قومی سطح پر اتفاق واتحاد کی ضرورت

zaheer-babar-logo

کور کمانڈرز کانفرنس میں اعلی عسکری قیادت نے جیو اسٹریٹجک سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں جنرل جاوید باجوہ کی زیر صدارت 205ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔کورکمانڈر کانفرنس میں اسٹریٹیجک سیکیورٹی صورتحال کا بالخصوص افغان اور امریکی حکام سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس میں ملک کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے جاری آپریشنز میں پیشرفت اور دیرپا امن و استحکام کے لیے پاک فوج کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ادارے، قومی مفاد میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔“
اس میں دو آراءنہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والی کامیابیوں کو سماجی و اقتصادی شعبے کی ترقی کے ذریعے مستحکم بنایا جارہا ہے ۔ سی پیک کے حوالے سے ملکی سیکورٹی اداروںکی کارکردگی بھی قابل تحسین ہے اس پس منظر میں بلوچستان میں بھی سماجی و اقتصادی ترقی کی کوششوں پر پوری توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اس حقیقت کا ادارک کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان حالات جنگ میں ہے۔ دشمن ایک طرف سرحدوں پر ملک وملت کی مشکلا ت میں اضافے کرنے کے ردپے ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تشکیل پانے والے ان پرتشدد گروہوں کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دیا جارہا جو یہاں انواع واقسام کے انتشار پیدا کرنے کے درپے ہیں۔
ہمیں کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کرنا چاہے کہ جب تک قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جاتا حقیقی بہتری کا ظہور کسی طور پر نہیں ہوسکتا۔ ایک خیال یہ ہے کہ سیاسی قوتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی زمہ داری اپنے سر لینا ہوگی جب تک سویلین قیادت اپنی زمہ داریوں کا احساس نہیں کرتی حقیقی بہتری کسی طور پر ممکن نہیں۔
جنوبی ایشیاءکے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ایک طرف بھارت کا مکروفریب جاری ہے تو دوسری جانب سی پیک کی شکل میں چین خطے میںایسا معاشی انقلاب برپا کرنے کے لیے کوشاں ہے جس کے ثمرات علاقائی سے کہیں زیادہ عالمی ہوسکتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی منصوبہ مودی سرکار کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا یہی وجہ ہے بھارتی وزیر سشما سوراج اعلانیہ کہہ چکیں کہ وہ کسی طور پر سی پیک کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ وطن عزیز میں حالیہ سالوں میں بدامنی کے واقعات بھی یہی ظاہر کررہے کہ بعض علاقائی اور عالمی قوتیں پاکستان کو سبق سیکھانے کے لیے یہاں کشت وخون کو ہوا دے رہیں۔ ملک کی مسلح افواج اس تمام صورت حالات سے پورے طور پر نمٹنے کے لیے متحر ک ہیں مگر لازم ہے کہ ملکی سیاسی قیادت بھی ایک صفحہ پر موجود ہو۔
سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد حکمران جماعت جس انداز میں قومی اداروں پر حملے آور ہے اس پر کسی طور پر اطمنیان کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ ایسے میں جب ہمیں دشمن کی ہر چال کو ناکام بناتے ہوئے قومی سطح پر اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے ہم سیاسی انتشار کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ وطن عزیز کے باشعور حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ منتخب حکومتیں اس انداز میں اپنی زمہ داریاں ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو ہر لحاظ سے نقصان پہنچایا ۔ آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ہم بین الاقوامی برادری میں اپنا وقار کھوچکے ہیں اس پس منظر میں علاقائی اور عالمی سطح پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر پاکستان کو کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہئےے بلکہ ثالثی کا کردارادا کرنا چاہئےے۔ تیزی سے بدلتی اس دنیا میں ملک کی سیاسی ومذہبی قیادت کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لئے کردارادا کرے۔سپریم کورٹ اور عسکری قیادت اپنا کردارادا کر رہی مگر دوسرے شبعوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ نہیں بھولنا چاہے کہ تبدیلی سیاسی جماعتیں جمہوری عمل ہی سے لائیں گی۔ بظاہر ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ درپیش چیلجز سے عہدہ برا ہونے حالات سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اس میں دوآراءنہیںکہ ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف با شعور تعلیم یافتہ طبقہ ہی نکال سکتا ہے جس کے لیے منتخب ایوانوں میں ان کی نمائندگی ضروری ہے۔
نہیں بھولنا چاہے کہ جو قومیں علم کے حصول سے غافل ہو جاتی ہیں دنیا انکو فراموش کر دیتی ہے ۔ اس اس ضمن میں لازم ہے کہ نوجوان طبقہ علم کے حصول پر خصوصی توجہ دیں ۔
زیادہ دن نہیں گزرے جب چیف آف آرمی سٹاف بھی کہہ چکے کہ نئی نسل کو حصول علم کے لیے اپنی صلاحتیں صرف کرنا ہونگی ۔ یقینا ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف با شعور تعلیم یافتہ طبقہ ہی نکال سکتا ہے ۔ بحرانوں پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس کی ضرورت کورکمانڈر کانفرنس میں جاری اعلامیہ سے سجھی جاسکتی ہے۔ دراصل پاکستان پر 70برس سے قابض موروثی ٹولے نے ملک کو کافی نقصا ن پہنچا یا . اب وقت آگیا ہے کہ ہم قومی مسائل پر اتفاق رائے سے قابو پاکر قوموں کی صفوں میں سرخرو ہوجائیں۔

Scroll To Top