جھوٹ کا پیغمبر

jhootمصنف غلام اکبر
قسط نمبر3


یہ میرا اور میری قوم کا خیالِ خام تھا۔ اپنی پہلی ہی تقریر میں بھٹو نے آدھے پاکستان کو نئے پاکستان کا نام دے کر ہمیں واضح طور پر بتا دیا کہ مشرقی پاکستان کو آئندہ مسلم بنگال کے نام سے یاد کیا جائے۔ کیا بھٹو واشنگٹن سے ہی یہ طے کر کے آیا تھا کہ اب مشرقی پاکستان کو مملکتِ خداداد پاکستان کا حصہ تصور نہ کیا جائے۔ مشرقی پاکستان اب مشرقی پاکستان نہیں رہا مسلم بنگال بن گیا ہے۔؟ کیا بھٹو سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو ایک مستقل حقیقت کے طور پر تسلم کر چکا تھا؟ بظاہر یہ سوالات بڑی سطحی اہمیت کے حامل ہیں۔ مگر ان سے بھٹو کی ذہنی کیفیات کی بڑی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ قوم ابھی تک مشرقی پاکستان کو مشرقی پاکستان کہنے کی عادت ترک نہیں کر سکی اور بھٹو نے چند ہی گھنٹوں میں ”مسلم بنگال کی اصطلاع استعمال کرنی شروع کردی تھی۔ جو لوگ بھٹو کے ”اصلی چہرے“ کو ابھی تک نہیں دیکھ سکے وہ شاید میری اس بات کو ایک سطحی اور بے وزن اعتراض قرار دیں۔ مگر ایسے لوگوں سے میں یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ اگر باقیماندہ پاکستان کے خلاف دوبارہ کوئی سازش ہو، کسی صوبے کو اسی طرھ پاکستان سے الگ کر دیا جائے۔ جس طرح مشرقی پاکستان کو الگ کیا گیا اور پھر کوئی اور بھٹو اٹھے اور فوراً ہی اس صوبے کو مسلم سندھ یا مسلم پنجاب کا نام عطا کر کے علیحدگی کے عمل کو علانیہ طور پر قبول کر لے تو کیا ایسی ذہنیت کو حب الوطنی کے کسی بھی معیار پر پرکھا جا سکے گا۔ اگر یہ حب الوطنی ہے تو پھر غداری کسے کہتے ہیں؟
یہاں میں لارنس آف عریبیا کا ذکر ضرور کروں گا جو عربوں کا ہمدرد بن کر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں داخل ہوا تھا۔ سلطنت ِ عثمانیہ کی وحدت اور سالمیت پر کاری ضرب لگانے کے لئے اس نے عربوں کو ترکوں کے خلاف صف آرا کیا۔ ترکوں کو شکست ہوئی اور دنیائے عرب چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بٹ گئی۔ اس لحاظ سے بھٹو کو ”لارنس آف پاکستان“ قرار دیا جاسکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لارنس آف عریبیا نے جو کچھ بھی کیا حکومت ِ برطانیہ کے ایجنٹ اور ایک محبِ وطن انگریز کی حیثیت سے کیا۔ اس کے برعکس مشرقی پاکستان کو ” مسلم بنگال“ بنوانے والے بھٹو کے سامنے ذاتی ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا۔ اگر بھٹو بھی کسی ملک یا حکومت کا اسی طرھ وفادار ہوتا جس طرح لارنس تاجِ برطانیہ کا وفادار تھا تو میری نظروں میں اس کا مقام بہت بلند ہوتا۔ لیکن بھٹو نے جو کچھ بھی کیا اسلام آباد کے تخت پر قبضہ کرنے کے لئے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کا موازنہ ہسپانیہ کے آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ سے کرتا ہوں جس نے غرناطہ کے تخت پر قبضہ کرنے لئے اپنے باپ کی آنکھیں نکلوادی تھیں اور پھر اپنے اقتدار کو ددام بخشنے کی لالچ میں جس نے غرناطہ کے دروازے فرڈی ننڈ کے لشکر پر کھول دیئے تھے اقتدار پرستی کے جنون میں بہت سے لوگوں نے بہت بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ہوگا، لیکن لاڑکانہ کا وڈیرہ اس میدان میں سب سے آگے نکل گیا اس نے ”جرم “ کو سیاسی حکمت ِ عملی کا درجہ دے کر اپنے جرائم کو سیاسی کارناموں کے طور پر پیش کیا۔ میرے نزدیک سقوطِ مشرقی پاکستان کے لئے ”سازگار“ حالات پیدا کرنا ایک جرم سہی لیکن بھٹو کے نزدیک یہ ایک سیاسی کارنامہ تھا کہ اس کے بغیر اسلام آباد کے تخت تک رسائی نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ سیاسی کارنامہ انجام دینے کے لئے بھٹو نے یقینا بڑا ہی ”مکمل “ منصوبہ بنایا تھا۔ اتنا مکمل کہ بھٹو کو شروع سے ہی اس کی کامیابی کا یقین تھا۔
نومبر ۰۷۹۱ءکے اوائل میں جب جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاءکے تحت عام انتخابات کی مہم عروج پر تھی تو بھٹو نے اپنے ایک قریبی ساتھی سے کہا تھا۔
”ایک سال کے اندر حکومت کی باگ دوڑ ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔“
”یہ کیسے ممکن ہے۔؟ ہم زیادہ سے زیادہ پنجاب اور سندھ میں اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔ مشرقی پاکستان سے ہم نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا اور بلوچستان اور سرحد میں ہماری پوزیشن کمزور ہے۔ “ اس قریبی ساتھی نے جواب دیاتھا۔ ” قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔“
بھٹو اپنے ساتھی کی یہ بات سن کر مسکرایا تھا اور پھر اس نے کہا تھا۔”تم دیکھتے جاو¿ کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ اصل طاقت پنجاب کی ہے اور پنجاب ہمارے ساتھ ہے۔“
حالات نے جو رُخ اختیار کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو کا وہ ساتھی اس وقت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے ”قائد ِعوام“ کی سیاسی حکمتِ عملی مملکتِ خداداد پاکستان پر کتنے بڑے المیے کے دروازے کھولنے والی ہے۔ بعد میں جب وہ فاتحِ اسلام آباد کے عتاب کا نشانہ بن کر جیل گیا تو اسے بھٹو کی پیشگوئی ضرور یاد آئی ہوگی اور اس نے یقینا سوچا ہوگا کہ ” جو شخص اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے ملک کو توڑ کر ایک حصہ پر قبضہ کرسکتا ہے اس کے لئے اپنے ایک قریب ساتھی کو جیل بھجوانا اور تشددکا نشانہ بنوانا تو بہت ہی معمولی بات ہے۔“

