خارجہ محاذ پر ایک اور ناکامی

zaheer-babar-logoوطن عزیز کی خارجہ پالیسی میں فوری اور ٹھوس تبدیلیوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ اس سوال کی اہمیت میں اضافہ ہوچکا کہ خارجہ امور میں ہم ایسے راستے کے مسافر کیونکر ہیں جس میں کامیابیوں کا تناسب ناکامیوں سے کہیں کم ہے۔ خارجہ محاز پر مشکلات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سوائے چین کے بشیتر پڑوسی ممالک کے ہمارے تعلقات مسلسل انحاط کا شکار ہیں ۔ تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ بھارت نے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو متبادل تجارتی راستے کے طور پر استمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ایران کی عسکری اہمیت کی حامل بندر گاہ چاہ بہار کے راستے افغانستان کو تحفے کے طور پر گندم کی پہلی کھیپ بھی روانہ کر دی گی۔ دراصل بھارت نے پاکستان کے بجائے ایک متبادل تجارتی روٹ کا آغاز کر دیا ۔بحری جہاز کے ذریعے افغانستان کو تحفتا بھیجی جانے والی گندم کی یہ کھیپ ملک کی مغربی بندرگاہ کانڈلا سے روانہ کی گئی۔ مذکورہ گندم کو ایرانی بندر گاہ چاہ بہار سے ٹرکوں پر لاد کر افغانستان بھیجا گیا۔ یاد رہے کہ کابل اور نئی دہلی نے گزشتہ برس جون میں ایک فضائی تجارتی راہداری کا افتتاح بھی کیا تھا۔ معاشی ماہرین کے خیال میں اس تجارتی راہداری کا بنیادی مقصد بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے پاکستان پر اکتفا کو کم کرنا اور افغان اجناس کی انڈین مارکیٹ تک زیادہ سے زیادہ رسائی کو ممکن بنانا مقصود تھا۔یہ پیش رفت اس لیے بھی ا ہمیت کی حامل ہے کہ افغانستان کے لیے نئی امریکی حکمت عملی کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھارت سے افغانستان کی ترقی میں معاونت بڑھانے کا کہہ چکے۔ بھارت کے بعقول چونکہ پاکستان اسے تجارتی مال افغانستان پہنچانے کے لیے ملکی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دیتا لہذا اس کے پاس چاہ بہار کی بندرگاہ استمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کارنہیں ۔ دوسری جانب افغان حکام کے مطابق وہ طویل عرصہ سے تجارت کے لیے پاکستان کی کراچی بندرگاہ پر انحصار کرتاچلا آیا ہے تاہم حالیہ سالوں میں دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات میں کشیدگی اور سرحد پار دہشت گردی کے الزامات نے متعدد بار سرحدی بندش کا سبب بنے جس نے بظاہر کابل کو تجارت کے لیے متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے دعوی کیا ہے کہ افغانستان، بھارت اور ایران کے ایک مشترک تجارتی راستہ قائم ہونے سے اب تمام خطے میں بغیر کسی رکاوٹ کے تجارت ممکن ہو سکے گی۔“
مذکورہ صورت حال کسی طور پرپاکستان کے لیے نیک شگون نہیں۔ سی پیک کی شکل میں پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر تجارت کا ایک موقعہ ضرور ملا ہے مگر بہتر یہی تھا کہ دیگر آپنشنر کو بھی کسی طور پر نظر انداز نہ کیا جائے۔ پاک بھارت تعلقات میںکشیدگی سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر ایران اور افغانستان کا بھارت کے قریب جانا باعث تشویش ہونا چاہے۔ حیرت انگیز طور پر علاقائی سطح پر اس بڑی پیش رفت پر پاکستان میں بحث مباحثہ کا عمل شروع نہیں ہوسکا۔ حکومت اور اپوزیشن تو ایک طرف اس معاملے کو ملکی میڈیا نے بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے کم وبیش ساڈھے چار سال دور حکومت میں خارجہ پالیسی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ وزرات عظمی کا منصب میاں نوازشریف کے پاس رہا مگر وہ ہرگز اس کا حق ادا نہ کرسکے۔ اس پر ایک سے زائد آراءموجود ہیں کہ آخر وہ کون سے وجوہات تھیں جو سابق وزیراعظم کو خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے میں رکاوٹ پیدا کرتی رہیں۔ ایک تبصرہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت سمجھتی ہے کہ خارجہ محاذ پر انھیں فیصلہ کن اختیارحاصل نہیں لہذا وہ اس محاذ پر تمام تر ناکامیوں کے زمہ دار نہیں۔
پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر جن مسائل سے دوچار وہ بجا طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ ریاست کے سب ہی ادارے پورے اخلاص اور تعاون کا مظاہرہ کریں، دور اور نزدیک کے کسی بدخواہ کو یہ موقعہ نہیں دینا چاہے کہ وہ ملک وملت کو نقصان پہنچانے کے مذموم ارادے پر عمل درآمد کی جرات کرے۔ پوچھا جانا چاہے کہ آخر کیونکر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے دشمن کا کام آسان کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ خارجہ امورکے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو متحرک خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہوگا ۔ دشمنوں کی بجائے دوستوں کی تعداد بڑھا کر ہی ملکی مسائل ومشکلات پرقابو پایا جاسکتا ہے۔ وزرات خارجہ کو اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی خارجہ پالیسی تواتر کے ساتھ آگے بڑھ رہی۔ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے زریعہ پاکستان کے تینوں ہمسایہ ممالک کا قریب آنے کو خارجہ پالیسی کی ایک اور ناکامی کے طور پر دیکھنا چاہے۔ یاد رہے کہ بھارت ، افغانستان اور ایران نے گزشتہ برس ایک مشترکہ تجارتی کوریڈور قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وسطی ایشیا کے ان ممالک کے درمیان کسی بھی رکاوٹ کے بغیر تجارت کی جا سکے جن کی سرحدیں خشکی پر نہیں ملتیں۔یقینا پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدوں پر کشیدگی کم کرنے کے لیے بدستور کوشش جاری ہے مگر باجوہ اس ضمن میںکامیابی نہیں مل رہی۔ پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث تجارت میں رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس سال کے آغاز میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے جس کے نتیجے میں چمن کے مقام پر پاک افغان سرحدی راستہ کئی روز بند رہا۔

Scroll To Top