اپنے اپنے قبرستان 18-5-2012

kal-ki-baat

کبھی کبھی میرا قلم بھی ” مایوسیاں “ اگلنے لگتا ہے ` حالانکہ میں پیدائشی طورپر رجائیت پسند ہوں ` اور میرا ایمان ہے کہ قیام ِ پاکستان منشائے الٰہی کا ثمر ہے ` اور اسے سخت اور کڑے امتحانوں سے تو گزرنا پڑ سکتا ہے مگر قدرت اسے تباہی کے دہانے تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی بے پایاں ِرحمت کے ذریعے سنبھال لے گی۔
مایوسیاں کب میری سوچ پر حملہ آور ہوتی ہیں ؟
(یقینی طور پر آپ کی سوچ پر بھی حملہ آور ہوتی ہوں گی)
جب چوہدری اعتزاز احسن جیسا کوئی شخص ہماری عقیدتوں کے دائرے سے چھلانگ لگا کر باہر نکلتا ہے اور عدلیہ کو للکارنے والی حکومت کے پیچھے کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے کہ اگر آئین جرم کو استثنیٰ دے اور استثنیٰ کی بنیاد پر جرم عدالت کی گرفت سے بالاتر ہوجائے تو قوم کو اپنی بے بسی پر قناعت کرلینی چاہئے۔
میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ چوہدری اعتزاز احسن کے ضمیر میں لچک کس انعام کی کشش نے پیدا کی۔۔۔ جو لیس سیرز نے بھی تو پلٹ کر خنجر گھونپنے والے چہروں کو دیکھا تو کہا تھا۔۔۔
"You too Brutus!"
(تم بھی بروٹس ؟)
کچھ تو ہوا ہوگا کہ چوہدری اعتزاز احسن عدلیہ کی پشت میں خنجرگھونپنے والوں میں شامل ہوگئے !
مایوسی ایسے حالات میں ضرور پیدا ہوتی ہے۔ مگر پھر مجھے خیال آتا ہے کہ چوہدری اعتزازاحسن جیسے لوگ بالآخر تاریخ کے کباڑخانے میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ اور کون نہیں جانتا کہ جس زمین پر ہم کھڑے ہوتے ہیں اس کے نیچے پتہ نہیں کتنے ایوب خان ` کتنے بھٹو اور کتنے ضیاءالحق دفن ہیں۔
کل تک جنرل پرویز مشرف کا بھی تو طوطی بولتا تھا۔ آج انہیں ایسے اینکر پرسنز کی تلاش رہتی ہے جو آکر ان کی خیریت دریافت کریں!
جیسے وہ دور تاریخ کا حصہ بن گیا ` ویسے ہی آج کا دور بھی آنے والے دنوں میں ماضی قرار پا جائے گا۔
مستقبل اگر ہے تو صرف پاکستان کا ہے۔
جو طالع آزما جونک بن کر اس سے چمٹے ہوئے ہیں ' وہ اپنے اپنے قبرستان آج ہی منتخب کرلیں۔۔۔

Scroll To Top