مولانا اور وینا ملک 19-05-2012

kal-ki-baat

اب پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ اس پر فرینڈلی اپوزیشن کی پھبتی کیوں کسی جاتی رہی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ نون والوں کے ” فراخدلانہ “ تعاون کے بغیر موجودہ حکمران اتحاد اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہوتا۔اٹھارہویں انیسویں اور بیسویں ترامیم بنیادی طور پر صدر زرداری کی بہت بڑی کامیابیاں تھیں۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ کے تقرر کے سلسلے میں قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب جس انداز سے ہوا ہے اس سے میاں نوازشریف اینڈ کمپنی کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ وہ کیسے ماہر سٹریٹجسٹ اور شاطر سیاستدان کے ہاتھوں ”اُلّو“ بنے ہیں۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ اگر موجودہ جمہوری نظام ہی قائم رہنا ہے تو جو شخص بھی اگلا چیف الیکشن کمشنر ہوگا اس کا ” جھکاﺅ“ انتخابات کے نتائج میں کلیدی کردارادا کرے گا۔ صدر زرداری اس ضمن میں پہلا راﺅنڈ بڑی آسانی کے ساتھ جیت گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے دستِ راست مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے ضمیر کا سودا کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیا اور ان کے ووٹ کی بدولت ایک کلیدی پارلیمانی کمیٹی کی صدارت پر سید خور شید شاہ کی صورت میں پی پی پی قابض ہوگئی ہے۔ صدر زرداری آئندہ بھی میاں صاحب کو اسی انداز میں مات پر مات دیتے چلے جائیں گے۔ زرداری صاحب نے فائدہ پی ایم ایل این کی اس کمزوری کا اٹھایا ہے کہ میاں شہبازشریف پنجاب کی حکومت کو کسی بھی صورت میں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
دونوں حریف ایک دوسرے کے ” کارناموں “ کے بارے میں اتنی ساری معلومات رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کو سودے بازی پر بھی مجبور کرسکتے ہیں ۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمان کا تعلق ہے وہ سیاست میں وہی مقام رکھتے ہیں جو ثقافت میں وینا ملک نے حاصل کیا ہے۔ اگر یہ مقام ہم سب کے لئے باعثِ شرم ہے تو یہ دونوں کا مسئلہ نہیں۔ دونوں کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ وہ اپنا ” ننگ “ روز ِ حساب فرشتوں سے بھی چھپانے میں کامیاب رہیں گے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔۔۔

Scroll To Top