فاٹا کے لیے عمران خان کا الٹی میٹم

zaheer-babar-logo

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر پالیسی واضح کرنے کے لیے حکومت کو دس روز کا الٹی میٹم دے دیا۔قبائلی عمائدین کے وفد نے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر اپنی حکمت عملی فوری واضح کرے، جبکہ این ایف سی میں فاٹا کے 3 فیصد حصے پر موقف بتایا جائے۔ پی ٹی آئی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا حکومت وضاحت کرے کہ پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو فاٹا تک توسیع دینے پر اس کا کیا لائحہ عمل ہے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں قبائلی عوام کو نمائندگی دینے کا کیا طریقہ کار ہے۔“
اس میں کوئی شک نہیںکہ فاٹا میں اصلاحات کے نفاذ میں جس طرح تاخیر کی جارہی وہ ان قبائلیوں سے مسلسل ناانصافی کا برملا ثبوت ہے جو تقسیم ہند سے لے کر اب تک مادر وطن کے لیے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ آج فوری طور پر ضرورت ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کی قبائلی علاقوں تک فوری توسیع کی جائے تاکہ فاٹا کے عوام کے لیے مختص مالی وسائل منتخب مقامی نمائندوں کے ذریعے صرف کیے جاسکیں ۔ یاد رہے کہ فاٹا اور پارلیمنٹیرینز نے 9 اکتوبر کو فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے مطالبات پورے کرنے کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے تھے، جس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ان کی مطالبات کی منظوری کا وعدہ کیا تھا۔ملکی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی اکثریت فاٹا کو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرنے کی حامی سوائے جمعیت علما اسلام ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے قبائلی علاقے کو الگ صوبہ بنانے کی تحریک میں پیش پیش ہیں۔ حال ہی میں یہ خبر آئی کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح فاٹا میں بھی صدر مملکت کی منظوری سے پولیس ایکٹ1861 نافذ کردیا گیا اور عدالتی نظام میں بھی بنیادی تبدیلیاں کرکے اسی عدالتی نظام کے نفاذ کا حکم جاری کیا گیا جو ملک کے دیگر حصوں میں رائج ہے۔ تاہم فاٹا یعنی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے بنیادی اصلاحات کے آغاز کی مذکورہ اطلاع جس طرح سامنے آئی اس نے معاملے کو بظاہر مبہم اور پراسرار بنادیا ۔ بتایا گیا کہ صدر مملکت ممنون حسین نے فاٹا میں اہم اصلاحات کی منظوری دی جس کے بعد وزارت سیفران نے بھی اعلامیہ بھی کردیا ہے۔ خبر کے مطابق نئی اصلاحات کے تحت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخو اوربلوچستان کی طرح فاٹا میں بھی لیویز کے بجائے پولیس نظام نافذ کردیا گیا ۔ فاٹا کے لیویز دفاتر پولیس سے تبدیل کردیے گئے ہیں جس کے بعد فاٹا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا سربراہ لیویز کمانڈنٹ کی بجائے آئی جی پولیس ہوگا جبکہ نائب تحصیلدار سے کم عہدے کے کسی شخص کو سب انسپکٹر تعینات نہیں کیا جاسکے گا۔یہ بھی کہا گیا کہ فاٹا کے عدالتی نظام میں بھی بنیادی اصلاحات کردی گئیں جن کی رو سے فاٹا میں بھی پاکستان کے دیگر علاقوں کے طرز کا نظام انصاف نافذ ہوگا۔ صدر مملکت کے اس اقدام کا سبب دراصل کا پس منظر واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ماہ ستمبر کی بارہ تاریخ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے تحت حکومت نے برطانوی دور کے فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ میں نیا بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ادھر قبائلی علاقے کی صورت حال سے آگاہ حلقوں نے اس اقدام کو سرکار کی جلد بازی سے تعبیر کیا یعنی کہا گیا کہ کہ حکومت اس مسلہ پر پوری طرح غور وفکر کرنے میں کامیاب نہیں رہی۔ مثلا قبائلی علاقے میں میں کوئی پولیس اسٹیشن نہیں لہذا کسی مناسب تیاری کے اتنے بڑے علاقے میں ایک دم اس قسم کا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے۔ ادھر دلچیسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر مملکت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں لیویز فورس کی جگہ پولیس کا نظام متعارف کرانے کے کسی فیصلے کی منظوری دینے سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ایوان صدر کے بقول پولیس ایکٹ کو قبائلی علاقوں تک بڑھانے کی خبریں درست نہیں۔بعدازاں ریاستی و سرحدی امورکے وفاقی وزیر بھی اس معاملے سے بے خبر نکلے ۔فاٹا اصلاحات جیسے اہم معاملے میںایسی صورت حال کا رونما ہونا وفاقی حکومت کے ذمہ داروں بلکہ خود وزیر اعظم کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اصل حقائق کیا ہیں، اس بارے میں ابہام کا بلاتاخیر دورکیا جانا اور فاٹا اصلاحات کے ضمن میں نیم دلانہ، نمائشی ا ور عاجلانہ اقدامات کے بجائے ٹھوس، پائیدار اور موثر اقدامات کا عمل میں لایا جانا قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
ملکی سیکورٹی فورسز کی بے تحاشا قربانیوں کے نتیجے میں فاٹا میں قیام امن کاخواب بڑی حد تک شرمندہ تعبیر ہوچکا ۔ قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے خود اہل فاٹا نے جو قربانیاں دیں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ لاکھوں قبائلیوں نے اپنا گھر بار چھوڈ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عملی تعاون کیا ، اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ وہ قبائلیوں کو پاکستان کے دوسرے علاقوں کے رہنے والوں کی طرح مساوی حقوق سے نوازیں۔فاٹا کو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرنے پر ملک کی بیشتر سیاسی قوتیں متفق ہیں لہذا کسی طور پر مذید تاخیر روا نہیں رکھنی چاہے ،اس ضمن میں پاکستان انصاف کے سربراہ عمران خان کا سامنے آنا یقینا اس مسلہ کو فی الفورحل کرنے کے لیے حکومت پردباو بڑھا سکتا ہے۔

Scroll To Top