اگر ہم تاریخ پڑھتے اور اس سے سبق حاصل کرتے تو ہمارا جغرافیہ وہ نہ ہوتا جو آج ہے !

aaj-ki-bat-logo

مین ہٹن نیویارک میں ایک ازبک باشندے نے اپنا ٹرک راہ گیروں پر چڑھا دیا جس سے آٹھ افراد ہلاک اور تقریباً بیس زخمی ہوئے۔ نیویارک پولیس نے بتایا ہے کہ ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیااوراس کے قبضے سے داعش کا جھنڈا برآمد ہوا ہے۔ مطلب اِس بات کا اور اس واقعہ کا یہ ہے کہ اسلام کے کھاتے میں ایک اور انسانیت سوز جرم ڈال دیا گیا ہے ۔ اس سے زیادہ قبیح اور گھناﺅنا جرم اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایسے بے گناہ اور بے ضرر شہریوں کی جان لے لی جائے جن سے آپ کی دشمنی تو کیا شناسائی تک نہیں۔؟ اس قسم کے قبیح فعل کو پاگل پن یا دیوانگی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اور مغرب کا کمال یہ ہے کہ اس نے گزشتہ ربع صدی میں بڑی مہارت اور چالاکی کے ساتھ اسلام کی صفوں سے ایسے پاگلوںاور جنونیوں کی کھیپ تیار کی ہے جو اپنی دانست میں تو ” جہاد“ کررہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ کے آخری پیغام اور دین کے لئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ اِن بدبختوں کی بدولت مغرب کو ” انتہا پسند اسلام “ اور ” بنیاد پرست اسلام “ جیسی ترکیبیں ایجاد کرکے اسلام کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر دہشت گردی ` وحشت اور بربادی کے ساتھ نتھی کرنے کا موقع ملتا ہے۔
عقیدت کو جنون میں تبدیل کرنے کے لئے جس مہارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایسے لوگوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے جو پرُ جوش دلائل اور اثر آفرین الفاظ کے ہتھیاروں سے مسلح ہوتے ہیں ۔ اسلام کے دشمن ایسے ہی لوگوں کو recruit (بھرتی)کرتے ہیں اور کررہے ہیں ۔ اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ہر ” غیر اسلام “ کیمپ میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان کے درمیان یہ تمیزقائم نہیں کی جاسکتی کہ ایک ٹرمپ ہے اور دوسرا پیوٹن ۔۔۔ اور اُن میں سے ایک ضرور اسلام کا خیر خواہ ہوگا۔
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ داعش جیسی وحشت پرست تنظیموں کو وسائل یقینا واشنگٹن سے بھی مہیا کئے جاتے ہیں اور ماسکو سے بھی۔۔۔ داعش کو اگر مغرب کے ” کرشمہ ساز “ ذہن نے ایجاد کیا ہوگا تو اسے پھلنے پھولنے کے لئے ماسکو بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہوگا۔ شام میں امریکہ نے کیا کمال دکھایا۔؟ بشارالاسد کی آمریت کے خاتمے کے لئے سنی باغیوں کی مدد بھی کی اور اِس بات کو بھی یقینی بنایا کہ بشار الاسد کی حکومت گرنے نہ پائے۔ اگر امریکہ چاہتا تو شام میں ” نو فلائی زون“ قائم کرکے باغیوں کو بشار الاسد کے بمبار طیاروں کا نشانہ بننے سے بچا سکتا تھا۔ایسا نہیں ہوا۔ روس اور امریکہ نے مل کر ایسا کھیل کھیلا کہ شام اسلام کے نام لیواﺅں کا قبرستان بن کر رہ گیا۔ داعش اِسی کھیل کی پیداوار ہے۔ یہ جو کرائے کے سپاہی ہوتے ہیں ان کی خدمات کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے۔
واشنگٹن بھی ۔ ماسکو بھی۔ نئی دہلی بھی اور تل ابیب بھی۔ ہر ” پے ماسٹر“ (Paymaster)کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے۔ کبھی ایجنڈے ٹکرا بھی جاتے ہیں۔ لیکن لہو لہو کون ہورہا ہے ؟ اسلام!
بین الاقوامی سیاست بھی عجیب چیز ہے۔ یہ کوئی ایک دو صدیوں کی بات نہیں کئی صدیوں سے چل رہی ہے۔
چنگیز خان نے چین فتح کرنے کے بعد جب تسخیر ِ عالم کا منصوبہ بنایا تھا تو اس کا پہلا ہدف تھا سلطنت خوارزم۔ اس وقت دنیا کی سپُر پاور خوارزم کی سلطنت ہی تھی۔ اس پر حملہ آور ہونے سے پہلے چنگیز خان نے دوسری مسلمان قوتوں کے ساتھ نہایت خوشگوار سفارتی تعلقات قائم کئے۔ ایران کو یہ چکمہ دیا کہ سنیوّں کا صفایا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بغداد کو یہ خواب دکھایا کہ اگر خوارزم کا شیرازہ بکھر گیا تو عباسی خلافت کو پھر اپنا سکہ جمانے کا موقع مل جائے گا۔
چنگیز خان کی حکمت عملی کامیاب رہی ۔ جب تاتاری وسطی ایشیاءمیں مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کررہے تھے ` ایران بھی سکھ کا سانس لے رہا تھا او ر عباسی خلیفہ بھی شاداں ہورہا تھا ۔ ان بدبختوں کو یہ معلوم نہیں تھاکہ کھوپڑیوں کے مینار اگر سمر قند و بخارا۔ بلخ و تاشقندمیں کھڑے ہوں گے تو ایک وقت آئے گا جب دریائے دجّلہ میں پانی کی بجائے مسلمانوں کا خون بہے گا۔
ہم تاریخ نہیں پڑھتے۔ اس لئے ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اگر ہم تاریخ پڑھتے تو ہمارا جغرافیہ وہ نہ ہوتا جو آج ہے۔
کون نہیں جانتا کہ ” خودکش جنونیوں“ کا ہتھیار سب سے پہلے خدائی کا دعویٰ کرنے والے حسن بن صباح نے اسلام کے خلاف استعمال کیا تھا۔؟
ان جنونیوں کے ذہن سے خدا پرستی اور انسانیت کھرچ کرنکال دی جاتی ہے اور پھر انہیں اُسی سرح استعمال کیاجاتا ہے جس طرح روبوٹ استعمال ہوتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top