جرم کروڑوں مجرم ایک بھی نہیں 17-05-2012

kal-ki-baat

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ یہ بیان بار بار منسوب کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں ” توہین عدالت “ کا کوئی قانون ہی نہیں ہے اس لئے انہیں جو سزا ہوئی ہے اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اس قسم کا بیان پہلے چوہدری اعتزاز احسن نہ دے چکے ہوتے تو میں یہ مانتا ہی نہ کہ ہمارے وزیراعظم ایسا کوئی بیان دے سکتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ اس قسم کے بیانات دے کر وہ دل کا غبارنکال رہے ہوں۔ شکر ہمیں اس بات کا کرنا چاہئے کہ وہ اس سے زیادہ چونکا دینے والے بیانات نہیں دے رہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ بیان بھی تو دے سکتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی قانون ہی نہیں۔ اور بیان تو وہ یہ بھی دے سکتے ہیں کہ جب کوئی قانون ہی نہیں تو پھر عدالتوںکی کیا ضرورت ہے۔ خاص طور پر عدالتِ عظمیٰ کی جس کا کام وزیراعظم صاحب کی حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے اور شرمندہ کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔
اگر ایسا کام عدالتِ عظمیٰ کررہی ہے تو اسے خاصی واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اِدھر وزیراعظم صاحب کوسزا ہوئی اور اُدھر وہ اپنے دوستوں یاروں اور خادموں سے جہاز بھر کر لندن چلے گئے۔ اگر وہ دیوار کے ساتھ لگے ہوتے یا شرمندہ ہوئے ہوتے تو لندن کی بجائے ملتان جاتے۔
بہرحال بات قانون اور عدلیہ کی ہورہی ہے تو عدالتِ عظمیٰ نے وزیراعظم صاحب کے ہونہار صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کی یہ درخواست بھی مسترد کردی ہے کہ ان کے خلاف منشیات کا جو کیس ہے اس کا تفتیشی افسر تبدیل کر دیا جائے۔
عدالتِ عظمیٰ کا استدلال یہ ہے کہ جب بھی کسی معاملے کی تفتیش آگے بڑھتی ہے ` اس کا تفتیشی افسر تبدیل کردیا جاتا ہے۔ بات یہ بھی درست ہے ۔ اورسید علی موسیٰ گیلانی کی بھی درست ہے کہ ” جب انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں ` وہ کسی ایفیڈرین وغیرہ یا توقیر گیلانی وغیرہ کو جانتے ہی نہیں تو تفتیش کا سامنا انہیں کیوںہے ۔؟“
ہمارا ملک بھی عجیب ملک ہے۔
یہاں جرم تو لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں مگر جرم کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
کرپشن بے حساب اور بے انداز ہوتی ہے مگر کرپشن کرتاکوئی نہیں ہے۔
شاید اسی لئے کسی روز ہم سب یہ بات بھی ماننے پر مجبور ہوجائیں کہ پاکستان میں نہ صرف یہ کہ توہین عدالت کا کوئی قانون نہیں ` یہاں سرے سے کوئی قانون ہے ہی نہیں۔۔۔۔

Scroll To Top