اصغر خان کا جال
سیاسی حکمت عملی
کا ماہر جس قبر میں
جمہوریت کو دفن کرنا
چاہتا تھا۔ اس میں خود
دفن ہونے والا تھا۔

بھٹو کو” سیاسی حکمت عملی“ تیار کرنے کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات سے میں بھی انکار نہیں کروں گا۔ لیکن سیاسی حکمت عملی کے دومفہوم ہیں۔ ایک مفہوم کا تعلق ذہانت سے ، فراست سے، بصیرت سے ، تدبر سے اور دانشمندی سے ہے۔ دوسرے مفہوم کا تعلق مکاری سے، چالاکی سے، ریاکاری سے مفاد پرستی سے اور خود غرضی سے ہے۔ بھٹو میں ذہانت نہیں ہے۔ فراست نہیں ہے۔ بصیرت نہیں ہے،تدبر نہیں ہے اور دانشمندی نہیں ہے۔ بھٹو میں مکاری ہے۔ چالاکی ہے۔ ریاکاری ہے۔ مفاد پرستی اور خود غرضی ہے
اپنی اس بات کے حق میں، میں دو واضح مثالیں دے سکتا ہوں ۔ جب جنرل یحییٰ خاں نے سیاسی مذاکرات کی ناکامی کے بعد مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا تو بھٹو اس وقت ڈھاکہ میں تھا۔ ڈھاکہ سے کراچی آنے کے بعد اس نے بے شمار اخبار نوسیوں کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ ” خدا نے پاکستان کو بچا لیا ہے۔“ بھٹو کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کی سالمیت کو بچانے کے لئے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی ضروری تھی۔ ایک عام اور اوسط درجے کا زہن رکھنے والے آدمی کا تبصرہ یقینا یہی ہونا چاہئے تھا ، لیکن بھٹو کو تو تمام حالات کا علم تھا۔ کیا وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کا انجام کیا ہوگا؟ذہانت ، فراست، بصیرت، تدبر اور دانشمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ آنے والی تباہی بھٹو پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی۔ اگر آنے والی تباہی بھٹو پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھی تو اس نے یہ کیوں کہا کہ ”خدا نے پاکستان کو بچا لیا ہے۔“ ظاہر ہے کہ بھٹو کے پاس یا تو ذہانت، فراست، بصیرت تدبر اور دانشمندی تھی ہی نہیں یا پھر اس نے جان بوجھ کر پاکستان کے عوام کو آنے والی تباہی سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی، دوسرے الفاظ مین اس نے مکاری، چالاکی، ریاکاری مفادپرستی اور خود غرضی سے کام لیا۔
دوسری مثال میں مارچ۷۷۹۱ءکے عام انتخابات کی دوں گا۔

Scroll To Top