میری عدم موجودگی میں آپ پڑھیں گے جھوٹ کا پیغمبر

aaj-ki-bat-logo

چند روز میں میں بفضلِ رَبی عمرہ کرنے جا رہا ہوں یہ عجیب بات ہے کہ ساٹھ برس کی عمر تک میں نے حجاز مقدس کی سرزمین پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔پھر مارچ 1999ءمیں حج کیا۔ وہ دس روز میرے لئے یادگار رہیں گے۔ میرے ساتھ میری اہلیہ کے علاوہ بیٹی بھی تھی۔ میرے برادرنسبتی تنویر احمد اور ان کی بیگم، اور میرے ماموں زاد بھائی اقبال نعیم اور ان کی بیگم بھی ہمارے ساتھ تھے۔ میں وہ لمحات کبھی نہیں بھول سکوں گا جب میری نظروں نے پہلی بار خانہ کعبہ کی زیارت کی تھی۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے میں فردوسِ بریں پر پہنچ گیا ہوں۔ یہ میرا صرف احساس تھا اور میں اس احساس میں ایسا ڈوبا کہ پھر بار بار دیدارِ حرم کی خواہش مجھے حجازّ ِمقدس لے جاتی رہی۔

پہلا عمرہ میں نے 2002ءمیں، دوسرا 2004ءمیں تیسرا 2005ئ میں چوتھا2007ءمیں اور پانچواں2012ءمیں کیا ۔ ہر عمرے میں میری اہلیہ میرے ساتھ رہیں۔2012ءمیں میری بیٹی اور آفتاب اکبر کا کنبہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔ اس مرتبہ بھی ہمارے ساتھ یہ دونوں ہوں گے۔ یعنی میری بیٹی اسمیٰ اور بیٹا آفتاب۔ ۔ ہم چاروں نے یہ ارادہ 2012ءمیں ہی کر لیا تھا لیکن موقع اب ملا ہے۔ یا پھر یہ کہوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اب ملی ہے۔
یہاں دل کی ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں وہاں ثواب کے لئے نہیں جاتا۔ میں وہاں اس لئے جاتا ہوں کہ وہاں کی فضاو¿ں میں جا کر مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا خمیر یہیں سے اٹھا ہے۔
مجھے وہاں کی مٹی سے ان عظیم ہستیوں کی خوشبو آتی ہے جنہوں نے تین دہائیوں کے اندر اندر دنیا کی تاریخ تبدیل کر ڈالی تھی۔ صرف تاریخ نہیں جغرافیہ بھی تبدیل ہوا تھا۔ اور پھر اُن ہی فضاو¿ںمیں فخرِ کائنات، رحمت الاالعالمین اور ہمارے آقا نے جنم لیا تھا پرورش پائی تھی اور اس سفر کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک آج کرئہ ارض پر ”اللہ اکبر اللہ اکبر“ کی صدائیں گونجتی ہیں۔
ماضی میں اپنا کالم میں ہمیشہ باقاعدگی کے ساتھ وہاں سے بھیجتا تھا۔ اِ س مرتبہ میں زیادہ سکون کے ساتھ وہاں کی فضاو¿ں کا لطف اٹھانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بہت سارے قارئین کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کروں۔
میں نے 1977ءکے اوائل میں ایک دھماکہ خیز کتاب” جھوٹ کا پیغمبر“لکھی تھی جس میں میں نے اپنے پرانے ہیرو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف شدید غم وغصہ کا اظہار اس قدر کھل کر کیا تھا کہ چند ہی ماہ میں اس کتاب کے متعدد ایڈیشن بک گئے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو گرفتار ہوئے تو میرے اندر میری پرانی عقیدتوں نے پھر سر اُبھارا۔ اور میں نے وہ کتاب ”دفن “ کر دی۔
اس کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے لیکن میں نے اکتوبر1977ءکے بعد وہ کتاب کبھی شائع ہونے نہیں دی۔
میرے بہت سارے قارئین کا تقاضہ رہا کہ اسے دوبارہ شائع کروں۔ مجید نظامی مرحوم اِسے روزنامہ نوائے وقت میں قسط وار شائع کرنا چاہتے تھے لیکن میں آمادہ نہ ہوا۔
اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے قسط وار شائع کیا جائے تا کہ میرے قارئین جان سکیں کہ جب خوابوں ، امیدوں اور خواہشات کا قتل ہوتا ہے تو زخمی روح کی چیخیں کس قدر دل دوز ہوتی ہیں۔
”جھوٹ کا پیغمبر“ میں میرا پہلا جملہ ہی یہ تھا کہ ” میں ایک مجرم ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے1970ءمیں بھٹو کو ووٹ دیا تھا۔“
آپ کتاب پڑھیں گے تو جان سکیں گے کہ سوچ اپنا ارتقائی سفر کیسے دشوار گذار راستوں پر کرتی ہے۔

Scroll To Top