”میاں نوازشریف کی جارحانہ پالیسی رنگ لائے گی“

zaheer-babar-logo

میاں نوازشریف کا عوامی رابطے مہم شروع کرنے کا فیصلہ مسلم لیگ ن کی اس حکمت عملی کو ظاہر کررہا جس میں سابق وزیر اعظم خود کو اور اپنے خاندان کو مظلوم اور بےگناہ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ میاںنوازشریف کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں کا دعوی ہے کہ جاری قانونی کاروائی پر میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کی خاموشی سیاسی طور پر ان کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہے۔ وفاقی وزیر ماحولیات اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنما مشائد اللہ خان نے غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم 12 نومبر کو ایبٹ آباد میں جلسے عام سے خطاب کریںگے۔ لیگی رہنما کے بعقول خبیر پختوانخواہ میںجلسے کرکے میاں نوازشریف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خبیر پختوانخواہ کے عوام بھی پانامہ لیکس میں ان کی نااہلی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔“
میاں نوازشریف کی جانب سے عوامی رابطے مہم کا آغاز ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ میاں نوازشریف ملک کے کس کس شہر میں جلسے جلوسوں سے خطاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر پانامہ لیکس میں نااہلی کے بعد میاں نوازشریف کی توجہ پنجاب اور خبیر پختوانخواہ پر ہی مرکوز ہے ۔ اس پس منظر میں سابق وزیر اعظم کسی ایک جلسے سے خطاب کریں یا ایک سے زائد اس میں شک نہیں کہ وہ جارحانہ حکمت عملی ہی اخیتار کریںگے۔ پی ایم ایل این میں قومی اداروں کے ساتھ محاذآرائی کے حق میں اور کوئی ہو یا نہ ہو مگر میاں نوازشریف اور مریم نواز ضرور ہیں۔ سیاسی پنڈتوںکا خیال ہے کہ باپ بیٹی اس رائے پر سوفیصد متفق ہیں کہ بدعنوانی کے جاری مقدمات میں ان کی جانب سے خاموشی مسائل کم کرنے کی بجائے بڑھا دے گی۔
دوسری جانب پرنٹ والیکڑانک میڈیا میں میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے لوگوں کی احتساب عدالتوں میں پیشی کو جس طرح پیش کیا جارہا وہ مسلم لیگ ن کے موقف کو تقویت بخش رہا۔ پرنٹ والیکڑانک میڈیا تقسیم بڑی حد تک واضح ہے مگر میاں نوازشریف کے حق یا مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں سے قطع نظر سابق وزیر اعظم کے تذکرے جا بجا ہیں۔ اس ضمن میں یہ اعتراض غلط نہیں کہ ملک کی اعلی ترین عدالت کی جانب سے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دینے کے باوجود اس قدر ”پذائری “ کیونکر ہورہی۔
ایک خیال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن ملکی میڈیا کو باخوبی ہینڈل کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ پارٹی کے تھنک ٹینک آگاہ ہیںکہ کب اور کیسے کون سا اقدام کرکے اہل صحافت کی توجہ حاصل کرنی ہے۔ مثلا محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کے سبب میاں نوازشریف کی پاکستان آمد کا پروگرام جس طرح ملتوی ہوا اس سے ان افواہوں کو تقویت ملی کہ شائد سابق وزیر اعظم وطن واپس نہیں آئیں گے لہذا جب اس ضمن میں ٹی وی ٹاک شوز اور اخبارات میں کسی نئے این آراو کے چرچے زور پکڑنے لگے تو میاں نوازشریف نے کسی قسم کی ”ڈیل “ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان آپہنچے۔
ایک تبصرہ یہ ہے کہ میاں نوازشریف کی جارحانہ سیاست عمران خان کو بھی میدان میں اترنے پر مجبور کرسکتی ہے چنانچہ یہ خارج ازمکان نہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اس بیانیہ کو مستر کرنے کے پوری قوت کے ساتھ سامنے آجائیں جوں سابق وزیر اعظم پیش کررہے ہیں۔
درپیش صورت حال میں وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کا حال ہی میں نجی ٹی وی چنیل کا دیا جانے والا انٹرویو بھی قابل توجہ ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پی پی پی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ “
اس میںشبہ نہیں کہ میاں نوازشریف کے ان دنوں سابق صدر زرادی کی سیاسی حمایت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ سابق وزیر اعظم وزارت عظمی سے محروم ہونے کے بعد بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کو اقتدار سے نکال باہر کرنا نظام کے خلاف سازش ہے۔ حالیہ دنوں میں میاں نوازشریف کئی بار جمہوریت کو درپیش خطرات کا زکر کرچکے ۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق سابق وزیر اعظم دراصل پی پی پی سمیت ملک کی قابل زکر سیاسی جماعتوں سے بھرپور سیاسی حمایت کے متمنی ہیں جو باجوہ انھیں میسر نہیں آرہی۔
مسلم لیگ ن قانونی اور سیاسی محاذ پر شدید مسائل سے دوچار ہے۔ میاں نوازشریف کی سیاسی جانشینی کے لیے میاں شبہازشریف کھل کرسامنے آچکے۔اب صورت حال یہ ہے کہ مریم نواز قومی اداروں کے ساتھ محازآرائی کے راستے پر گامزن ہیں جبکہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف مفاہمت کے علمبردار بن کر سامنے آئے ہیں۔ادھر مسلم لیگ ن کے اندر باغی گروپ سے متعلق خبریں بھی سامنے آرہیں جن کی شیخ رشید کے بعقول 50سے 60کے قریب بتائی جارہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقوں کا خیال ہے کہ پارٹی کی نظر آنے والے سینٹ انتخابات پر مرکوز ہے۔ پی ایم ایل این سمجھتی ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں اسے بہرکیف ایوان بالا میں اپنی متوقع اکثریت حاصل کرنا ہے تاکہ موجودہ اور مسقبل کے مسائل سے کامیابی سے نبرد آزما ہوا جاسکے۔ کہتے ہیں سیاست میں مہینہ تو دور ایک ہفتے بھی بہت ہوا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن اپنے مسائل پر کب اور کیسے قابو پاتی ہے اس بارے حتمی طور پر کچھ کہنا یقینا مشکل ہے۔

Scroll To Top