داستان ایک کتاب کی

 

aaj-ki-bat-logo

” جھوٹ کا پیغمبر“ کے حوالے سے کچھ وضاحتیں ضروری ہیں۔۔۔ یہ کتاب میرا ردّعمل تھا امیدوں کے اُن چراغوں کے بجھنے کا جو میں نے 1965ءکی جنگ کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی عقیدتوں کا محور اورمرکز بنا کر جلائے تھے۔۔۔ ردّعمل بے حد شدید تھا۔۔۔ لیکن 1988ءمیں جب میں نے He Was Not Hangedلکھی تو میرے شدید ردّعمل میں ٹھہراﺅ آچکا تھا۔۔۔ توازن پیدا ہوچکا تھا۔۔۔ میں اپنے آپ کو بتا چکا تھا کہ بڑے آدمیوں کی کمزوریاں بھی بہت بڑی ہوا کرتی ہیں۔۔۔ بھٹو مرحوم میں کچھ کمزوریاں ایسی تھیں جن کا دفاع کیا ہی نہیں جاسکتا۔۔۔ مگر ان کمزوریوں کی وجہ سے تاریخ میں اُن کا قد چھوٹا نہیں ہوا۔۔۔ وہ ایک قد آور شخصیت تھے اور ایک پوری نسل ان کے سحر میں گرفتار ہوئی۔۔۔ اُن میں میں بھی شامل تھا۔۔۔ مگر میں اندھی اور بہری عقیدتوں کا قائل نہیں۔۔۔ جب میرے خواب ٹوٹے تو میں نے اپنے آپ کو بھٹو کے خلاف اصغر خان کے کیمپ میں کھڑا پایا۔۔۔
1989ءمیں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہو ں نے میرے خیر خواہوں سے میری تعریفیں سن کر مجھے پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار روزنامہ مساوات کا چارج دینے کا فیصلہ کیا۔۔۔ میں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تو برادرم سرور سکھیرا مساوات کے روح رواں بن گئے۔۔۔ میرے انکار کی دو بڑی وجوہات تھیں ان میں ایک وجہ ” جھوٹ کا پیغمبر“ تھی۔۔۔ میں جانتا تھا کہ جیالے مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے۔۔۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ میں اپنی سوچ کو کسی کی ہدایات کے تابع نہیں بنا سکتا۔۔۔ میں نے ہمیشہ اپنے اندر سے بلند ہونے والی آواز کو لبیک کہا ہے۔۔۔میرے اندر سے بلند ہونے والی آواز نے ہی مجھ سے کہا تھا۔۔۔ ” میاں نوازشریف اِس ملک کو اپنی تاجرانہ سو چ اور اپنے کاروباری خوابوں کی شکارگاہ بنانے کے لئے نکلا ہے۔۔۔ اسے اگر کوئی طاقت روک سکتی ہے تو وہ بھٹو کانام ہے۔۔۔“
بہرحال یہاں یہ میرا موضوع نہیں۔۔۔ میرا موضوع ” جھوٹ کا پیغمبر“ ہے۔۔۔ 1990ءمیں ایک بار پھر واجد شمس الحسن میرے پاس محترمہ بے نظیر بھٹو کا پیغام لے کر آئے۔۔۔
” وہ چاہتی ہیں کہ آپ روزنامہ مساوات کا انتظام سنبھال لیں۔۔۔ اگر آپ ” جھوٹ کا پیغمبر“ کی وجہ سے ایسا نہیں کرناچاہتے تو انہو ںنے کہا ہے کہ وہ آپ کو معاف کرچکی ہیں۔۔۔“
اس بات پر مجھے غصہ آگیا۔۔۔
” واجد صاحب میں نے معافی مانگی کب ہے۔۔۔ ؟جب میں نے وہ کتاب لکھی تھی تو میرے قلم سے ایک ایک لفظ میرے احساسات کا سچا ترجمان بن کر نکلا تھا۔۔۔“
” آپ عجیب و غریب آدمی ہیں۔۔۔ ایک نہایت اچھا موقع آگے بڑھنے کا ضائع کررہے ہیں۔۔۔“ واجد صاحب نے جواباً کہا تھا۔۔۔
” آگے بڑھنا اگر میرا نصب العین ہوتا تو وہ کتاب مجھے جنرل ضیاءالحق کی آنکھوں کا تارا بنانے کے لئے کافی تھی۔۔۔ “ میں نے کہا تھا۔۔۔
اس بات کو چھبیس برس گزر چکے ہیں۔۔۔
میں ” جھوٹ کا پیغمبر“ قسط وار اِس لئے شائع کررہا ہوں کہ آپ میری اُس وقت کی سوچ کا میری آج کی سوچ سے صحیح موازنہ کرسکیں۔۔۔

Scroll To Top