت لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے اپنے ساحلوں سے دور جزائر میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے آف شور کمپنیاں قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ایسی کمپنیوں کے اصل مالکان پس پردہ رہتے ہیں ،ان ممالک نے یہ کمپنیاں ایسے علاقوں یا جزائر میں قائم کرنے کی قانونی اجازت دی جہاں ان کے ٹیکس کے قوائد و ضوابط اور قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ۔دوسرے لفظوں میں آف شور کمپنیوں میں لگایا گیا سرمایہ ٹیکس سے مستثنی ہوتا ہے ۔یہ سمجھنا ہوگا کہ آف شور کمپنیاں قانونی ہیں تاہم ان میں لگائے گئے سرمائے کا جائز ہونا ضروری ہے لہذا مذکورہ کمپنیوں میں بھی ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی رقم سے سرمایہ کاری نہیں کی جاسکتی ۔ترقی پذیر ملک ہو یا ترقی یافتہ آف شور کمپنیوں کی دستاویزات وکلاکے پاس ہوا کرتی ہیں اور قانونی مشیران ہی ایسے معاملات میں تمام کاغذات تیار کیا کرتے ہیں ۔ اس میں اہم یہ ہے کہ جو امیر کبیر لوگ کسی وجہ سے اپنا نام چھپانا چاہتے ہیں وہ ایسی کمپنیاں خرید کر سرمایہ کاری کرتے ہیں یا پھر اپنی ناجائز دولت کے زریعہ سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔یہ بھی زھن نیشن رہے کہ کالے دھن سے آف شور کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری کے بارے میں وہ ممالک بھی کارروائی کرسکتے ہیں جن کے جزائر میں یہ کمپنیاں قائم ہوتی ہیں ۔
وطن عزیز میں رائج قانون کے مطابق ان پاکستانیوں سے یقینا پوچھا جاسکتا ہے جو آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں یعنی ٹیکس اکھٹا کرنے والے ادارے ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لئے رقم کن ذرائع سے حاصل کی گئی ۔ اس سے بھی بڑھ کر اگر آف شور کمپنیوں کے مالک عوامی اور سرکاری عہدیدار رہوں توان سے قومی احتساب بیورو بھی تفتیش کرسکتا ہے ۔ یاد رہے آف شور کمپنیاں رکھنے والے پاکستانی مرد وخواتین اگر اپنے اثاثے چھپانے کے مرتکب پائے جائیں یا یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اپنے اثاثے ناجائز ذرائع سے حاصل کرچکے ہیں تو ان سرکاری و عوامی عہدیداروں کو قید با مشقت کے علاوہ نااہلی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔ مذید یہ انھیں ٹیکس چھپانے کے جرم میں 3سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے ۔
قانون کہتا ہے کہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں لگانے کے لئے رقم کو جائز ذرائع سے باہر بھیجنا ضروری ہے ،اگر غیر قانونی طور پر سرمایہ باہر بھیجا جائے تو یہ کالا دھن ہوگا جس پر کارروائی ہوسکتی ہے ۔یہ بھی اہم ہے کہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کسی بھی دوسرے ملک کے قانون کے مطابق درست ہے لیکن ان اثاثوں کا پاکستان میں ظاہر کیا جانا ضروری ہے ۔ جن جزائر میں آف شور کمپنیوں کی اجازت ہے وہاں ان کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹروں کے نام پوشیدہ رکھنے کی اجازت ہے تاہم یہ سرمایہ کہاں سے آیا ہے ،اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ آف شور کمپنیاں رکھنے والے ممالک عملا غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لالچ میں اس بات سے نظریں چرا تے ہیں کہ ان کے ہاں لایا جانے والا سرمایہ قانونی تقاضے پورا کرتا ہے یا نہیں ۔اصولی طور پر دنیا کے کسی بھی ملک میں سرمایہ کے وسائل ظاہر کرنا ضروری ہیں بظاہر اس کی اجازت کوئی ملک نہیں دیتا کہ کوئی شخص کالے دھندے سے سے رقم حاصل کرکے آف شور کمپنی خرید لے ۔اس پس منظر میں آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں سے سرکاری حکام یہ سوال کرسکتے ہیں کہ اتنا بھاری سرمایہ کہاں سے آیا اور کیا اسے ملک سے باہر منتقل کرتے وقت ٹیکسوں کی ادائیگی سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے یا نہیں۔ اگر ان سوالوں سے حکومت مطمئن نہ ہوسکے تو متعلقہ لوگوں کے خلاف فوجداری اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے ۔یہاں یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ طاقتور افراد آف شور کمپنیوں کو منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سمجھ لینا چاہے کہ اگر آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کسی طور پر ناجائز عمل نہیں تو یہ سوال بنتا ہے کہ پھر پھر ان لیکس کی بنیاد پر یورپی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تحقیقات کا عمل کیوں شروع ہوا ۔دراصل جن ممالک کے شہری آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان ممالک کو سرمایہ کاروں کے اثاثوں کے بارے میں چھان بین کا اختیار حاصل ہے لہذا آف شور کمپنیوں کے قانونی ہونے کی بنیاد پر کالے دھن اور ناجائز سرمائے کے بارے میں تحقیقات ،تفتیش اور کارروائی نہیں روکی جاسکتی ۔

Scroll To Top