معاوضے وصول کرنے والے عام پیادے اور صحافتی جرنیل۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

میرے گزشتہ دوکالم ” جھوٹ کا پیغمبر“ کے بارے میں تھے جس کی قسط وار اشاعت 04نومبر2017ءسے شروع ہورہی ہے۔۔۔

میرے اکثر قارئین میرے ہی قارئین ہیں مگر سوشل میڈیا بے پناہ وسعتوں کا حامل ہے۔۔۔ ان وسعتوں میں نون لیگی قارئین بھی آجاتے ہیں اور پی پی پی کے قارئین بھی۔۔۔ ایک چھوٹا سا طبقہ ایسے اصحاب کا ہے جن کے ذمے گالی گلوچ کا کام ہے۔۔۔ اس گالی گلوچ کا انہیں معقول معاوضہ ملتا ہے جو ظاہر ہے کہ محترمہ مریم نواز خود اپنے ہاتھوں سے ادا نہیں کرتیں اور نہ ہی نون لیگ کا کوئی دوسرا بڑا لیڈر ۔۔۔ ویسے جب سے پانامہ کا قصہ اٹھا ہے اور نوبت اقامہ کے سنسنی خیز انکشاف اور میاں نوازشریف کی طوفان آفرین نا اہلی تک پہنچی ہے۔۔۔ معاوضوں کی ادائیگی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم ہوا ہے۔۔۔ گالی گلوچ برگیڈ والے تو زیاد ہ تر پیادوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ کچھ اہل ِ قلم ` اہل ِ فکر اور اہلِ رائے ایسے بھی ہیں جو باقاعدہ کاروباری اداروں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں روزنامہ دنیا میں صحافتی جرنیلوں کے ذریعے ایک خبر نمایاں طور پر شائع کرائی گئی کہ میاں نوازشریف کو اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران شاہی خاندان سے رابطے قائم کرنے میں بڑی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔۔۔ان کامیابیوں کا دائرہ طیب اردگان تک پھیل چکا ہے۔۔۔ یہ خبر اِن اطلاعات کے پس منظر میں ضروری تھی کہ میاں صاحب کو سعودی عرب میں اپنی شناخت کرانے کے مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔۔۔ آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ معاوضے کی ادائیگی کتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہوگی۔۔۔
بات ” جھوٹ کا پیغمبر“ کی ہورہی تھی اورنون لیگ تک جا پہنچی۔۔۔وجہ اس کی یہ ہے کہ گالی گلوچ برگیڈ کی فائرنگ کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اس کا میں عادی ہوں۔۔۔ البتہ ”جھوٹ کا پیغمبر“ کا تعلق پی پی پی سے ہے۔۔۔ کچھ قارئین نے اس کتاب کے نام پر اعتراض کیا ہے۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک ” پیغمبر“ کی اصطلاح بڑی مقدس ہے ۔۔۔ پیغمبر دراصل پیغام بر کو کہتے ہیں۔۔۔ یعنی پیغام لانے والا ۔۔۔ پیغام جھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور سچا بھی ۔۔۔۔ پیغمبر کو ” رسول “ یا ” نبی “ کی معنوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ حضرت ابوبکر ؓ کو اپنی خلافت کا آغاز ہی ” جھوٹ کے پیغمبروں“ کے خلاف جہاد سے کرنا پڑا تھا۔۔۔
یہ درست ہے کہ یہ ٹائٹل بڑا ” سخت “ تھا۔۔۔ آج میں تاریخ کے ایک قاری کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہوں کہ میرا سارے کا سارا غصہ درست نہیں تھا۔۔۔ بھٹو ایک بڑا آدمی تھا جس کی برائیاں بھی بڑی تھیں۔۔۔ اور جس کے کارنامے بھی بڑے تھے۔۔۔ صرف دو کارنامے ایسے تھے جو انہیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے ۔۔۔ ایٹمی پروگرام کا آغاز۔۔۔ اور مسلم ممالک کے اتحاد کو ایک تحریک کا درجہ دینا۔۔۔

Scroll To Top