ضرورت ہے بازﺅوئے شمشیرزن کی 24-5-2012

kal-ki-baatنسلیت اور لسانیت کے ” خداﺅں“ کو پوجنے والوں نے دو قومی نظریہ پر قائم ہونے والے پاکستان کو نفرتوں اور کدورتوں کا گہوارہ ' اور مختلف قسم کی عصبیتوں کو فروغ دے کر اپنی لیڈری کی دکان چمکانے والوں کے لئے ایک وسیع و عریض شکار گاہ بنانے کی ٹھان رکھی ہے۔
اب وطن ِعزیزکے سادہ لوح سے سادہ لوح شہریوں کو بھی یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئے کہ ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین المعروف الطاف بھائی ایک عرصے سے مختلف لسانی و نسلی قومیتوں کے حقوق کے علمبردار کیوں بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہزارہ اور سرائیکی صوبے کے قیام کے مطالبے کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں اولیت کیوں دے رکھی ہے ' اور وہ کیوں کبھی کبھی بلوچ عوام کے حقوق اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر خون کے آنسو بہایا کرتے ہیں ۔؟
اگر لسانی و نسلی بنیادوں پر پاکستان کو تقسیم کرنے کا عمل ایک مرتبہ شروع ہوگیا تو پھر ” مہاجر صوبے “ کے قیام کے راستے میں کون سی دلیل چٹان بن کر کھڑی رہ سکے گی ؟
کراچی اور حیدر آباد وغیرہ میں وال چاکنگ کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری تھا۔ پھر مہاجر صوبے کے قیام کا مطالبہ وال چاکنگ کے مرحلے سے نکل کر جلوسوں کی شکل اختیار کرگیا۔ اور اب اس کے ردعمل کے طور پر ” سندھ کی سا لمیت“ پر مرمٹنے کا عزم رکھنے والے بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔ 22مئی 2012ءکے خونی دن نے 12مئی 2007ءکے روز کی جانے والی وحشت و بربریت کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ جہاںتک پاکستان پیپلزپارٹی کا تعلق ہے اس کا مستقبل ”رحمان ملک اور الطاف بھائی “ کی ” کار وباری “ دوستی کے ہاتھوں رہن رکھا جاچکا ہے۔ زرداری صاحب ” سندھ کارڈ “ کھیلنے کے شوقین تو ہیں مگر صرف پنجاب کے خلاف۔
نظریاتی سیاست لسانی و نسلی گروہ بندیوں کی عسکری طاقت کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ پہلے آگ تقریروں کے ذریعے برسائی جاتی تھی۔ اب بندوقوں کے دہانے بھی کھول دیئے گئے ہیں۔
جو لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں انہیں نسلیت اور لسانیت کے بندوق بردار پجاریوں کے خلاف جنگ جیتنی ہوگی۔
جو قوت بھی ان ملک دشمن طالع آزماﺅں کی ریشہ دوانیوں کو آہنی ارادے کے ساتھ کچلنے کے لئے اٹھے گی پاکستان کے عوام اس کے پیچھے کھڑے نظر آئیں گے۔
اب بات جمہوریت کے مستقبل سے آگے بڑھ کر ملکی سا لمیت اور بقاءتک پہنچ چکی ہے۔
آخر کوئی تو وجہ تھی کہ امن وسلامتی کے عظیم ترین نقیب کو بھی متعدد جنگوں میں شمشیرزنی کے جوہر دکھانے پڑے تھے۔
ہمیںآج بھی ایک ایسے بازﺅوئے شمشیرزن کی ضرورت ہے جو ان لسانی و نسلی عفریتوں کو للکار سکے۔۔۔

Scroll To Top